سہیل آفریدی کا رہائی فورس کے قیام کا اعلان ٹھس کیسے ہوا؟

پارٹی چئیرمین بیرسٹر گوہر کے بعد اب پی ٹی آئی پنجاب کی قیادت نے بھی عمران خان رہائی فورس کے قیام کی مخالفت کا اعلان کر دیا ہے جس کے بعد وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی اعلان کردہ رہائی فورس کا قیام کھٹائی میں پڑتا نظر آتا ہے، مبصرین کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے عمران خان رہائی فورس کے قیام کے اعلان کے بعد پی ٹی آئی میں داخلی انتشار، گروپنگ اور باہمی اختلافات میں شدت آتی دکھائی دے رہی ہے۔ پارٹی چئیرمین بیرسٹر گوہر خان کی جانب سے مسلح فورس یا ملیشیا کی تشکیل کے فیصلے کو غیر آئینی اور غیر قانونی قراردینے کے بعد اب پی ٹی آئی پنجاب کی قیادت نے بھی رہائی فورس کے قیام کی ڈٹ کر مخالفت کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ جس سے پی ٹی آئی کی احتجاجی سیاست اور حکمت عملی کے حوالے سے تقسیم کھل کر سامنے آ گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق تحریک انصاف پنجاب کے رہنماؤں کا وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے رہائی فورس کے قیام کے اعلان پر کھل کر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں حکومت ہونے کی وجہ سے پارٹی کارکنان کیلئے مشکلات کم ہیں، لیکن پنجاب کے کارکن پہلے ہی دباؤ اور گرفتاریوں کے باعث مشکل حالات کا سامنا کر رہے ہیں ایسے میں ڈائیلاگ کے بجائے رہائی فورس کا قیام پنجاب کے کارکنوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کرے گا۔ پی ٹی آئی پنجاب کے ذرائع کے مطابق پنجاب میں گرفتاریوں اور پکڑ دھکڑ کی وجہ سے کارکن پہلے ہی خاموش ووٹرز کی شکل اختیار کر چکے ہیں جبکہ رہائی فورس کے قیام سے اگر احتجاجی تحریک میں 9 مئی کی طرح تشدد کا عنصر شامل ہو گیا تو اس کا ذمہ دار کون ہو گا؟ ان کا مزید کہنا ہے کہ بات چیت اور ڈائیلاگ کا جمہوری راستہ ترک کر کے رہائی فورس کے قیام کے اعلانات اسیران اور روپوش رہنماؤں کی قربانیاں ضائع کرنے کے مترادف ہیں۔ پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق بغیر مشاورت رہائی فورس کے قیام کے اعلان نے پارٹی کے اندرونی اختلافات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
خیال رہے کہ عمران خان رہائی فورس کی تشکیل بارے اختلافات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی دن رات رہائی فورس کی تشکیل کے حوالے سے میٹنگز کرتے دکھائی دے رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ عمران خان رہائی فورس لاکھوں افراد پر مشتمل ہوگی جس میں تمام ونگز شامل ہونگے، ہم نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے جا رہے ہیں اور ہم چاہتے ہیں جب عمران خان کی کال آئے تو تمام نوجوان تیار ہوں۔ تاہم پارٹی چئیرمین بیرسٹر گوہر خان نے ان کی منطق کو ماننے سے صاف انکار کرتے ہوئے ایسے کسی بھی فیصلے کی سخت مخالفت کا اعلان کر دیا ہے، بیرسٹر گوہر کا ماننا ہے کہ پی ٹی آئی کسی مسلح کارروائی یا ملیشیا رکھنے کی بجائے صرف سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے، مسلح کارروائی یا ملیشیا رکھنے پر نہیں۔بیرسٹر گوہر کے بقول اس نوعیت کا اقدام پارٹی کو نہ صرف قانونی پیچیدگیوں بلکہ محاذ آرائی اور ممکنہ عسکریت پسندی کے الزامات کی زد میں بھی لا سکتا ہے۔ اس لئے وہ عمران خان رہائی فورس کے قیام کی ہر سطح پر ڈٹ کر مخالفت کرینگے۔ مبصرین کے مطابق اب پی ٹی آئی کی پنجاب کی قیادت نے بھی رہائی فورس کے خلاف پارٹی چئیرمین کی آواز میں آواز ملا دی ہے جس کے بعد عمران خان رہائی فورس کا قیام کھٹائی میں پڑتا دکھائی دیتا ہے۔
رہائی فورس کے قیام کے اعلان پر پی ٹی آئی میں پھوٹ پڑ گئی
مبصرین کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی کی جانب سے عمران خان کی رہائی کے لیے مجوزہ "رہائی فورس” کی تشکیل کے اعلان نے پاکستان تحریک انصاف کے اندر اختلافِ رائے اور دھڑے بندی کو بے نقاب کر دیا ہے۔ پارٹی کے بعض رہنما اس فیصلے کو پارٹی کی سٹریٹ موومنٹ کو منظم کرنے کا مؤثر ذریعہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر حلقے اس اعلان کو ٹرک کی نئی بتی سے تعبیر کرتے ہوئے بے وقت کی راگنی اور پارٹی کارکنوں کو خود ہی گرفتار کرانے کا نیا جال قرار دے رہے ہیں، مبصرین کےبقول رہائی فورس کے قیام کا اعلان نہ صرف تحریک انصاف کی آئندہ حکمتِ عملی بلکہ اس کی داخلی ہم آہنگی کے لیے بھی ایک اہم امتحان بن چکی ہے۔ مبصرین کے بقول تحریک انصاف کے اپنے ہی کارکنوں اور مقامی عہدے داروں کی ایک بڑی تعداد نے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی اعلان کردہ ’’عمران خان رہائی فورس‘‘ کو مسترد کردیا ہے۔
ناقدین کے مطابق مسلسل احتجاجی حکمت عملی کی ناکامی کے بعد خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی، آئی ایس ایف اور یوتھ ونگ مختلف دھڑوں میں تقسیم ہوچکی ہیں۔ ایک دھڑا علی امین گنڈاپور کے حامیوں کا ہے، دوسرا دھڑا سہیل آفریدی کے سپورٹرز پر مشتمل ہے اورتیسرا گروپ وہ ہے جو ان دونوں کو ناکام احتجاج کا ذمہ دار سمجھتا ہے۔ تینوں کے مابین آن لائن اور آف لائن گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے۔ تاہم وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے اس حوالے سے بڑھتے دباؤ کو کنٹرول کرنے کیلئے عمران خان کی رہائی کے نام پر نئی ٹاسک فورس تشکیل دینے کا اعلان کر دیا ہے تاہم یہ فیصلہ بھی سہیل آفریدی کے گلے پڑتا دکھائی دیتا ہے کیونکہ اس اقدام بارے پی ٹی آئی میں شدید اختلافات سامنے آ گئے ہیں۔
