فائر وال کی اچانک بندش کے فیصلے پر حکومت خاموش کیوں؟

پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا بریگیڈ کو کنٹرول کرنے کیلئے 40 ارب روپے کی لاگت سے نصب کیے گئے فائر وال کا تنازع ابھی ختم بھی نہیں ہوا تھا کہ اب اس منصوبے کی اچانک بندش کی بازگشت سنائی دینے لگی ہے۔ مختلف حلقے دعویٰ کر رہے ہیں کہ فائر وال سسٹم یا تو مکمل طور پر غیر فعال کر دیا گیا ہے یا اس کی فعالیت محدود کر دی گئی ہے، تاہم اس صورتحال کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جس طرح اس فائر وال کی تنصیب کے وقت تفصیلات خفیہ اور مبہم رکھی گئیں، اسی طرح اب اس کی ممکنہ بندش کے حوالے سے بھی حکومت کھل کر وضاحت دینے سے گریزاں دکھائی دیتی ہے۔ اس غیر یقینی صورتحال نے نہ صرف سیاسی حلقوں بلکہ سوشل میڈیا صارفین اور آئی ٹی شعبے سے وابستہ افراد کو بھی شدید الجھن میں مبتلا کر دیا ہے، جو اب یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اربوں روپے کے اس منصوبے کی اصل حقیقت کیا ہے اور اس کا مستقبل کیا ہوگا؟
ناقدین کے مطابق 2024 میں حکومت کی جانب سے فائر وال کی تنصیب کے ذریعے ڈیجیٹل سپیس میں سیاسی مخالفین کے اثر کو محدود کرنے کے لیے نگرانی کا سخت نظام متعارف کرایا گیا تھا۔ تاکہ عمران خان کے سوشل میڈیا بیانیے اور آن لائن سرگرمیوں کو کاؤنٹر کیا جا سکے تاہم فائر وال کی تنصیب کے بعد تکنیکی مسائل سامنے آئے اور مبینہ طور پر حساس ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق خدشات پیدا ہوئے اور انٹرنیٹ کی نگرانی پر مامور ایجنسیوں کا اپنا ڈیٹا ہی لیک ہونا شروع ہو گیا۔ سرکاری اور سیکیورٹی اداروں کے ڈیٹا کے تحفظ پر سوالات اٹھنے کے بعد فوری طور پر وفاقی حکومت نے فائیو جی سپیکٹرم لائسنس نیلامی کو کامیاب بنانے کے نام پر فائروال کو عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کر دیا، ناقدین کے مطابق حکومت کی جانب سے اچانک فائر وال کی بندش سے قومی خزانے کو 40 ارب روپے سے زائد کاخطیر نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے غیر قانونی مواد کی نگرانی اور سائبر سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کا نام پر فائر وال کی تنصیب 2024 میں عمل میں لائی گئی تھی، سوشل میڈیا مانیٹرنگ سسٹم کو ڈیجیٹل ریگولیشن اور سیکیورٹی کے اقدام کے طور پر پیش کیا تھا، تاہم حالیہ رپورٹس کے مطابق فائر وال منصوبہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ سائبر سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ فائر وال موجودہ ٹیلی کام انفراسٹرکچر کے ساتھ مؤثر انداز میں ہم آہنگ نہیں ہو سکا، جس کے باعث نیٹ ورک کی کارکردگی متاثر ہوئی جبکہ انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی، بار بار تعطل اور ڈیٹا روٹنگ کے مسائل نے عام صارفین کے ساتھ ساتھ آئی ٹی کمپنیوں اور فری لانسرز کو بھی متاثر کیا۔ بعض دیگر ماہرین کے مطابق 5G سپیکٹرم کی نیلامی، جدید ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی تیاری اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال رکھنے کے لیے حکومت کو سخت ڈیجیٹل کنٹرول پالیسیوں پر نظرثانی کرنا پڑی۔ اسی تناظر میں بعض حلقے فائر وال کی ممکنہ بندش کو پالیسی میں تبدیلی اور معاشی ترجیحات کی ازسرِنو ترتیب سے جوڑتے دکھائی دیتے ہیں۔
بعض دیگر ماہرین کے مطابق فائر وال ایک مربوط اور کثیر سطح کا ایک سکیورٹی نظام ہے جسے مرحلہ وار نافذ کیا گیا تھا، اس لئے اسے کسی ایک حکم یا بٹن کے ذریعے فوری طور پر ختم کرنا ممکن نہیں۔ حکام کے مطابق اگر مستقبل میں اس حوالے سے کوئی پالیسی فیصلہ کیا جاتا ہے تو اس پر عملدرآمد بھی مرحلہ وار اور تکنیکی طریقہ کار کے تحت ہی ہوگا۔ اس لئے یہ کہنا کہ فوری فائر وال کو ہٹا دیا گیا ہے تکنیکی طور پر بھی ممکن نہیں۔ دوسری جانب وزارت آئی ٹی اور پی ٹی اے کے حکام بھی آف دی ریکارڈ فائر وال کی بندش کی نفی کررہے ہیں جبکہ ٹیلی کام آپریٹرز اور آئی ٹی ماہرین بھی فائر وال کے بدستور فعال رہنے کی تصدیق کررہے ہیں۔ ٹیلی کام کمپنی ذرائع اس تاثر کو مسترد کرتے نظر آتے ہیں کہ فائر وال سسٹم کو مکمل طور پر بند کیا گیا ہے، ان کے مطابق فائر وال سسٹم میں کچھ تکنیکی اور انتظامی تبدیلیاں کی گئی ہیں تاہم فائر وال ویب مینجمنٹ نظام کی صورت میں اب بھی فعال ہے۔
علیمہ خان ہی عمران خان کی رہائی میں بڑی رکاوٹ کیوں بن گئیں؟
تاہم حکومتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ٹیلی کام کمپنیوں نے وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن اور پی ٹی اے سے مطالبہ کیا تھا کہ فائیو جی سپیکٹرم کے مطابق انٹرنیٹ سپیڈ اور موبائل سروس کو مطلوبہ معیار پر فراہم کرنے کے لیے فائر وال بند کردی جائے کیونکہ فائر وال سے جہاں انٹرنیٹ کی رفتار متاثر ہو رہی ہے وہیں مطلوبہ معیار کی سروس فراہمی ممکن نہیں ہو پارہی،ذرائع کے مطابق ملک میں نصب فائر وال، ٹیلی کام انفراسٹرکچر سے ہم آہنگ نہیں فائر وال سروس برقرار رکھنے سے ملک میں فائیو جی کی فراہمی ممکن نہیں ۔فائر وال کی وجہ سے نہ صرف انٹرنیٹ کی رفتار سست ہے بلکہ ہزاروں کمپنیوں کی ڈیجیٹل سروسز بھی متاثر ہو رہی ہیں ذرائع کے مطابق ٹیلی کام کمپنیوں کے مطالبے پر وفاقی حکومت نے ملک میں فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی اور سروس کامیاب کرانے کے لیے فائر وال بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم آئی ٹی کے ماہرین کے مطابق فائر وال بنیادی طور پر ایک گیٹ وے کیپر کے طور پر کام کرتی ہے جو ملکی نیٹ ورک میں داخل اور خارج ہونے والے ڈیٹا کی نگرانی اور فلٹرنگ کرتی ہے ۔ اس کا مقصد مشکوک یا نقصان دہ ٹریفک کو روکنا، سائبر حملوں سے تحفظ فراہم کرنا اور حساس معلومات کی سلامتی یقینی بنانا ہے ۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ایسے حفاظتی نظام کو بغیر متبادل انتظامات کے ہٹانا سائبر سکیورٹی کیلئے خطرات کو بڑھا سکتا ہے ۔بعض ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر کسی مرحلے پر فائر وال کے نظام میں تبدیلی کی جاتی ہے تو اس کے ممکنہ اثرات انٹرنیٹ کی کارکردگی پر مرتب ہو سکتے ہیں، تاہم یہ ایک پالیسی اور تکنیکی نوعیت کا فیصلہ ہوگا جس کا فوری اطلاق ممکن نہیں۔
