’ںادرا‘ریٹائرڈ فوجی افسران کا گڑھ کیوں بن گیا؟

پاکستانیوں کو قومی شناخت دینے والا سرکاری ادارہ نادرا اس وقت ریٹائرڈ فوجی افسران کا گڑھ بن کر رہ گیا ہے، کیونکہ سرکاری ادارے کے 1109 ملازمین کا تعلق مسلح افواج سے ہے۔ نادرا میں 9 ڈی جی ، 20 ڈائریکٹر ، 15 ڈپٹی ڈائریکٹرز، 4 اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور 1 اسسٹنٹ ڈپٹی ڈائریکٹر کا تعلق مسلح افواج سے ہے، یہ انکشاف سینٹ میں حکومت کی جانب سے پیش کردہ ریکارڈ سے ہوا ہے۔ جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان نے نادرا میں ریٹائرڈ فوجیوں کی بڑے پیمانے پر بھرتیوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اہم عہدوں پر پی ایچ ڈی کرنے کے باوجود بیروزگاری کا شکار نوجوانوں کو کیوں بھرتی نہیں کیا جاتا؟
وزارت داخلہ نے سینیٹ کو جمع کرائے گئے تحریری جواب میں بتایا کہ نادرا کا کل عملہ 19 ہزار 161 ملازمین پر مشتمل ہے جبکہ نادرا میں 1109 ملازمین کا تعلق مسلح افواج سے ہے جن کا تناسب 5.78 فیصد ہے۔ وزارت داخلہ کے مطابق نادرا میں افسر لیفٹینیٹ کرنل ریٹائرڈ محمد طلحہ سعید کو ضم کیا گیا تھا جبکہ باقی مسلح افواج سے ملازمین کنٹریکٹ پر نادرا میں بھرتی کیے گیے تھے۔
وزارت داخلہ کے تحریری جواب کے مطابق نادرا میں 49 افسران اور 1060 اسٹاف کا تعلق مسلح افواج سے ہے، نادرا میں 9 ڈی جی ، 20 ڈائریکٹر، 15 ڈپٹی ڈائریکٹرز کا تعلق مسلح افواج سے ہے جبکہ 4 اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور 1 اسسٹنٹ ڈپٹی ڈائریکٹر کا تعلق مسلح افواج سے ہے۔ وزارت داخلہ کے مطابق نادرا میں 192 آفیشلز کا تعلق مسلح افواج سے ہے جبکہ 247 ڈرائیورز اور 621 سیکیورٹی گارڈز کا تعلق بھی مسلح افواج سے ہے، صرف 4 فیصد ریٹائرڈ فوجی افسران مینیجیریل عہدوں پر ہیں، باقی 96 فیصد نچلے عہدوں پر تعینات ہیں۔
جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے وزارت داخلہ کی جانب سے فراہم کردہ ریکارڈ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کہ نادرا میں 49 اسٹریٹجک عہدوں پر ریٹائرڈ افسران تعینات ہیں، اور یہ قومی ادارہ ریٹارڈ فوجی افسران کا گڑھ بن گیا ہے، ان عہدوں پر پی ایچ ڈی نوجوانوں کو کیوں بھرتی نہیں کیا جاتا ہے، انہوں نے کہا کہ جب آپ ریٹائرڈ فوجیوں کو دوسرے اداروں میں بھرتی کرتے ہیں تو وہ افسران اپنی پینشن بھی لیتے ہیں اور دوسری تنخواہ بھی وصول کرتے ہیں جو کہ ظلم اور زیادتی ہے۔ اس موقع پر وزیر مملکت برائے قانون و انصاف شہادت اعوان نے سینیٹ کو یہ تجویز دی کہ حکومت کو کسی بھی قومی ادارے میں کسی بھی ریٹائرڈ افسر کو دوبارہ بھرتی کرنے پر پابندی عائد کر دینی چاہیئے تاکہ دیگر لوگوں کی حق تلفی کا سلسلہ بند ہوسکے۔
