2ہزار شامی فوجی عراق کی جانب فرار ہو گئے

باغیوں کے داخل ہونے پر2 ہزار سےزائد شامی فوجی محاذِ جنگ چھوڑ عراق کی سرحد عبور کرکے فرار ہوگئے۔

عرب میڈیا نےدعویٰ کیا ہے کہ شامی فوج کےافسران اور اہلکاروں کو عراقی حکومت نےالقائم بارڈر کراسنگ کےذریعے ملک میں داخل ہونے کی اجازت دی۔

شامی فوجیوں کا عراق میں داخلہ سیریئن ڈیموکریٹک فورسز کےساتھ معاہدےاور عراقی وزیر اعظم شیاع سوڈانی اورمسلح افواج کےکمانڈر انچیف کی حکومت کی منظوری سے ہوا۔

عراق پہنچنے والےشامی فوجیوں میں اکثر زخمی ہیں جنہیں علاج کیلئےالقائم اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

العربیہ نیوز کے مطابق شام سےایران نواز ملیشیاکےجنگجوؤں سمیت دیگر ممالک کے جنگجو بھی ملک چھوڑ کر اپنےاپنےملک روانہ ہوگئے۔

شام کےدارالحکومت میں سڑکوں پرحیات التحریرالشام کےجنگجوؤں نے نظم و نسق سنبھال لیا ہے۔سرکاری ٹی وی اورریڈیوبھی ان کےقبضے میں ہیں۔

شام میں مسلح گروہوں نے دمشق میں واقع ایران کےسفارت خانے پر دھاوا بول دیا اور لوٹ مار کی۔

شامی دارالحکومت میں واقع ایرانی سفارت خانے کی عمارت اور املاک کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔

Back to top button