انڈیا پاکستان کی نیوکلیئر جنگ میں 25 کروڑ لوگ مرنے کا امکان

معروف لکھاری اور تجزیہ کار وسعت اللہ خان نے کہا ہے کہ اگر انڈیا اور پاکستان کی چپقلش میں نیوکلیئر پستول سے ایک بھی گولی فائر ہو گئی تو نہ صرف ان دونوں ممالک کے بیس سے پچیس کروڑ عوام مر جائیں گے بلکہ پوری دنیا کا ماحولیاتی نظام بھی گڑبڑا جائے گا۔ اس صورتحال میں سینکڑوں ممالک کی معیشتیں تباہ اور اربوں لوگ تتر بتر ہو سکتے، چنانچہ اپنے اپنے تحفظ کے لیے کوئی بھی سیانا ملک دو جوہری پاگلوں کو اپنے حال پر نہیں چھوڑنا چاہے گا۔
بی بی سی اردو کے لیے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں وسعت اللہ خان کہتے ہیں بچپن میں ہم اکثر دیکھتے تھے کہ چلتے بازار میں دو لوگوں کے درمیان کسی رنجش پر تو تو، میں میں شروع ہو جاتی۔ پہلے تو راہ گیر انھیں لڑتا دیکھ کر آگے بڑھ جاتے۔ لیکن جب تو تو، میں میں گالم گلوچ میں بدلنے لگتی تو اکادکا لوگ رکنے لگتے۔ اسکے بعد آس پاس کا کوئی نہ کوئی بزرگ منجی یا دکان پر بیٹھا بیٹھا نعرہ لگاتا ’اوئے پاگلو انسان بنو، گالم گلوچ کا کیا فائدہ۔‘ جب درجۂ حرارت منہ ماری کی حدود پار کر کے ہاتھا پائی کی جانب بڑھنے لگتا تو فریقین پہلے اپنی اپنی گھڑی اتار کے جیب میں رکھتے یا ساتھ والے کو پکڑاتے، پھر آستینیں چڑھاتے، کمر بند کستے، اپنے اپنے سینے کے بٹن کھولتے اور ایک دوسرے کے گریبان پر ہاتھ ڈال دیتے۔ تھوڑی بہت تھوکم تھاکی، مکا مکی بھی ہو جاتی مگر اکثر آس پاس والے یا بھلے مانس اجنبی ان دونوں کو پیچھے سے جپھا مار کے الگ الگ کر دیتے۔
جب دونوں سورماؤں کو یقین ہو جاتا کہ بادلِ نخواستہ باہمی تشدد کا خطرہ ٹل گیا ہے تو پھر دور ہوتے ہوتے بھی ایک دوسرے کی ماں بہن کا تذکرہ جاری رکھتے اور منہ پر ہاتھ پھیرتے اور فحش اشارے کرتے بکتے جھکتے اپنی راہ لیتے۔ اور پھر دونوں شام کو اپنے اپنے دوستوں میں شیخی بگھارتے کہ ’اگر رانا بھائی مجھے پیچھے سے پکڑ کر دور نہ لے جاتے تو آج تو میں نے کمینے کا منہ توڑ ہی دینا تھا۔ وسعت کہتے ہیں کہ میں جب بھی انڈیا پاکستان کی گرمی سردی کا تماشہ دیکھتا ہوں تو جانے کیوں بچپن کے بازار و مناظر تصور میں گھوم جاتے ہیں۔ ہر بار دوطرفہ پارہ سرخ نشان تک پہنچتا ہے اور پھر کوئی نہ کوئی بیچ میں جپھا مار کے عارضی صلح صفائی کروا دیتا ہے جو کہ اچھی بات ہے۔
انڈیا پاکستان پر سرجیکل سٹرائیک کرے گا یا میزائیل حملہ کرے گا؟
لیکن انکے بقول انڈیا اور پاکستان کی مستقل صلح صفائی کا امکان اس لیے نہیں کہ اس کے لیے دل اور دماغ کو کینے سے خالی کرنا پڑتا ہے۔ باقی دنیا کے لیے تو یہی غنیمت ہے کہ دونوں نیوکلئیر ہمسائے بھلے ’ورکنگ دشمنی‘ رکھیں اور چھوٹی موٹی مار کٹائی بھی کر لیں مگر ایسی نوبت نہ آ جائے کہ دونوں جوہری پستول لہراتے ہوئے ایک دوسرے پر پل پڑیں۔ دنیا اچھے سے جانتی ہے کہ غلطی سے اگر اس اوچھے پستول سے ایک بھی گولی فائر ہو گئی تو ان دونوں کے بیس پچیس کروڑ لوگ بھی مر جائیں گے اور دنیا کا ماحولیاتی نظام بھی گڑ بڑا جائے گا۔ رہی ایک دوسرے کے خلاف پانی بطور ہتھیار استعمال کرنے کی آرزو، تو خواہش اور عمل میں بہت فرق ہے۔ جنوبی ایشیا کے تمام اہم دریاؤں کی چابی تبت کی برف میں دبی ہوئی ہے اور تبت چین کا حصہ ہے۔ لہٰذا اگر کوئی بھی نچلا ملک اپنے سے نچلے ہمسائے کے گھر میں جانے والا نل بند کرے گا تو اسے ضرور دس بار سوچنا پڑے گا کہ اس کے نل میں بھی جو پانی آ رہا ہے اس کا ہائیڈرینٹ کسی تیسرے ملک میں ہے۔
وسعت اللہ خان بتاتے ہیں کہ انڈیا اور پاکستان نے ایک دوسرے کے خلاف آخری باضابطہ اعلانِ جنگ 1971 میں کیا تھا اور آخری بار دسمبر 2001 میں لوک سبھا پر دہشت گرد حملے کے بعد ایک مکمل جنگ کے دہانے پر پہنچے تھے جب واجپائی حکومت نے آپریشن پراکرم کے تحت پانچ لاکھ فوجی مشترکہ سرحد تک پہنچائے اور جواب میں پاکستان نے تین لاکھ فوجی موبلائز کیے۔ اگلے دس ماہ تک دونوں کی افواج نے ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے رکھیں۔ اکتوبر 2002 میں خرچے اور بوریت کے دباؤ میں فوجیں پیچھے ہٹنے لگیں۔ فائدے یا نقصان کا تو نہیں معلوم مگر اس لاحاصل مشق میں انڈیا کے تین سے چار ارب ڈالر اور پاکستان کے لگ بھگ سوا ارب ڈالرز خاک ہو گئے۔ اس دوران کسی ملک کا کوئی سپاہی ایک دوسرے کی گولی سے نہیں مرا البتہ غیر جنگی وجوہات کے سبب سینکڑوں فوجی ہلاک ہوئے، جبکہ ڈیڑھ لاکھ انڈین اور تقریباً 50 ہزار پاکستانی شہریوں کو عارضی طور پر گھر بار چھوڑنا پڑا۔
وسعت اللہ خان کے بقول کچھ لوگ کہتے ہیں کہ 2001 میں جنگ ہو جاتی مگر ایٹمی انشورنس کام آ گئی۔ کچھ کہتے ہیں جنگ ہو جاتی مگر دوستوں کی عقل کام آ گئی۔ اس مرتبہ بھی ایسا ہو سکتا ہے کہ دونوں نیوکلئیر ہمسایوں کی فوجی اور سیاسی اسٹیبلشمنٹ اپنے اپنے لوگوں کو ’امپریس‘ کرنے کے لیے تھوڑی بہت ٹھوں ٹھاں کر لے اور لائن آف کنٹرول بھی چند ماہ تپی رہے، لیکن 2025 میں کسی بھرپور وسکتی جنگ کے لیے کسی بھی ملک کے پایہ تخت پر کم ازکم ایک فارغ العقل حکمران کا براجمان ہونا ضروری ہے۔ دنیا ویسے ہی روس یوکرین لڑائی، غزہ کے المیے اور تجارتی جنگ سے تنگ ہے۔ ایک نیا محاذ کھولنا فی الحال کسی کے وارے میں نہیں آ رہا۔ رہی بات ویزہ بند کرنے کی تو پہلے بھی انڈین اور پاکستانی شہریوں کو ویزہ کون سا آسانی سے مل جاتا تھا؟ دونوں ممالک اپنے اپنے ہائی کمیشن میں 55 اہلکار رکھیں یا 30 عام لوگوں کی بلا سے۔ کون سی ایسی تجارت ہو رہی تھی کہ جس کے بند ہو جانے سے دونوں میں سے کسی کو بھی معاشی جھٹکا لگے گا۔ کون سی آلو پیاز کی بین العلاقائی راہداری کھلی ہوئی تھی؟ کون سی کرکٹ ایک دوسرے کے میدانوں میں کھیلی جا رہی تھی؟ کتنے شاعر، ادیب، گویے اور اداکار سرحد پار آ جا رہے تھے؟
وسعت اللہ خان کا کہنا ہے کہ ٹارگٹ کلنگ پہلے بھی ہو رہی تھی سو اب بھی جاری رہے گی۔ ایک دوسرے کے ہمسایوں کو ایک دوسرے سے پہلے بھی بدظن رکھنے کی کوشش جاری تھی اب شاید زیادہ ہو جائے۔ پراکسی جنگ کبھی رکی ہی نہیں، انٹیلیجنس آپریشنز کبھی تھمے ہی نہیں۔ پاک انڈیا تعلقات کی ابتری کبھی ہوتی ہو گی ایک تاریخی زخم لیکن اب تو عرصے سے یہ ایک منافع بخش انڈسٹری ہے۔ اس میں عسکریت پسند نظریہ بازوں اور ان کے طفیلیوں، اسلحے کے تاجروں اور کمیشن ایجنٹوں، بین الاقوامی طاقتوں اور ان کی سہولت کار ریاستوں کے شئیرز لگے ہوئے ہیں۔
اتنی بڑی منڈی میں ’طے شدہ سوچی سمجھی افراتفری‘ دراصل اس انڈسٹری کا مارکیٹنگ ڈویژن ہے۔ اپنے پیٹ پر کوئی کیوں پوری لات مارنے لگا۔ لہذا یہ کہا جائے تو بے جانا ہوگا کہ محلے میں سڑک کے بیچوں بیچ دونوں ہمسائیوں کے مابین جو مارکٹائی ہو رہی ہے اس کا نتیجہ یہی نکلے گا کہ کوئی بڑا بیچ میں پڑ کر دونوں چھڑوا دے گا۔
