27 ویں ترمیم : آئینی بینچ کی جگہ 9 رکنی آئینی عدالت بنے گی

وفاقی حکومت نے 27ویں آئینی ترمیم کے لیے جو قانونی مسودہ تیار کیا ہے اس میں سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کی جگہ 9 رکنی آئینی عدالت قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، آئینی عدالت کے ججوں کی عمر کی بالائی حد 65 سے 68 سال تک کرنے کی تجویز ہے۔ مسودے کے مطابق ججوں کی تقرری میں صدر اور وزیر اعظم کا کردار کم کر کے جوڈیشل کمیشن کا بڑھایا جائے گا۔
سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ آئینی عدالت کا قیام ملک کے عدالتی ڈھانچے میں اصلاحات کی جانب ایک بڑا قدم ہوگا۔ با خبر ذرائع کے مطابق، آئینی عدالت کے قیام کا آئیڈیا سب سے پہلے نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کے مابین 2006 میں لندن میں سائن ہونے والے میثاقِ جمہوریت میں پیش کیا گیا تھا۔ 26ویں آئینی ترمیم کے وقت بھی بلاول بھٹو آئینی عدالت کا ہی قیام چاہتے تھے لیکن مولانا فضل الرحمن کی مخالفت کے باعث انہیں سپریم کورٹ کے آئینی بنچ کی تشکیل پر اکتفا کرنا پڑا تھا۔
اب 27 ویں ترمیم کے ذریعے یہ تجویز ایک مرتبہ پھر وسیع تر آئینی اصلاحاتی پیکیج کے حصے کے طور پر بحال کی گئی ہے اور اس پر اتحادی جماعتوں کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
مجوزہ پلان کے مطابق، آئینی عدالت کے ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر 68؍ برس ہو گی، یہ حد سپریم کورٹ کے ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر سے تین سال زیادہ ہے۔ سپریم کورٹ کے ججز 65؍ برس کی عمر کو پہنچ کر ریٹائر ہوتے ہیں۔
توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ جسٹس امین الدین خان آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس ہوں گے۔ یہ عدالت سپریم کورٹ میں نہیں لگے گی، اسکی بجائے اس کی جائے وقوع کے حوالے سے دو آپشنز پر بات ہو رہی ہے۔ ایک تجویز ہے کہ آئینی عدالت اسلام آباد ہائی کورٹ کی عمارت میں ہو گی اور ایسا ہونے کی صورت میں اسلام آباد ہائی کورٹ کو اپنی پرانی جگہ یعنی سیکٹر G-9 میں منتقل کیا جائے گا۔ دوسرے آپشن کے امکانات زیادہ ہیں جس کے تحت آئینی عدالت فیڈرل شریعت کورٹ کی عمارت میں قائم کی جائے گی۔ اس صورت حال کے پیش نظر وفاقی سروس ٹریبونل کو اسی عمارت کی پہلی منزل پر منتقل کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئینی عدالت کے سات ججوں میں سے پانچ کو موجودہ سپریم کورٹ بینچ سے منتخب کیا جائے گا۔ جسٹس امین الدین خان متوقع طور پر نئی عدالت کے سربراہ ہوں گے۔ مزید یہ کہ بعض ہائی کورٹس کے ججز (خصوصاً بلوچستان ہائی کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ سے) کو بھی نئی عدالت میں تقرری کیلئے زیرِ غور لایا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق، مجوزہ آئینی عدالت صرف آئینی معاملات سے نمٹے گی، جس سے سپریم کورٹ کا بوجھ کم ہوگا اور آئینی تنازعات کے تیز تر فیصلے ممکن ہوں گے۔ یہ وہ تصور ہے جو میثاقِ جمہوریت میں طے کیا گیا تھا، لیکن اس پر اب تک عمل نہیں ہو سکا تھا۔
یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ 27 ویں ائینی ترمیم کے ذریعے جنرل عاصم منیر کے لیے”چئف کمانڈر آف ڈیفنس فورسز” کا عہدہ متعارف کرانےپر غور کیا جا رہا ہے۔یہ نیا عہدہ آرٹیکل 243 میں ترمیم کہ ذریعے متعارف کروایا جائے گا جس کا مقصد تینوں مسلح افواج کے مابین زیادہ ہم آہنگی اور متحدہ کمانڈ کو یقینی بنانا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ یہ اقدام حالیہ پاک بھارت جنگی منظرناموں سے حاصل کیے گئے اسباق اور جدید جنگ کی بدلتی ہوئی نوعیت سے متاثر ہے، جو مربوط آپریشنل ردعمل کا تقاضا کرتی ہے۔
