مریم نواز کا وزیر اعلیٰ بننا نون لیگ کو مہنگا کیوں پڑ رہا ہے؟

وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز اپنے ڈیڑھ سالہ دورِ اقتدار میں شروع کیے گئے متنازع اور سطحی منصوبوں کے باعث شدید عوامی تنقید کی زد میں ہیں۔ ایک طرف عوام اُن پر کسان دشمنی اور قانون شکنی کے الزامات لگا رہے ہیں، تو دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ مریم نواز کی جارحانہ اور غیرسیاسی حکمتِ عملی نے مسلم لیگ (ن) کی مقبولیت کا بھی جنازہ نکال دیا ہے۔مریم نواز حکومت کی پالیسیوں اور عوام مخالف اقدامات کے باعث حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ لیگی اراکینِ اسمبلی اب بغیر پولیس سیکیورٹی عوام میں جانے سے بھی گریزاں دکھائی دیتے ہیں۔ ناقدین کے مطابق مریم نواز اقتدار سنبھالنے کے بعد اتنی خودسر ہو چکی ہیں کہ کسی سے مشورہ کرنا یا رائے لینا بھی اپنی توہین سمجھتی ہیں۔ مریم نواز کے ارد گرد موجود غیر سیاسی لوگ ان سے ایسے ایسے فیصلے کروا رہے ہیں جن کا خمیازہ مستقبل قریب میں پوری نون لیگ کو بھگتنا پڑے گا۔
مبصرین کے مطابق مریم نواز حکومت نے گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران کئی ایسے بڑے فیصلے کئے جو بعد میں نہ صرف حکومت بلکہ نون لیگ کے بھی گلے پڑ گئے۔ جن میں سب سے نمایاں قدم صوبے کے کسانوں سے گندم کی براہِ راست خریداری بند کرنا تھا۔ اس سال مریم نوازحکومت نے ایک واضح پالیسی کے تحت محکمہ خوراک کے ذریعے کسانوں سے گندم کی خریداری روک دی، جس کے نتیجے میں پنجاب کے لاکھوں کسان متاثر ہوئے اور مارکیٹ میں گندم کی قیمت 2000 روپے فی من تک گر گئی، جبکہ پچھلے سالوں میں یہ قیمت پانچ ہزار روپے تک جاتی رہی ہے۔
تاہم اس کے باوجود حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک ایسا نیا نظام لا رہی ہے جس سے نہ صرف کسان مستفید ہوں گے بلکہ حکومت پر اضافی بوجھ بھی نہیں پڑے گا، تاہم ابھی تک پنجاب حکومت کی جانب سے ایسا کوئی نظام سامنے نہیں آ سکا۔
اس طرح پنجاب حکومت کی ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت صوبے میں تجاوزات کے خلاف جاری سب سے بڑی مہم شیدی عوامی تنقید کی زد میں ہے۔ ناقدین پنجاب حکومت کے اس فیصلے کو مستقبل میں گراس رُوٹ لیول پر مسلم لیگ ن کے ووٹ بینک میں کمی کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں۔ تجاوزات کے خلاف یہ مہم بڑے شہروں تک محدود نہیں رہی بلکہ چھوٹے چھوٹے دیہات تک بھی پہنچی جہاں لاکھوں افراد کی دکانوں، تھڑوں حتیٰ کہ کئی گھروں کو بھی گرایا جا چکا ہے۔ لاہور جیسے بڑے شہروں میں انار کلی، اچھرہ، شاہ عالمی اور کریم بلاک جیسی مارکیٹوں سے ہزاروں ریڑھی بانوں کا خاتمہ کیا گیا اور تجاوزات کے مستقل خاتمے کے لیے ’پیرا‘ جیسی ایک فورس بھی تشکیل دی گئی ہے۔ اندرون لاہور ان دنوں تجاوزات کے خلاف ایک بڑی مہم جاری ہے جس کے ذریعے اکبری منڈی، موچی گیٹ، لوہاری گیٹ اور بھاٹی گیٹ کے علاقوں میں سینکڑوں تاجروں کو بتا دیا گیا ہے کہ اندرون شہر کی اصل حالت میں بحالی کے لیے انہیں دوسری جگہ منتقل کیا جائے گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ کسی کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ سرکاری جگہ واگزار کروا رہی ہے۔ تاہم اس سے بھی ہزاروں افراد متاثر ہوں گے اور اندرون لاہور جو کبھی مسلم لیگ ن کا گڑھ سمجھا جاتا تھا وہاں اب اس کے بارے میں گراس رُوٹ لیول پر تاثرات بدلے بدلے دکھائی دیتے ہیں۔
پنجاب میں ان دنوں بڑے پیمانے پر پولیس مقابلوں نے بھی اب تھوڑی مختلف صورت حال اختیار کر لی ہے۔ خاص طور پر طیفی بٹ کے مبینہ پولیس مقابلے میں مارے جانے کے بعد اندرون لاہور خاص طور پر اکبری منڈی کے تاجروں میں خاصی بے چینی پائی جاتی ہے۔ مبینہ پولیس مقابلے کے اس نئے کلچر نے انسانی حقوق کی تنظیموں، وکلا اور سول سوسائٹی کو بھی حکومت پر انگلی اٹھانے پر مجبور کر دیا ہے۔
سیاسی ماہرین کے مطابق مریم نواز کے طرز حکمرانی سے پنجاب میں مسلم لیگ ن مضبوط نہیں بلکہ کمزور ہوئی ہے‘
تاہم مسلم لیگ ن کی سیاست کو کئی دہائیوں سے رپورٹ کرنے والے سینئر صحافی اور تجزیہ کار سلمان غنی کہتے ہیں کہ ’مریم نواز کے طرز حکمرانی کے دو پہلو ہیں۔‘’ایک پہلو جو سب سے نمایاں ہے وہ ان کی اپنی حکومت کی کارکردگی ہے جس میں کوئی شک نہیں کہ وہ بھاگ دوڑ کر رہی ہیں اور ایسا تاثر قائم کرنا چاہتی ہیں کہ انہیں یاد رکھا جائے۔‘ان کے مطابق ’دوسرا پہلو اس سے زیادہ اہم ہے وہ ہے کہ کیا مریم نواز کے طرز حکمرانی سے مسلم لیگ ن پنجاب میں مضبوط ہوئی ہے یا کمزور؟ تاہم ایسا لگتا ہے کہ مریم نواز کے اقدامات کی وجہ سے نون لیگ کی سیاست کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ سلمان غنی کے مطابق ’اگر صرف کسانوں کی مثال لی جائے تو گزشتہ دو برسوں کے دوران گندم کی قیمت کی وجہ سے کسانوں کی چیخیں نکل گئی ہیں۔ مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے عوام تو کجا نون لیگ کے اپنے ورکرز بھی کانوں کو ہاتھ لگاتے نظر آتے ہیں ’مریم نواز کی حکومت اور مسلم لیگ ن کی مقبولیت دو الگ چیزیں ہیں۔ مریم نواز حکومت کے بلند و بانگ دعوؤں کے باوجود نون لیگ کی مقبولیت کا گراف اوپر آنے کی بجائے مزید نیچے گر گیا ہے۔‘
وزیراعلٰی مریم نواز کے طرزِ حکمرانی بارے تجزیہ کار وجاہت مسعود کا کہنا ہے کہ انھیں مریم نواز کا طرز حکمرانی زیادہ نمائشی محسوس ہوتا ہے جس میں ذاتی تشہیر پر اتنا زور لگایا جا رہا ہے اور اس کی چکا چوند اتنی زیادہ بنا دی گئی ہے کہ اگر کچھ اچھا ہو بھی رہا ہے تو اس پر بھی شک گزرتا ہے کہ شاید اس میں بھی جھوٹ بولا جا رہا ہے، وجاہت مسعود کے مطابق مریم نواز نے عوام سے رابطے منقطع کر رکھے ہیں ان کے طرز سیاست سے تو لگتا ہے کہ شاید اب وہ اپنے والد اور پارٹی قائد میاں نواز شریف کی بھی بات نہیں سنتیں کیونکہ مریم نواز کے اردگرد کچھ ایسے لوگ ہیں جو ان سے ایسے فیصلے کروا رہے ہیں جس کا خمیازہ نون لیگ کو آنے والے دنوں میں بھگتنا پڑے گا۔
