کفایت شعار حکومت پنجاب کی وزرا کیلئے 46 نئی گاڑیاں

کفایت شعاری کی دعویدار وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کی پنجاب حکومت نے اپنے صوبائی وزرا کے لیے 46 عدد نئی لگژری گاڑیاں خریدنے کے احکامات جاری کر دئیے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ 46 نئی گاڑیوں کی خرید کے آرڈر ایک نجی کمپنی کو جاری کیے گئے ہیں جبکہ اس فیصلے کی منظوری عثمان بزدار کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی نے دی تھی۔ تاہم ناقدین اس حکومتی فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے یاد دلا رہے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان نے برسرِاقتدار آنے کے بعد وزیر اعظم ہاؤس کے پول میں موجود 900 سے زائد لگژری گاڑیاں بیچنے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ ان کی کفایت شعاری کی پالیسی کے تحت قومی خزانے پر پڑنے والے بوجھ کو کم سے کم کیا جا سکے۔ عمران خان قومی خزانے پر بوجھ کم کرنے میں اتنے سنجیدہ تھے کہ انہوں نے وزیر اعظم ہاؤس میں موجود درجنوں بھینسوں کو بھی فروخت کر دیا تھا۔ تاہم اس کے بعد پچھلے برس وفاقی حکومت نے اپنے وزراء کے لیے تین سو سے زائد نئی گاڑیاں خرید لی تھیں جس کی کوئی ٹھوس وجہ سامنے نہیں آ سکی۔

وفاقی حکومت کی جانب سے گاڑیاں خریدنے کے فیصلے کے بعد اب پنجاب حکومت نے بھی وفاق کی تقلید کرتے ہوئے 46 نئی گاڑیاں خریدنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اپنے وزراء کو خوش کیا جا سکے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نئی گاڑیاں خریدنے کا آرڈر دینے میں تاخیر کی وجہ سے گزشتہ مہینے گاڑیوں کی قیمتیں بڑھ گئیں جس کے باعث سرکاری خزانے سے ایک کروڑ آٹھ لاکھ روپے اضافی جاری کیے گئے۔ صوبائی وزرا کے لیے نئی گاڑیاں خریدنے کی غرض سے پنجاب کے سرکاری خزانے سے کل 21 کروڑ روپے ایک نجی کار بنانے والی کمپنی کو جاری ہو چکے ہیں۔ اردو نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق وزرا کی پرانی گاڑیاں ٹرانسپورٹ پول میں شامل کر لی جائیں گی اور حکومت کے دیگر سرکاری افسران ان کو استعمال کر سکیں گے۔  یعنی وزراء کے پاس گاڑیاں پہلے سے موجود تھی لیکن ان کو نئی گاڑیاں چاہیے تھیں اس لئے قومی خزانے کو رگڑا لگا دیا گیا۔

پی آئی اے ، پائلٹس پر عائد بین الاقوامی پابندیاں ختم کر دی گئیں

ترجمان پنجاب حکومت حسان خاور نے تصدیق کی ہے کہ تمام وزرا کے لیے نئی گاڑیاں خریدنے کی رقم جاری کی گئی تھی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’تحریک انصاف آج بھی کفایت شعاری پر اتنا ہی یقین رکھتی ہے جتنا پہلے رکھتی تھی۔ ان گاڑیوں کے خریدنے کی اجازت کابینہ پانچ مہینے پہلے دے چکی ہے۔‘ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ آفس کی گاڑیوں کے پول کو پہلے سے کم کر دیا گیا ہے۔ وزرا کی یہ گاڑیاں اب اتنی پرانی ہو چکی تھیں کہ ان کی دیکھ بھال پر زیادہ پیسے لگ رہے تھے جس وجہ سے محکمہ ایس اینڈ جی اے نے یہ پرپوزل دیا کہ دیکھ بھال کی لاگت کم کرنے لیے ضروری ہے کہ نئی گاڑیاں خریدی جائیں۔ اور اس سفارش پر ہی عمل ہوا ہے۔‘

دوسری جانب وزیر اعلی پنجاب کے پاس بھی سرکاری لگژری گاڑیوں کا ایک بڑا پول موجود ہے جس کی تفصیل بار بار مانگے جانے کے باوجود فراہم نہیں کی جارہی۔ یاد رہے کہ پچھلے برس ستمبر میں عثمان بزدار کے زیر استعمال سرکاری گاڑیوں اور دیگر مراعات کی تفصیل حاصل کرنے کی درخواست یہ کہہ کر مسترد کر دی گئی تھی کہ ایسا کرنے سے وزیر اعلی کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ یہ درخواست لاہور کے ایک وکیل عبداللہ ملک نے اطلاعات تک رسائی کے قانون کے تحت داخل کی تھی جسکا جواب 9 ماہ بعد دیا گیا اور کہا گیا کہ یہ معلومات فراہم نہیں کی جا سکتیں۔ سرکاری گاڑیوں کے استعمال پر بننے والی لاگ بک کی تفصیلات بھی یہی کہہ کر دینے سے انکار کر دیا گیا۔

درخواست گزار عبداللہ ملک کا کہنا ہے کہ وہ حقائق کی تفصیل چھپانے پر لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کر چکے ہیں کیونکہ عوامی ٹیسکوں سے خریدی گئی گاڑیوں اور ان کے استعمال کی تفصیل دینا قانون کے مطابق لازمی ہے۔

Back to top button