81 کروڑ 70 لاکھ روپے کے کرپشن کیس میں سابق وزیراعلیٰ بلوچستان پر فرد جرم عائد

احتساب عدالت نے نیب کی جانب سے دائر کردہ 81 کروڑ 70 لاکھ روپے کے کرپشن کیس میں بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی، نواب لشکری رئیسانی اور 6 دیگر افراد پر فرد جرم عائد کردی۔
مذکورہ ریفرنس میں نیب کی جانب سے سابق وزیراعلیٰ پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے معاوضے کے نام پر اپنے اہل خانہ کے لیے غیرقانونی طور پر 81 کروڑ 70 لاکھ روپے حاصل کیے اور اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے مہر گڑھ میں 7 ہزار سال پرانی آثار قدیمہ کی سائٹ کو نقصان پہنچانے کا سبب بنے۔ نیب کے مطابق ملزم کا غیرقانونی قدم قومی خزانے کو 81 کروڑ 70 لاکھ روپے کے نقصان کا سبب بنا۔ احتساب عدالت کے جج اللہ داد روشن نے جمعرات کو نیب بلوچستان کی طرف سے پیش ہونے والے راشد زیب گولڑا کے دلائل سنے تھے۔ تاہم ملزمان کی جانب سے کیس میں اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کی تردید کی گئی تھی۔
خیال رہے کہ اسلم رئیسانی 4 مرتبہ بلوچستان سے صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوچکے ہیں جب کہ وہ 2008 سے 2013 کے درمیان صوبے کے وزیراعلیٰ بھی رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کئی صوبائی وزارتوں پر بھی فرائض انجام دے چکے ہیں۔ علاوہ ازیں نومبر 2020 میں موجودہ اور سابق اراکین اسمبلی کے اثاثوں کی سامنے آنے والی تفصیلات میں یہ پتا چلا تھا کہ سابق وزیراعلیٰ اور رکن بلوچستان اسمبلی نواب اسلم رئیسانی کے اثاثوں کی مالیت 21 کروڑ 22 لاکھ روپے ہے، اس کے ساتھ مالٹا میں ایک کروڑ 73 لاکھ 50 ہزار روپے مالیت کا ایک فلیٹ ہے جب کہ ان کی زرعی زمین کی مالیت 19 لاکھ روپے ہے۔ اس کے علاوہ ان کی رہائشی جائیدادوں کی مالیت ایک کروڑ 79 لاکھ 60 ہزار روپے سے زائد ہے جب کہ دیگر اثاثوں کی مالیت 9 کروڑ 67 لاکھ 20 ہزار روپے ہے۔ سابق وزیراعلیٰ کے پاس 3 کروڑ 75 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی گاڑیاں، 23 لاکھ روپے مالیت کے مقامی جانور بھی ہیں جب کہ بینک اکاؤنٹس میں 51 لاکھ 30 ہزار روپے کے قریب موجود ہیں، ان کے خاندان کے دیگر افراد کے اثاثوں کی مالیت 3 کروڑ 8 لاکھ 10 ہزار روپے ہے۔