بلوچستان اور KPKکے بعد پنجاب بھی دہشتگردوں کے نشانے پر

 

 

 

 

پاک فوج کی جانب سے افغانستان میں ٹی ٹی پی کو ڈنڈا دینے کے بعد دہشتگردوں نے پنجاب کا رخ کر لیا ہے۔ افغانستان کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران خیبر پختونخوا میں تواتر سے ہونے والے حملوں کے بعد اب پنجاب کے ضلع بھکر میں ہونے والے خودکش دھماکے نے سیکیورٹی اداروں کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شدت پسند عناصر اب لاہور اور کراچی جیسے بڑے شہری و معاشی مراکز کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔

 

دفاعی ماہرین کے مطابق ٹی ٹی پی سمیت پاکستان مخالف دہشتگرد تنظیموں کے پاس اتنی افرادی قوت اور وسائل موجود ہیں کہ وہ پاکستان میں جہاں چاہیں کارروائیاں کر سکتے ہیں۔ ان کے بقول، "طالبان کے لیے پنجاب میں حملہ کرنا کوئی بڑی بات نہیں، تاہم فی الحال ان تنظیموں کی منصوبہ بندی میں پنجاب شامل نہیں ہے۔ البتہ اگر افغانستان میں پاکستان کی جانب سے مزید کارروائیاں کی جاتی ہیں تو شدت پسند عناصر خیبرپختونخوا اور بلوچستان سے نکل کر پنجاب سمیت ملک کے دیگر علاقوں تک کارروائیاں پھیلاسکتے ہیں۔

 

سیاسی تجزیہ کاروں کے بقول پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدہ تعلقات عسکریت پسندوں کی کارروائیوں میں واضح اثر ڈال رہے ہیں۔ افغان طالبان کے ایماء دہشتگرد عناصر اب دوبارہ دارالحکومت اسلام آباد اور پنجاب کو خودکش حملوں کا نشانہ بنانے کی کوششیں کر رہے ہیں، تاکہ داخلی اور عالمی سطح پر یہ پیغام دیا جا سکے کہ "ریاست کے مقابل عسکریت پسندوں کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔”

 

بعض دیگر تجزیہ کاروں کے مطابق شدت پسندوں کی موجودگی اب صرف قبائلی اضلاع تک محدود نہیں، بلکہ بعض شہری علاقوں تک بھی پھیل رہی ہے۔ پنجاب کے کچھ اضلاع میں بھی شدت پسند عناصر کی موجودگی کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں اور کالعدم تنظیموں کی حالیہ تشکیلات میں ان اضلاع کا ذکر بھی کیا گیا ہے، اگرچہ اب تک وہاں کارروائیاں نہیں ہوئیں، تاہم امکان ہے کہ آنے والے دنوں میں دہشتگرد عناصر ان علاقوں کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں نے کچے کے ڈاکوؤں کے ساتھ ہاتھ ملا لیا ہے۔ جس کے بعد کچے کے ڈاکوؤں کی پناہ گاہ سمجھے جانے والے جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع تحریک طالبان پاکستان کے دہشتگردوں کی آماجگاہ بن چکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق کچے کے علاقے راجن پور، رحیم یار خان، سکھر، اور گھوٹکی کے قریب دریائے سندھ کے کنارے پر دہشت گردوں اور ڈاکوؤں کے لیے محفوظ پناہ گاہیں موجودہیں، جہاں سے اب ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کی جانب سے علاقے کی جغرافیائی صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پولیس چوکیوں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے، سیکیورٹی ماہرین کے بقول خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے بعد جنوبی پنجاب دہشت گردی کا نیا محاذ بنتا دکھائی دے رہا ہے۔

پاکستان نے افغانستان پر بڑے فضائی حملوں کا فیصلہ کر لیا

دفاعی تجزیہ کار ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کے بقول ’جنوبی پنجاب کی سرحد، خاص طور پر ڈیرہ اسماعیل خان سے ملحقہ علاقے، ٹی ٹی پی اور اس کے ذیلی دھڑوں جیسے تحریک جہاد پاکستان کے لیے سٹریٹجک اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ یہ علاقے خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے ملحق ہیں، جہاں ٹی ٹی پی کے محفوظ ٹھکانے موجودہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ ان دہشتگرد دھڑوں نے2021 کے بعد سے افغان طالبان کے اقتدار سے فائدہ اٹھایا، امریکی ساختہ ہتھیار لیے اور تربیت حاصل کی، اور اپنی حکمت عملی کو بہتر بنایا اور اب انھوں نے افغان طالبان کی پالیسی میں تبدیلی کے بعد پنجاب کا رخ کر لیا ہے۔عائشہ صدیقہ کے مطابق ان دہشتگرد گروپوں کو روکنے میں پولیس کی ناکامی کا بنیادی سبب اس کا ’ری ایکٹو نقطہ نظر‘ ہے: ’پولیس حملوں کا جواب دیتی ہے لیکن پیشگی انٹیلی جنس اور سرحدی نگرانی کی کمی انہیں کمزور کرتی ہے۔‘ جس کہ وجہ سے دہشتگردانہ واقعات میں تیزی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر حکومت نے اب بھی انٹیلیجنس شیئرنگ، بین الصوبائی کوآرڈینیشن اور شہری سکیورٹی کو مضبوط نہ بنایا تو آنے والے دنوں میں پنجاب کے کئی بڑے شہر دہشتگروں کے نشانے پر آ سکتے ہیں۔

 

Back to top button