پاکستان مخالف TTP اور افغان طالبان کے گٹھ جوڑ کا انکشاف

پاکستان مخالف تحریک طالبان اور افغان طالبان کا باہمی گٹھ جوڑ سامنے آ گیا ہے اقوام متحدہ نے اس گٹھ جوڑ کی تصدیق کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ افغان طالبان اور کالعدم عسکریت پسند تنظیموں القاعدہ اور تحریک طالبان پاکستان یعنی ٹی ٹی پی کے درمیان بدستور ’مضبوط اور قریبی‘ تعلقات و روابط موجود ہیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 1988 میں طالبان پر عائد پابندیوں کی کمیٹی کی تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی جمعے کے روز جاری ہونے والی چودھویں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دہشت گرد گروہوں کو سرگرمیاں اور کارروائیاں کرنے کے لیے بااختیار طالبان حکام کے تحت چلنے والے نظام میں کافی آزادی حاصل ہے۔ رپورٹ میں لکھا گیا کہ دہشت گرد اس آزادی کا خوب استعمال کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے افغانستان اور خطے دونوں میں دہشت گردی کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ طالبان حکام نے ان گروپوں کے پروفائل کو کم رکھنے کے ساتھ متعدد دہشت گرد اداروں سے روابط برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے جب کہ طالبان نے داعش جسے وہ اپنا اصل دشمن قراردیتے ہیں، اس کے خلاف اپنی لڑائی میں انسداد دہشت گردی کے لیے رکن ممالک کے ساتھ لابنگ بھی کی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان فورسز نے عمومی طور پر داعش کے خلاف کارروائیاں کی ہیں لیکن انہوں نے امریکا اور طالبان کے درمیان افغانستان میں قیام امن کے معاہدے کے تحت انسداد دہشت گردی کی دفعات پر کام نہیں کیا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ القاعدہ کارروائیاں کرنے کی اپنی صلاحیت کو از سر نو مضبوط کر رہی ہےجبکہ ٹی ٹی پی طالبان کی جانب سے ملنے والی حمایت کے ساتھ پاکستان میں حملے کر رہی ہے، غیر ملکی دہشت گرد جنگجوؤں کے گروپ افغانستان کی سرحدوں کے پار خطرہ پیدا کر رہے ہیں جبکہ داعش کی کارروائیاں اگر مزید بڑھ نہیں بھی رہیں تو بھی وہ مزید پیچیدہ اور مہلک ہو رہی ہیں۔
دوسری جانب افغان طالبان نے اقوام متحدہ کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے تعصب سے بھرپور قرار دیا۔طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے بیان میں کہا کہ امارت اسلامیہ افغانستان یو این سلامتی کونسل کی پابندیوں اور اس طرح کی رپورٹس کو تعصب سے بھرپور، خودمختاری اور عدم مداخلت کے اصولوں سے متصادم سمجھتی ہے اور اسے ختم کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔
ذبیح اللہ مجاہد نے ان الزامات کو بے بنیاد اور افغانستان کے عوام کے ساتھ واضح دشمنی کا نتیجہ قرار دیا اور اسے گزشتہ 20 برسوں سے جاری بے بنیاد پروپیگنڈے کی قسط کہا۔ ترجمان نے مزید کہا کہ وہ اس رپورٹ کو سختی سے مسترد کرتے ہیں جس میں کہا گیا کہ امارت اسلامیہ پڑوسی اور علاقائی ممالک کے مخالفین کی مدد کر رہی ہے یا افغان سرزمین کو دوسرے ممالک کے خلاف استعمال کر رہی ہے۔ترجمان طالبان نے کہا کہ ایسا لگتا ہے یو این سلامتی کونسل کے لکھاریوں کی معلومات تک رسائی نہیں یا انہوں نے “جان بوجھ کر حقائق کو مسخ کیا یا پھر ان کی معلومات کا ذریعہ امارت اسلامیہ کے مفرور مخالفین ہیں۔ذبیح اللہ مجاہد نے مزید کہا کہ امارت اسلامیہ افغانستان اپنی کمنٹمنٹ پر قائم ہے اور یقین دلاتی ہے کہ افغان سرزمین سے خطے، پڑوسی ممالک اور دنیا کو کوئی خطرہ نہیں ہے، افغانستان کسی کو بھی اپنی سرزمین دوسروں کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہے۔
خیال رہے کہ پاکستانی سیکیورٹی حکام طویل عرصے سے کہتے رہے ہیں کہ کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر پاکستان مخالف مسلح گروپ افغان سرزمین سے کارروائیاں کرتے ہیں۔طالبان کی حکومت نے پاکستان میں تشدد کے خاتمے کے لیے کالعدم ٹی ٹی پی اور پاکستانی سیکیورٹی حکام کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات کی میزبانی بھی کر چکی ہے، تاہم گزشتہ سال دونوں اطراف کی جانب سے سخت شرائط کے باعث مذاکرات ناکام ہو گئے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے فروری میں کابل میں سینئر طالبان رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات میں اعلیٰ سطح کے وفد کی قیادت کی تھی جس میں کالعدم ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی یک نکاتی ایجنڈا تھا۔کئی مہینوں تک افغانستان کی جانب سے سرحد پار کوئی حملہ نہیں ہوا، تاہم نومبر میں گروپ کی جانب سے جنگ بندی ختم کرنے کے اعلان کے بعد سے کالعدم ٹی ٹی پی کے حملوں میں اضافہ ہوا۔حکومت نے کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات معطل کردیے اور اس کے خلاف خاص طور پر خیبر پختونخوا میں حساس اداروں کی جانب سے فراہم کردہ خفیہ معلومات کی بنیاد پر
کشتی حادثے میں پاکستانیوں کی اموات زیادہ کیوں ہوئیں؟
کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔
