کیا مریم نواز کو اگلا وزیراعظم بنانے کی تیاری کی جا رہی ہے؟

ملکی سیاسی حلقوں میں مریم نواز کے بطور وزیر اعلی پنجاب صوبے میں متعدد ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کے بعد ابھی سے افواہیں گرم ہیں کہ مریم نواز کو والد اور چچا کی طرح پنجاب میں مکمل ٹریننگ دلوا کر اگلے وزیر اعظم کیلئے تیار کیا جا رہا ہے۔
مبصرین کے مطابق مریم نواز بطور وزیرِ اعلٰی پنجاب اپنے والد اور چچا کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے عوام میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانا چاہتی ہیں کیونکہ نواز شریف اور شہباز شریف نے بھی پنجاب میں ترقیاتی منصوبوں کی بنیاد پر ہی وزارتِ عظمیٰ تک رسائی حاصل کی تھی۔
تجزیہ کار اور کالم نویس سلمان غنی کے مطابق پنجاب پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ نواز شریف، شہباز شریف، غلام حیدر وائیں اور منظور وٹو سمیت جتنے بھی وزرائے اعلٰی آئے وہ سب یہاں متحرک رہے۔اُن کے بقول سیاسی جماعتوں کو یہ ادراک ہے کہ اگر مرکز میں حکومت بنانی ہے تو اس کے لیے پنجاب میں اپنے قدم جمانا بہت ضروری ہے۔
سلمان غنی کے مطابق مریم نواز، نواز شریف کی سیاسی وارث ہیں اور نواز شریف کی غیر موجودگی میں وہ مسلم لیگ (ن) کی سیاست کو آگے بڑھاتی رہی ہیں۔ لہذٰا نواز شریف سمجھتے ہیں کہ بطور وزیرِ اعلٰی مریم نواز کی کامیابی جماعت کے لیے بہت ضروری ہے۔
تاہم سینئر تجزیہ کار اور کالم نویس سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ مریم نواز کو مستقبل کی وزیرِ اعظم کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ جن چیلنجز کا سامنا مسلم لیگ (ن) کو پنجاب میں ہے۔ اس طرح کے چیلنجز پی ٹی آئی کے لیے خیبرپختونخوا یا پیپلزپارٹی کے لیے سندھ میں نہیں ہیں۔
دوسری جانب سلمان غنی کہتے ہیں کہ یوں تو مریم نواز صاحبہ کی تشہیر بہت زیادہ ہو رہی ہے، مگر دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ نواز شریف اور شہباز شریف کی طرح متحرک ہو کر کام کر رہی ہیں؟ کیا اُن کے اراکینِ اسمبلی اُن سے مطمئن ہیں؟ کیا وہ مقامی سطح پر لوگوں کے مسائل اور مشکلات کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہیں؟اُن کا کہنا تھا کہ اِس میں کوئی شک نہیں کہ اُنہیں کوریج بہت زیادہ مل رہی ہے۔ وہ نواز شریف کی بیٹی بھی ہیں اور جماعت کے اندر بھی اُنہی کا کردار ہے۔
سلمان غنی کی رائے میں مریم نواز کا اصل ہدف وزارتِ عظمٰی کا عہدہ ہے اور اسلام آباد کا راستہ لاہور سے ہو کر جاتا ہے۔ لاہور بہت اہم ہے۔ جب بھی صوبہ پنجاب کی سیاست کا تذکرہ ہوتا ہے تو لاہور ہمیشہ اہم ہوتا ہے۔
تاہم یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ مریم نواز ترقیاتی کاموں کی تشہیری مہم پر زیادہ زور کیوں دے رہی ہیں؟ اس پر کروڑوں روپے کیوں خرچ کئے جا رہے ہیں۔
سہیل وڑائچ کے مطابق مسلم لیگ (ن) یہ سمجھتی ہے کہ تحریکِ انصاف سوشل میڈیا کا استعمال کر کے چیزوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہے، لہذٰا مریم نواز کی بطور وزیرِ اعلٰی تشہیری مہم بھی اسی لیے تیزی سے چلائی جا رہی ہے۔
اُن کے خیال میں مسلم لیگ (ن) شروع سے ہی اخبارات اور ٹی وی میں اشتہارات دینے میں دلچسپی رکھتی رہی ہے۔ یہ سلسلہ 1985 میں ہی شروع ہو گیا تھا جب نواز شریف پہلی مرتبہ پنجاب کے وزیرِ اعلٰی بنے تھے اور اس کے بعد شہباز شریف نے بھی ایسا ہی کیا تھا اور اب مریم نواز بھی اپنے والد اور چچا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تشہیری مہم پر بھرپور زور لگا رہی ہیں۔
پنجاب حکومت کے ادارے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پبلک ریلیشنز یعنی ڈی جی پی آر کے مطابق وزیرِ اعلٰی پنجاب مریم نواز نے حلف اُٹھانے کے بعد دو درجن کے قریب منصوبے شروع کیے ہیں جن میں سے کچھ پائپ لائن میں ہیں۔ تاہم ذرائع ڈی جی پی آر کے مطابق ماضی کے کئی منصوبے نئے ناموں کے ساتھ دوبارہ شروع کئے گئے ہیں جبکہ موجودہ پنجاب حکومت اپنی تشہیر پر کروڑوں روپے خرچ کر رہی ہے۔ ڈی جی پی آر کے اعلٰی عہدیدار کے مطابق صرف ایک روز یعنی 29 اکتوبر کو تین کروڑ روپے کے اشتہارات پنجاب حکومت کی جانب سے دیے گئے ہیں۔
