ایاز امیر کا فیض حمید کے ساتھ جنرل باجوہ کے بھی ٹرائل کا مطالبہ

فوج سے بطور کیپٹن ریٹائرمنٹ کے بعد مسلم لیگ نون کے ایم این اے رہنے والے تحریک انصاف کے ٹکٹ ہولڈر یوتھیے کالم نگار ایاز امیر نے کورٹ مارشل کا شکار ہونے والے فیض حمید کے حق میں آواز بلند کرتے ہوئے کہا ہے کہ بطور ڈی جی آئی ایس آئی انہوں نے جو کچھ کیا وہ اپنے باس جنرل قمر باجوہ کے کہنے پر کیا لہذا اگر احتساب ہونا ہے تو دونوں کا ہو۔ تاہم ایاز امیر بھول گئے کہ فیض کی گرفتاری سرکاری فرائض کی ادائیگی کے میں کوتاہی کے الزام پر نہیں ہوئی بلکہ 14 ہزار کنال اراضی پر قبضے کی خاطر اپنا عہدہ استعمال کرنے پر ہوئی ہے۔ یاد رہے کہ ایاز امیر اور فیض حمید دونوں کا تعلق چکوال کے فوجی خاندانوں سے ہے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں ایاز امیر سوال کرتے ہیں کہ جنرل فیض حمید کا اصل قصورکیا تھا؟ کیا وہ ڈی جی ‘سی‘ خود بنے تھے‘ یا جنرل باجوہ کی چوائس تھے۔ فیض حمید پنوں عاقل کی چھاؤنی سے نکلے تو انہیں بطور ڈی جی کاؤنٹر انٹیلی جینس یہی ٹاسک ملا تھا کہ فلاں فلاں سیاسی انجینئرنگ کرنی ہے اور یہی قومی مفاد ہے۔ اگر کوئی پراجیکٹ عمران خان بنایا گیا تھا اور یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ عمران خان کو آگے لانا ہے اور 2018ء کے انتخابات میں انہیں جتوا کر وزیر اعظم بنوانا ہے ہے تو یہ نیک ارادہ محسنِ ملت جنرل باجوہ کا تھا۔
ایاز امیر کے مطابق چکوالی جرنیل فیض حمید تو وہ کچھ کر رہے تھے جو انہیں جنرل باجوہ نے کرنے کے لیے کہا تھا۔ یہ اور بات ہے کہ فیض بڑے محنتی اور کاوش کرنے والے انسان ہیں‘ یہ ہمیشہ ان کی شہرت رہی ہے۔ محسنِ ملت جنرل باجوہ ان کی کارکردگی سے خوش تھے تب ہی پہلے تو فیض کو ڈائریکٹر جنرل کاؤنٹر انٹیلیجنس اور پھر ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی بنا دیا۔ ماضی میں ایک جاسوسی ادارے کے سربراہ کے طور پر سسٹم کے سہولت کار تو اور جرنہل بھی رہے ہیں لیکن اس پوزیشن میں فیض نے اپنا لوہا منوایا اور عمران کو بطور وزیراعظم جو بھی سیاسی مسئلہ در پیش آیا اسے خوش اسلوبی سے نمٹایا۔ ایاز امیر کہتے ہیں کہ دیگر امور کو چھوڑیے‘ فیض نے جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن والا معاملہ اس خوبصورت طریقے سے ہینڈل کیا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ کر توسیع کے قانون کی حمایت کردی۔ پی ٹی آئی نے تو حمایت کرنی ہی تھی کیونکہ اس نے باجوہ کے ساتھ لنگوٹ کسا ہوا تھا لیکن حیرانی تب ہوئی جب پتا چلا کہ (ن) لیگ کو بھی اسی کھاتے میں جکڑنے میں کامیابی ہو گئی ہے۔ اس قانون کی قطعاً کوئی ضرورت نہ تھی‘ اُس کے بغیر اتنا عرصہ کام چلتا رہا تھا لیکن جنرل فیض کی ہنرمندی سمجھیے کہ تمام سیاسی جماعتیں ایک ہی صف میں کھڑی ہو گئیں‘ نہ کوئی بندہ رہا نہ بندہ نواز۔ اب شاید اسی قانون سے موجودہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر بھی فائدہ اٹھائیں گے۔
ایاز امیر کہتے ہیں کہ جنرل فیض کی گرفتاری کے بعد خود احتسابی کے بڑے بڑے دعوے ہو رہے ہیں۔ اس موسم میں جو پھلجھڑیاں اڑائی جا رہی ہیں‘ ان کی بھرپور ترجمانی چند مخصوص اینکر حضرات فرما رہے ہیں۔ ان کی پھرتیوں کو دیکھتے ہوئے دل میں خیال اٹھتا ہے کہ یہ تمام کے تمام تمغۂ حسنِ کارکردگی کے حق دار ہیں۔ لیکن چبھتا ہوا سوال کوئی پوچھ نہیں رہا کہ اگر احتساب ہونا ہے تو پھر جنرل باجوہ سمیت سب کا کیوں نہیں ہو رہا۔
