اعظم خان سائفر پر عمران کے خلاف گواہی پر کیسے راضی ہوۓ

تحریک انصاف حکومت کے طاقتور ترین افسر وزیر اعظم کے سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان سائفر کیس میں اپنے خلاف ہونے والی ایف آئی اے کی تحقیقات اور حتمی چالان میں رعایت ملنے کے لالچ میں عمران خان کی خلاف گواہی دینے پر تیار ہوۓ . یہی وجہ ہے وہ عمران خان کے خلاف سلطانی گواہ نہیں بنے بلکہ سائفر کیس میں وہ ایف آئی اے کی جانب سے بطور اہم گواہ پیش ہوں گے۔ ایف آئی اے کی جانب سے سائفر کیس میں در ج کی گئی ایف آئی آر میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو بطور ملزم نامزد کیا گیا ہے۔ اگرچہ ایف آئی آر میں اسد عمر اور اعظم خان کا نام بھی شامل تھا لیکن بطور ملزم اس کیس میں ان کا ملوث ہونا تحقیقات کے دوران ان کیخلاف ثبوت سامنے آنے سے مشروط ہے . اعظم خان کو اسی باریک قانونی گنجائش کا لالچ دیا گیا ہے کہ اگر وہ اپنے سابقہ باس کے خلاف سائفر کیس میں گواہ بن جائیں تواستغاثہ یعنی ایف آئی اے دوران تفتیش ان پر ہاتھ ہولا رکھے گا اور عدالت میں جو کیس دائر ہو گا اس میں بھی اعظم خان کے کردار کو ثانوی حثیت کے طور پر پیش کر کے انہیں رعایت دی جاۓ گی. اسی ضمن میں سینئر صحافی انصار عباسی نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ اعظم خان سائفر کیس میں عمران خان کے خلاف سلطانی گواہ نہیں بلکہ استغاثہ کی طرف سے ایک اہم گواہ کے طور پر سامنے آئیں گے ، اور انہوں نے ضابطہ فوجداری کے سیکشن 164؍ کے تحت اپنا بیان پہلے ہی ریکارڈ کرا لیا ہے۔ اعظم کچھ وقت کیلئے غائب ہو گئے تھے اور اس کے بعد جولائی میں جب سائفر استعمال کرکے ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور اس وقت کی اپوزیشن جماعتوں کیخلاف غلط بیانیہ تخلیق کرنے کا الزام انہوں نے عمران خان پر عائد کیا تو وہ شہ سرخیوں کی زینت بن گئے۔

اعظم خان کے بیان کے مطابق 8؍ مارچ 2022ء کو اس وقت کے سیکریٹری خارجہ نے ان سے رابطہ کرکے سائفر سے آگاہ کیا، جو بعد میں اسی شام ان کے گھر پر پہنچایا گیا۔ سیکریٹری خارجہ نے انہیں بتایا کہ اس وقت کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پہلے ہی اس سائفر پر پی ٹی آئی کے چیئرمین سے بات کر لی ہے۔ اس بات کی تصدیق اس وقت ہوئی جب اعظم خان نے یہ سفارتی دستاویز وزیراعظم کو پیش کی۔ اعظم خان نے الزام عائد کیا کہ عمران خان نے سائفر استعمال کرکے عوام کی توجہ اپوزیشن کی عدم اعتماد کی تحریک میں غیر ملکی ہاتھ کی جانب مبذول کرانے کی کوشش کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان نے انہیں بتایا تھا کہ وہ عوامی اجتماع میں یہ سائفر دکھائیں گے اور بیانیہ توڑ مروڑ دیں گے کہ ’’اسٹیبلشمنٹ اور اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے غیر ملکی سازش تیار کی جا رہی ہے تاکہ مظلوم بن سکیں ۔ اعظم خان نے کہا کہ انہوں نے سائفر کی نقل عمران خان کو دی تھی لیکن یہ دستاویز انہوں نے واپس نہیں کی اور پھر بتایا گیا کہ یہ کھو گئی ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ عمران خان نے سائفر کیس میں بنائی گئی جے آئی ٹی میں دورانِ تفتیش اپنے بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے اپنے ملٹری سیکریٹری سے کہا تھا کہ وہ گمشدہ خفیہ دستاویز کے بارے میں تحقیقات کریں۔

ذرائع کے مطابق، عمران خان نے جے آئی ٹی کو بتایا کہ ملٹری سیکریٹری نے انہیں بتایا کہ دستاویز نہیں ملی۔ تاہم، جے آئی ٹی کو اس ضمن میں ملٹری سیکریٹری کو تحریری طور پر دی گئی ایسی کسی ہدایت کا سراغ نہیں ملا۔ توشہ خانہ کیس کے ٹرائل کے دوران، عمران خا ن نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے اپنے ملٹری سیکریٹری کے ذریعے تحائف فروخت کیے۔ انہوں نے کہا کہ اس کیس میں ملٹری سیکریٹری اہم اور متعلقہ شخص ہے۔ عمران خان نے کہا کہ ’’میں عدالت سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ انہیں طلب کرے اور اس کیس میں ان کا بیان ریکارڈ کریں۔‘‘ تاہم، کٹہرے میں انہوں نے یا پھر ان کی لیگل ٹیم نے دوبارہ ملٹری سیکریٹری کو طلب کرکے ان کا بیان ریکارڈ کرانے پر اصرار نہیں کیا۔ اس کی بجائے، عمران خان جن چار افراد کو اپنے گواہ کے طور پر پیش کرنا چاہتے تھے، عدالت نے انہیں مسترد کر دیا، ان میں بھی ملٹری سیکریٹری کا نام شامل نہیں تھا۔ واضح رہے توشہ خانہ کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے عمران خان کی سزا معطل کر دی گئی ہے مگر یہ سائفر کیس ہی ہے جس کی وجہ سے عمران خان کا فی الحال اٹک جیل سے رہا ہوں ممکن نہیں کیونکہ اسی کیس میں نہ صرف ایف آئی اے عمران خان کی گرفتاری ڈال چکی ہے بلکہ خصوصی عدالت ان کا تیس اگست تک

نمک کا کم استعمال فالج کے خطرات کو کم کرسکتا ہے،ماہرین

جوڈیشل ریمانڈ بھی دے چکی ہے .

Back to top button