الیکشن نتائج سے پہلے ہی بڑی سیاسی جماعتوں کے بڑے دعوے؟

ملک میں ہونے والے عام انتخابات کے نتائج ابھی تک نہیں آ سکے لیکن کئی سیاسی جماعتوں نے اپنی اپنی جیت کے دعوؤں کے ساتھ سرکاری نتائج کے بغیر ہی جشن منانا شروع کر دیا ہے۔8 فروری کو ہونے والے انتخابات کے بعد ابتدائی نتائج آنا شروع ہوئے لیکن پھر یہ سلسلہ رک گیا اور تاحال الیکشن نتائج کی آمد کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔

تاہم دوسری جانب مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے جیت کے دعوؤں کے ساتھ جشن منانا شروع کر دیا گیا۔ سب سے پہلے کراچی سے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے 18 نشستوں پر واضح برتری کا دعویٰ کیا۔اس حوالے سے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ’ہمارے پولنگ ایجنٹس نتائج لے کر پہنچ رہے ہیں۔‘ اس کے بعد ایم کیو ایم کے رہنماؤں پارٹی دفتر کے باہر جشن منانا شروع کر دیا۔

اگرچہ مقامی میڈیا پر آنے والی خبروں اور نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار بظاہر آگے دکھائی دے رہے ہیں لیکن سرکاری نتیجے کے بغیر تحریک انصاف نے بھی دعویٰ کیا کہ انہیں قومی اسمبلی کی 130 سے زائد نشستوں پر انہیں واضح برتری حاصل ہو گئی ہے اور وہ حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ گئے ہیں۔تحریک انصاف کے چئیرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور سیکرٹری جنرل عمر ایوب نے الگ الگ ویڈیو پیغامات میں جیت کے دعوے کیے۔ جس کے بعد پی ٹی آئی کے مرکزی دفتر میں کارکن جشن منا رہے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی سندھ میں سادہ اکثریت حاصل ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ سندھ میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگئے ہیں۔جماعت اسلامی پاکستان نے بھی قومی اسمبلی کی 17 نشستوں پر برتری کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’10 سے زائد حلقوں میں ہم مقابلے میں دوسری پوزیشن پر ہیں۔ ان میں اپر دیر، لوئر دیر، بونیر، کراچی، گوادر، ڈی جی خان، بلوچستان اور دیگر علاقے شامل ہیں۔

جماعت اسلامی نے بلوچستان اسمبلی کے جعفرآباد کے حلقہ پی بی 16 پر بڑا اپ سیٹ کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے جس کے مطابق جماعت اسلامی امیدوار عبدالمجید بادینی 19189 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے ہیں اور انہوں نے مسلم لیگ ن کی امیدوار راحت فاٸق جمالی کو شکست دی جو صرف 14231 ووٹ حاصل کر سکے ہیں۔

مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے ارکان بھی مختلف حلقوں میں اپنی اپنی جیت کے دعوے کرتے ہوئے جشن منا رہے ہیں۔سیالکوٹ سے مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے آزاد امیدوار ریحانہ ڈار کے خلاف 30 ہزار کی برتری کا دعویٰ کیا ہے۔ ان کے کارکنوں نے بھی جشن منانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔لاہور میں آزاد امیدوار لطیف کھوسہ کے حامی بھی ان کی رہائش گاہ پر کامیابی کا دعویٰ کرتے ہوئے جشن منا رہے ہیں۔سیاسی جماعتوں کے دعوے اور جشن تو جاری ہیں لیکن الیکشن کمیشن کی جانب سے ابھی تک صرف چند ہی نتائج کا اعلان کیا گیا ہے۔

تاہم ملک بھر میں ووٹنگ کا عمل ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی اور غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ووٹنگ کا عمل ختم ہوتے ہی قوم نتائج کو دیکھ رہی ہے جبکہ بڑی سیاسی جماعتیں اپنی اپنی اکثریت کے دعوے کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔ یہیں عام افراد کے ذہنوں میں سوال ابھرتا ہے کہ وفاق میں حکومت بنانے کے لیے کسی بھی سیاسی جماعتوں کو کتنی نشستوں کی ضرورت پڑے گی۔سیاسی مبصرین کے مطابق وفاق میں وہی سیاسی جماعت حکومت بنا سکے گی جس کے پاس سادہ اکثریت یعنی کم سے کم 134 نشستیں ہوں گی اور اسی جماعت کو حکومت بنانے کے لیے مجموعی طور پر 169 نشستوں کی ضرورت ہوگی۔مذکورہ جماعت کو 134 جنرل نشستوں پر خواتین اور اقلیتوں کی 35 نشستیں ملیں گی، جس کے بعد وہ حکومت بنانے کے قابل ہوگی۔قومی اسمبلی کی عمومی نشستیں 266 ہیں جبکہ خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں شامل کرکے کل نشستیں 336 بنتی ہیں۔

خواتین اور اقلیتوں کی نشستیں ہر جماعت کو ان کی جنرل نشستوں کے حساب سے الاٹ کی جاتی ہیں جو سیاسی پارٹی جتنی زیادہ جنرل نشستیں جیتے گی، اسے خواتین اور اقلیتوں کی نشستیں زیادہ ملیں گی۔یوں کسی بھی سیاسی جماعت کو قومی اسمبلی میں سادہ اکثریت کیلئے 169 نشستیں درکار ہوں گی اور وہ حکومت بنانے کے اہل ہوگی۔

اس وقت تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت 169 نشستیں لینے کی پوزیشن میں دکھائی نہیں دیتی، بڑی پارٹیوں کو چھوٹی جماعتوں سے اتحاد کرکے حکومت بنانی پڑے گی، زیادہ تر تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) سب سے زیادہ قومی اسمبلی کی نشستیں جیتے گی، تاہم بعض مبصرین کے مطابق آزاد امیدوار اور پاکستان پیپلز پارٹی بھی حیران کن نتائج دے سکتی ہے۔تاہم اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔

Back to top button