انڈیا اور پاکستان کے سوا ارب عوام جنگ کا ایندھن بننے کے منتظر

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار عاصمہ شیرازی نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا کے دو نیوکلیئر ہمسائیوں انڈیا اور پاکستان کی سوا ارب سے زائد آبادی اب چند فیصلہ سازوں کے رحم و کرم پر ہے کہ کس کے ہاتھ سے کون سا بٹن کب دب جائے۔ انڈیا کی جانب سے دھمکیوں کے بعد پاکستان میں ’الف سے ایٹم، اور ب سے بم‘ والی صورت حال بنی ہوئی ہے۔ گذشتہ دو ہفتوں سے مشرقی سرحد کے دونوں جانب بسنے والے کروڑوں بچوں کی الف، ب یہی ہے۔ جنگ و جدل کے اس ماحول میں جلتی کا تیل دونوں اطراف کا میڈیا ڈال رہا ہے۔
بی بی سی اردو کے لیے اپنے تازہ تجزیے میں عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ’ایٹم‘ کے آتش فشاں پر بیٹھی انڈیا اور پاکستان کی سوا ارب آبادی جنگ کا ایندھن بننے کی منتظر ہے۔ دنیا کی نظریں ان دو جوہری ممالک پر ہیں اور دوسری جانب ایک بڑی ریاست دنیا کی تیسری بڑی معیشت اور سب سے بڑی جمہوریت کا پاسدار انڈیا خطے کو جنگ میں دھکیلنے کے لیے بےتاب ہے۔ عاصمہ کا کہنا ہے کہ پہلگام حملے نے بلاشبہ انڈیا ہی نہیں بلکہ پورے خطے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایک بے یقینی ہے جو ماحول پر چھائی ہے۔ بھارت کا خیال ہے کہ پاکستان نے جعفر ایکسپریس پر حملے کا جواب پہلگام میں حملہ کروا کر دیا ہے جبکہ پاکستان اسے بھارت کا اپنا فالس فلیگ آپریشن قرار دے رہا ہے جس کا مقصد پاکستان کو بدنام کرنا ہے۔
پاکستان انڈیا سٹاک مارکیٹیس مندی کا شکار ہیں، ایک دوسرے کی فضائی حدود بند کر دی گئی ہیں جبکہ انڈیا کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کے یک طرفہ اعلان نے ’پانی‘ پر ’جلتی‘ کا کام کیا ہے۔ پاکستان نے بھارتی فیصلے کو اعلان جنگ قرار دیا ہے۔
پاکستان بھی بھارت کے لیے اپنے بحری، فضائی اور ہر طرح کے تجارتی راستے مسدود کر کے بھرپور جواب رہا ہے۔ پاکستان نے اپنے دو خطرناک ترین میزائلوں کے تجربات بھی کر دیے ہیں اور رانا ثنا اللہ نے یہ بیان بھی داغ دیا ہے کہ یہ میزائل ایٹمی ہتھیار لے کر جانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ اس سے پہلے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف فرما چکے ہیں کہ اگر بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو نیوکلیئر آپشن بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔ مختصر یہ کہ موجودہ صورت حال میں نفرت بک رہی ہے اور اس کے سوداگر دامن پھیلائے ہر سو تیار ہیں۔
عاصمہ شیرازی کے بقول میڈیا وار فئیر کا دور ہے لہازا ہر سو ہیجان ہے جبکہ ہمارے پڑوس کی ٹی وی چینلز ہوں یا اخبارات، چند ایک کے سوا سب جنگی جنون کا شکار ہیں۔ دشمن ملک کے صحافی ہر رات پاکستان کو تباہ کر کے سوتے ہیں اور پھر صبح سویرے اسی کام پر دوبارہ لگ جاتے ہیں۔ آگ نکالتے منہ اور شعلہ اگلتی زبانیں ہمہ وقت دوزخ کا نظارہ پیش کر رہی ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ پہلگام واقعے کا فائدہ کس کو ہوا ہے؟ اگر انڈیا اس کا بینفشری نہیں تو بھی اس کے فائدے کے نقصان کا شکار ضرور ہے۔ عاصمہ شیرازی کو خدشہ ہے کہ کوئی تیسری قوت اس صورت حال کا فائدہ اٹھا سکتی ہے تاکہ ہمسایہ ممالک پاکستان اور ایران بھی ویسی ہی جنگ کی لپیٹ میں آ جائیں جس کا شکار مشرق وسطیٰ ہے۔ یعنی انڈیا بہانہ ہے اور پاکستان اصل نشانہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران صورت حال کو بھانپ کر دونوں ممالک کے مابین ثالثی میں کردار ادا کرنا چاہ رہا ہے۔
خاتون اینکر پرسن سوال کرتی ہیں کہ کیا وجہ ہے کہ پہلگام حملے کے چند لمحوں بعد ہی انڈین میڈیا نے ریاست ہند سے بھی پہلے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانا شروع کر دیا؟ وہ سوال کرتی ہیں کہ کیا وجہ ہے کہ انڈیا اس معاملے پر دو ہفتے گزر جانے کے باوجود کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کر سکا؟ کیا وجہ ہے کہ انڈیا کا ہر پراپیگنڈا ماضی کے برعکس اس بار عالمی میڈیا پر سر چڑھ کر نہیں بول رہا۔ سوال یہ بھی ہے کہ مودی کے جگری دوست امریکی صدر ٹرمپ نے بھی اس مرتبہ ان کا ساتھ کیوں نہیں دیا؟
عاصمہ شیرازی کہتی ییں کہ پاکستان کو پہلگام حملے سے جوڑ بھی دیں تو اسے کیا فائدہ ہوا؟ سوال یہ بھی ہے کہ کیا پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اتنی بے وقوف ہے کہ وہ پہلگام میں ایک ایسے وقت میں حملہ کرواتی جب وہاں امریکہ کا نائب صدر سرکاری دور پر گیا ہوا تھا۔ ویسے بھی یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان کی کمزور معیشت چند روز کی جنگ بھی برداشت نہیں کر سکتی۔ اس لیے کامن سینس یہی کہتی ہے کہ پہلگام حملے میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ نہیں تھا۔
دوسری جانب پانی کی شدید کمی کا شکار پاکستان کسی صورت بھی آبی جارحیت کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ پاکستانی معیشت جو پہلے ہی آئی ایم ایف کی چھری تلے ہے اور کسی طور آزاد فیصلے نہیں کر سکتی وہ کیسے جنگ کی حمایت کر سکتی ہے۔ البتہ اس جنگی ماحول اور ترانوں کی گونج میں پاکستان کی جنتا فوج کے ساتھ کھڑی ہے جو قومی یک جہتی اور حب الوطنی کا نتیجہ بن رہی ہے تاہم قوم کو جذباتی نعروں کی نہیں بلکہ ہوش مندانہ فیصلوں کی ضرورت ہے۔ عاصمہ شیرازی سوال کرتی ہیں کیا ہم تیسری عالمی جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں یا کسی نئی صف بندی کا اشارہ ہے۔ چین کی پاکستان کے ساتھ غیر مشروط حمایت اور حال ہی میں نئے فضائی دفاعی نظام کی ڈیل کی شنید کسی اور طرف اشارہ کر رہی ہے۔ انڈیا کے براہموس کا ہدف یقینی طور پر پاکستان نہیں لیکن پاکستانی شاہین اور ابدالی کا ہدف یقینی طور پر انڈیا ہی ہے۔
جنگی جنون کو ہوادینےکے بعد مودی سرکار پیچھے کیوں ہٹنےلگی؟
سینیئر اینکر پرسن کا کہنا ہے کہ چین کا یوں پاکستان کے سائے کے طور پر کھڑاہونا یہ پیغام ہے کہ پاکستان کا دفاع دراصل چین کا دفاع اور پاکستان پر حملہ چین پر حملہ ہے۔ یہ ’بفر زون‘ چین کے لیے انتہائی اہم ہے۔ چین اپنی غیر جذباتی سفارت کاری کے برعکس جذباتی طور پر پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے جو معنی رکھتا ہے۔ تو کیا یہی وجہ ہے کہ انڈیا اب تک پاکستان پر حملہ نہیں کر سکا؟ اگر محدود حملہ کیا بھی گیا تو اندیشہ ہے کہ ایسا محض عوامی حلقوں کے دباؤ کے تحت کیا جا سکتا ہے۔ امریکہ کی جانب سے پہلگام حملے پر مجموعی ردعمل متوازن ہے۔ امریکی سیکرٹری خارجہ مارکو روبیو پاکستان اور انڈیا پر بات چیت کے ذریعے حل نکالنے اور براہ راست رابطوں پر زور دے رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے فوری مشیر قومی سلامتی کا تقرر کیا ہے، ڈی جی آئی ایس آئی جنرل عاصم ملک کی تقرری اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ انہیں مغربی حلقوں میں احترام سے دیکھا جاتا ہے جبکہ پاکستان یہ پیغام بھی دے رہا کہ بات چیت سلامتی کے لینز سے ہی ہو گی۔
تاہم اس سب کے باوجود سوا ارب سے زائد آبادی اب چند طاقتعر فیصلہ سازوں کے رحم و کرم پر ہے کہ کس کے ہاتھ سے کون سا بٹن کب دب جائے۔ کاش امن کا بھی کوئی بٹن ہو جسے دبا دیا جائے۔
