پاکستان سے روابط توڑنا بھارت کے مفاد میں نہیں، سابق بھارتی وزیر

بھارتی کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر مانی شنکر ائیر نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات منقطع رکھنا بھارت کے حق میں نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نئی دہلی کو چاہیے کہ اسلام آباد کے ساتھ مسلسل مکالمہ جاری رکھے کیونکہ یہی دونوں ممالک کے درمیان دیرپا امن کا واحد راستہ ہے۔
مانی شنکر ائیر، جو ماضی میں کراچی میں بھارت کے قونصل جنرل کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں، نے بھارتی جریدے فرنٹ لائن میں شائع اپنے تازہ مضمون میں سوال اٹھایا کہ "ہم امریکا پر اتنا بھروسہ اور پاکستان پر اتنا عدم اعتماد کیوں کرتے ہیں؟”
انہوں نے لکھا کہ پاکستان سے مکمل علیحدگی اور داخلی سیاسی فائدے کے لیے اس کے خلاف غصہ بھڑکانا بھارت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔ اس طرزِ عمل سے نہ صرف قومی ہم آہنگی متاثر ہوتی ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھارت کی حمایت بھی کمزور پڑتی ہے۔
سابق وزیر کے مطابق بھارت کو پرانی شکایات اور دشمنیوں کو برقرار رکھنے کے بجائے دوبارہ بات چیت کا سلسلہ بحال کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا:
"آگے بڑھنے کا واحد درست راستہ پاکستان کے ساتھ غیر منقطع اور بلا رکاوٹ مکالمہ ہے — ایسا مکالمہ جو اختلافات یا کشیدگی کے باوجود جاری رہے۔”
اپنے مضمون میں مانی شنکر ائیر نے لکھا کہ ماضی میں فوجی ادوار بھارت کے لیے زیادہ قابلِ بھروسہ رہے ہیں۔ ایوب خان کے دور میں سندھ طاس معاہدہ، ضیاء الحق کا سیاچن فریم ورک اور پرویز مشرف کا چار نکاتی کشمیر پلان اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔ ان کے مطابق بھارت کا پاکستان پر عدم اعتماد دراصل قائداعظم محمد علی جناح کی سیاسی فتح سے شروع ہوا، جسے بھارت ابھی تک قبول نہیں کر سکا۔
مانی شنکر ائیر نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کے پاس آج بھی پاکستان سے مذاکرات کی کئی وجوہات موجود ہیں۔ ان کے مطابق پرانے زخموں کو بار بار کریدنے سے نہ کوئی فائدہ ہوتا ہے اور نہ ہی یہ عمل دونوں ممالک کے درمیان امن و استحکام کے امکانات کو بڑھاتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی لکھا کہ پاکستان سے رابطہ منقطع رکھنے سے سرحد پار دہشت گردی میں کوئی کمی نہیں آئی، بلکہ اس سے بھارت کے لیے موجود عوامی خیرسگالی ختم ہو رہی ہے، جب کہ دشمن عناصر کو بھارت مخالف بیانیہ پھیلانے کا موقع مل رہا ہے۔
سابق وزیر کا کہنا تھا کہ بھارت کا یہ رویّہ کہ وہ اپنی شکایات کو بنیاد بنا کر برتری کے احساس میں مبتلا رہے، کسی کو متاثر نہیں کرتا۔ ان کے بقول، "یہ سوچ کہ بھارت ایک ایسے ملک سے بہتر ہے جس کی آبادی آٹھ گنا کم اور معیشت دس گنا چھوٹی ہے، دراصل نقصان دہ ہے۔”
یاد رہے کہ مانی شنکر ائیر بھارتی فارن سروس میں 26 سال تک خدمات انجام دے چکے ہیں، چار مرتبہ رکنِ پارلیمنٹ رہ چکے ہیں اور 2004 سے 2009 تک مرکزی کابینہ میں وزیر رہے۔
