نگراں وزیر اعظم کی کنیت کا پہلا لفظ ’ جے ‘ نہیں’کے‘ ہو گا؟

قومی اسمبلی کی تحلیل کےبعد آئندہ نگران وزیراعظم کے نام بارے قیاس آرائیوں میں شدت آ گئی ہے تاہم باوثوق ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ ابھی تک سامنے آنے والے ناموں میں سے کوئی بھی نگراں وزیر اعظم مقرر نہیں کیا جا رہا۔ قابل اعتماد ذرائع کا مزید دعوی ہے کہ آئندہ نگران وزیر اعظم منتخب ہونےوالے فرد کی کنیت کا پہلا لفظ "جے” نہیں بلکہ "کے” ہو گا یعنی اس کے نام کا آخری حصہ خان، خٹک، کاکڑ یا کیانی ہو گا اور اس کا تعلق کسی چھوٹے صوبے سے ہو گا۔ ذرائع کا مزید دعوی ہے کہ ابھی تک نگراں وزیر اعظم کیلئے سامنے آنے والے ناموں میں اس کا نام شامل نہیں ہے۔
پاکستان میں ان دنوں سب کی نظریں نگراں وزیراعظم کے تقرر کی طرف جڑی ہیں۔ عقدہ ہے کہ کھلنے میں نہیں آرہا۔ تاہم اس سارے معاملے میں ایک بات دلچسپ ہے کہ جو بھی نام کسی بھی طریقے سے منظرعام پر آیا یا لایا گیا اس نام نے کم سے کم چوبیس گھنٹوں ٹی وی سکرینوں پر راج کیا۔ کئی نام تو ایسے ہیں جن کی بازگشت کئی دن تک سنائی دی۔ایک نظر ڈالتے ہیں کہ اب تک وہ کون سے نام ہیں جنہوں نے نگراں وزیراعظم کے لیے عوام کی توجہ حاصل کی۔
نگراں وزیراعظم کے تقرر کی گھمن گھیری میں سنجیدہ حلقوں سے جو پہلا نام سامنے آیا وہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا تھا۔ ایک اخبار نے اپنے ذرائع سے یہ خبر شائع کی تو دیکھتے ہی دیکھتے اسحاق ڈار کا نام ہر ایک کی زبان پر تھا۔صورت حال اس وقت دلچسپ ہوئی جب مسلم لیگ ن کی قیادت نے برملا اس بات سے انکار نہیں کیا۔ البتہ خواجہ آصف سمیت ایک دو رہنماؤں نے دبے لفظوں میں کہا کہ یہ فیصلہ صائب نہیں ہوگا۔تاہم انہوں نے یہ نہیں کہا کہ سرے سے یہ نام زیرغور ہے ہی نہیں۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ یہ نام خود مسلم لیگ ن کے حلقوں کی طرف سے جاری کیا گیا۔
حکومت کی جانب سے کھل کر پالیسی کا اظہار نہ ہونے کے باعث اسحاق ڈار کے نام پر پیپلز پارٹی اور دیگر کے تحفظات کے بعد اچانک حفیظ شیخ کا نام نمودار ہوا۔سیاسی مبصرین اس نام کو اسٹیبلشمنٹ کے کھاتے میں ڈال رہے ہیں۔ دو دن تک یہ نام بھی ٹی وی سکرینوں پر رہا۔
سٹیٹ بینک کے سابق سربراہ رضا باقر کا نام حفیظ شیخ کے متبادل کے طور پر آیا اور اس حوالے سے بھی کئی تال میل جوڑے گئے۔تاہم حفیظ شیخ کے مقابلے میں یہ نام زیادہ دیر سکرین پر ٹِک نہ سکا۔ جب تجزیہ کاروں اور سیاسی دماغوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ کوئی سیاسی شخص بھی تو نگراں ہو سکتا ہے۔ تو صورت دوسری طرف چل پڑی۔
سیاسی پنڈت اسحاق ڈار اور حفیظ شیخ کے ناموں کی توجیحات یہ تلاش کرتے رہے کہ چونکہ ملک میں معاشی بحران ہے اس لیے کوئی ماہر معیشت ہی نگراں وزیراعظم ہوگا۔جب شاہد خاقان عباسی کا نام اچانک نمودار ہوا تو کسی حد تک اس کو بھی معاشی خاکے سے جوڑا گیا۔خود شاہد خاقان عباسی نے اس کی تردید کرنے کے بجائے کہا کہ اگر انہیں یہ کام سونپا گیا تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ اس نام نے بھی 24 گھنٹے تک تجزیہ کاروں کو تجزیاتی ایندھن مہیا کیے رکھا۔
جب سیاسی اندازے کچھ کم ہونا شروع ہوئے تو ایک جملہ جو تواتر سے سننے میں مل رہا تھا وہ یہ تھا کہ ’سرپرائز‘ ہو گا۔ بس اس سرپرائز کے ساتھ بمشکل ایک دو روز ہی گزرے ہوں گے کہ اچانک تمام حلقوں میں جلیل عباس جیلانی کا نام نمودار ہوا جو کہ سیکرٹری خارجہ بھی رہ چکے ہیں۔ٹی وی سکرینوں پر نام آتے ہیں خبر کی درستی کو چیک کرنے کے لیے متعدد صحافیوں نے جیلانی صاحب کو مبارک باد کے پیغام بھی بھیج دیے اور انہوں نے بھی بغیر توقف کے شکریہ ادا کیا۔صحافی برادی میں ان کے شکریے کے جوابی پیغامات کو سند کے طور پر پیش کیا گیا اور جب طوفان تھما تو بات عیاں ہوئی کہ یہ نام پیپلز پارٹی کی جانب سے تجویز کیا گیا تھا حتمی نہیں تھا۔
جمعرات کو جب اپوزیشن لیڈر راجا ریاض وزیراعظم سے نگراں سیٹ کی مشاورت کے لیے پی ایم ہاؤس پہنچے تو ایک دم سکرینوں پر خاموشی چھا گئی کہ ابھی اندر سے کچھ نکلے گا۔ اور پھر نکل آیا۔اس بار چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے نام نے ماحول ہی بدل دیا۔ اس نام کو اپوزیشن لیڈر راجا ریاض کی تجویز سے موسوم کیا گیا۔تاہم جب وہ ملاقات کے بعد نکلے تو انہوں نے کوئی بھی نام بتانے کے بجائے کہانی اس حد تک سادہ کی کہ چھ نام میز پر آچکے ہیں تین جو ان کے تجویز کردہ تھے اور تین وزیراعظم کے، تاہم انہوں نے فہرست میں شامل نام بتائے نہیں صرف اتنا کہا کہ کل دوبارہ نشست ہوگی۔
اس شدید تجزیہ و تبصرہ نگاری میں کچھ ایسے نام بھی اُبھرے جو زیادہ دیر تک سکرین پر رہنے کا اعزاز تو حاصل نہ کرسکے البتہ کچھ دیر کی گردش میں ہی مبارک بادیں وصول کرتے رہے۔ان ناموں میں نجم سیٹھی، کامران ٹیسوری، فواد حسن فواد، جسٹس (ریٹائرڈ) تصدق حسین جیلانی اور جسٹس (ریٹائرڈ) خلیل الرحمان رمدے شامل ہیں۔
سنجیدہ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اس قدر کنفیوژن کی بڑی وجہ یہ ہے کہ جہاں بھی نگراں سیٹ اپ کے فیصلے ہو رہے ہیں وہاں سے معلومات باہر نہیں آرہیں، اور یہ کنفیوژن اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک حتمی نام سرکاری طور پر سامنے نہیں آجاتا۔
دوسری جانب ایک حلقے کا خیال ہے کہ راجہ ریاض احمد نے اس نام کی پرچی اپنی جیب میں ڈال رکھی ہے جو انہیں راولپنڈی سے موصول ہوئی ہے وہ عین آخری لمحات میں اسے کھول کر شہباز شریف کے سامنے رکھ دیں گے۔عبوری وزیراعظم شہباز شریف اور سابق قائد حزب اختلاف کے درمیان نگراں وزیراعظم کے تقرر کے حوالے سے آئندہ چوبیس گھنٹے میں کسی حتمی مہم پر مفاہمت نہ ہوسکی تو اس کا اختیار دونوں کے ہاتھ سے نکل جائے گا پھر پارلیمانی کمیٹی کے نمائندہ ایک مرحلے کے بعد فیصلے کا اختیار الیکشن کمیشن کے پاس چلا جائے گا۔ جو نگراں وزیر اعظم کا تقرر کرے گا۔ تاہم ذرائع کا دعوی ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض میں
وزیراعظم شہباز شریف کی اہلیہ علالت کے باعث اسپتال میں داخل
ایک نام پر اتفاق ہو جائے گا۔
