مخصوص نشستوں پر وضاحت:آئینی ترمیم کا معاملہ لٹکنے کا امکان

مخصوص سیٹوں کےحوالے سے سپریم کورٹ کی الیکشن کمیشن کی درخواست سے متعلق وضاحت کے بعد مجوزہ  آئینی ترمیم  کا معاملہ بھی لٹک  گیا ہے۔

ذرائع کےمطابق حکومت نےآئینی ترمیم پارلیمنٹ میں پیش کرنےکی پوری تیار ی کرلی ہے۔مگرحکومت کوابھی کئی چیلنجز کا سامنا کرناپڑےگا۔الیکشن کمیشن بھی مخصوص سیٹوں پر عدالتی فیصلے پر عمل نہ کرنےکے باعث مشکلات میں ہے۔جنرل الیکشن90 دن  کی مدت کےاندرنہ کرانےکےحوالے سےالیکشن کمیشن پر سنجیدہ سوالات اٹھائےجارہے ہیں۔اسی طرح8فروری کےالیکشن کی شفافیت سے متعلق بھی الیکشن کمیشن تنقید کی زد میں ہے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی دھاندلی کا الزام الیکشن کمیشن پر ہی لگا رہی ہے۔

ایڈووکیٹ عبد المعیز جعفری نے کہا کہ سپریم کورٹ نےسمجھاہےکہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو  سیاسی جماعت کہا اور پھر بھی وہ کوشش کررہاہےکہ  انٹرا پارٹی الیکشن کی کوتاہی کے تحت ہی  پارٹی کے ارکان کو شناخت سےمحروم رکھا جا سکے۔

سپریم کورٹ نے وضاحت کی درخواست میں سمجھا کہ  غیر مصدقہ وجوہات کی بنا پر عدالت کے احکامات پر عمل  میں جان بوجھ کر تاخیر کی جارہی ہے۔  یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اگرجمعیت علمائے اسلام کے قانون ساز  بھی آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دےدیں تو پھر بھی حکومت کے پاس دونوں ایوانوں  میں تین ارکان کی کمی موجود ہے۔

سابق ایڈیشنل جنرل طارق محمودکھوکھرنے کہاکہ سپریم کورٹ کی وضاحت مکمل استثنیٰ کےساتھ کام کرنے والے الیکشن کمیشن کو عدالت کی سرزنش ہے ۔ سپریم کورٹ کےحکم نےالیکشن کمیشن کواس کی غیرقانونی چالوں اوراسکے نتائج کی یاد دہانی کرائی۔

Back to top button