پنجاب اسمبلی میں جھڑپ، خالد نثار،امتیاز محمود 15 اجلاسوں کیلئےمعطل

پنجاب اسمبلی میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہاتھا پائی میں بدل گیا، جس کے نتیجے میں قائم مقام سپیکر ظہیر اقبال چنڑ نے اپوزیشن ارکان خالد نثار ڈوگر اور شیخ امتیاز محمود کو 15 اجلاسوں کے لیے معطل کر دیا۔
ایوان میں جھگڑا اس وقت شروع ہوا جب حکومتی رکن احسان ریاض اور اپوزیشن رکن خالد نثار ڈوگر کے درمیان گرما گرم بحث کے بعد نوبت ہاتھا پائی تک جا پہنچی، جس میں صوبائی وزیر ذیشان رفیق بھی شامل ہو گئے۔ وزیر قانون صہیب بھرتھ، عاشق کرمانی اور دیگر اراکین نے مداخلت کر کے بیچ بچاؤ کی کوشش کی، مگر ماحول میں تناؤ برقرار رہا۔
ہنگامہ آرائی کے بعد اپوزیشن ارکان نے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ واقعے کے ردعمل میں اسپیکر نے دو اپوزیشن ارکان کو 15 اجلاسوں سے معطل کرنے کا حکم دیا۔ سیاسی کشیدگی صرف ایوان تک محدود نہ رہی بلکہ میڈیا ہال تک پھیل گئی۔
اجلاس کے بعد جب اپوزیشن ارکان میڈیا سے گفتگو کے لیے میڈیا ہال پہنچے تو وہاں موجود حکومتی ارکان کے ساتھ مبینہ طور پر کچھ افراد نے اپوزیشن ارکان کو نازیبا اور ننگی گالیاں دیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق یہ افراد حکومتی ارکان کے گارڈز تھے۔ جن اپوزیشن ارکان کو نشانہ بنایا گیا، ان میں احمد مجتبیٰ، اسامہ، اعجاز شفیع، محمد علی اور خالد نثار ڈوگر شامل تھے۔
ڈپٹی اپوزیشن لیڈر نے واقعے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ یہ نامعلوم افراد کون تھے اور انہیں ارکانِ اسمبلی کو گالیاں دینے کی جرات کیسے ہوئی۔ انہوں نے اسے ایوان کے تقدس کے خلاف قرار دیا۔
یاد رہے، یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ پنجاب اسمبلی میں اس نوعیت کی کشیدگی سامنے آئی ہو۔ اس سے قبل جون 2025 میں بھی اپوزیشن کے 26 ارکان کو وزیراعلیٰ مریم نواز کی بجٹ تقریر کے دوران ہنگامہ آرائی پر 15 اجلاسوں کے لیے معطل کیا گیا تھا، تاہم یہ معطلی 22 جولائی کو مذاکرات کے بعد ختم کر دی گئی تھی۔
