سندھ اور بلوچستان میں ڈھائی مہینے کیلئے CNG سٹیشنز بند

ملک بھر میں گیس بحران شدت اختیار کر گیا ہے ، سندھ اور بلوچستان میں ڈھائی مہینے کے لیے سی این جی سٹیشنز بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، لاہور ، کراچی سمیت مختلف شہروں میں گیس بندش سے عوام پریشا ہیں ، گیس کی فراہمی معطل ہونے سے گھروں میں کھانا پکانا انتہائی دشوار ، شہری ہوٹلوں سے مہنگا کھانا خریدنے پر مجبور ہوگئے۔
سیکرٹری پیٹرولیم نے گھروں میں سلینڈر کے استعمال کا مشورہ دیدیا ، کراچی کے کئی علاقوں میں آٹھ آٹھ گھنٹے گیس کی بندش کی شکایات ہیں جبکہ کوئٹہ میں بھی سردی کی شدت کے ساتھ گیس نہیں مل رہی۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ایل پی جی سلنڈر کے استعمال کے باعث کھانا بھی قوت خرید سے باہر ہوگیا ہے۔دوسری جانب ہوٹل مالکان نے بھی گیس پریشر میں کمی کے باعث ایل پی جی سلینڈر کا استعمال شروع کردیا ہے۔
کراچی میں سی این جی سٹیشنز کو ڈھائی ماہ کے لئے گیس بند کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ سوئی سدرن کے مطابق غیر برآمدی صنعتوں سکو پہلے ہی گیس کی سپلائی بند کردی گئی ہے ، اب سی این جی اسٹیشنز کو 1 دسمبر 2020 سے 15 فروری 2022 تک گیس کی فراہمی بند رہے گی۔
یہ بھی پڑھیں: جون ایلیا اپنے بچوں کے لئے زندگی میں ہی کیوں مر گئے تھے؟
سوئی سدرن نے کہا کہ گھریلو صارفین کی ضروریات پوری کرنے کے لئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے، لوڈ مینجمنٹ کے تحت گھریلو صارفین کی ضرورت پوری کرنے کے لیے سی این جی سیکٹر کو گیس کی فراہمی بند کی جائے گی ، طلب و رسد کا فرق بڑھ جانے سے یہ فیصلہ کیا گیا ، تاہم زیرو ریٹڈ صنعتیں بشمول کیپٹو پاور پلانٹس کو گیس کی سپلائی بحال ہے۔
