آئینی ترمیم: حکومت کو نمبر گیم میں مشکلات، اتحادی جماعتوں سے رابطے تیز

 

 

27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے مرحلے پر حکومت کو ایوانِ بالا میں مطلوبہ اکثریت کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔ حکومتی اتحاد کو ترمیم منظور کرانے کے لیے درکار ووٹوں کی کمی پوری کرنے کےلیے متحرک کر دیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق حکمران اتحاد کے پاس آئینی ترمیم کےلیے اس وقت 2 ووٹ کم ہیں۔مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عرفان صدیقی علالت کے باعث ہاسپٹل میں زیرِ علاج ہیں جب کہ چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اپنی آئینی حیثیت کے باعث ووٹ کاسٹ نہیں کرسکتے۔ان دونوں ووٹوں کی عدم دستیابی نے حکومت کےلیے صورت حال پیچیدہ بنا دی ہے۔

حکمران اتحاد کے پاس اس وقت 62 اراکین کی حمایت موجود ہے، جب کہ آئینی ترمیم کےلیے 64 ووٹ درکار ہیں۔اس صورت حال میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے مشترکہ حکمتِ عملی پر غور کےلیے مشاورت تیز کردی ہے۔ نیشنل پارٹی کے سینیٹرز کو قائل کرنے کےلیے بھی حکومتی رابطے بڑھادیے گئے ہیں۔

سینیٹ میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے 20، پیپلز پارٹی کے 26، بلوچستان عوامی پارٹی کے 4، ایم کیو ایم کے 3، نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ (ق) کے ایک ایک سینیٹرز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ آزاد سینیٹرز عبدالکریم، محسن نقوی، عبدالقادر، انوار الحق کاکڑ، اسد قاسم اور فیصل واوڈا بھی حکومتی اتحاد کا حصہ ہیں۔

اپوزیشن بینچوں پر بیٹھی آزاد سینیٹر نسیمہ احسان نے بھی حکومت کو ووٹ دینے کی یقین دہانی کرائی ہے، جبکہ اے این پی کے تین سینیٹرز نے بھی آئینی ترمیم کی حمایت کا عندیہ دیا ہے۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پوزیشن سخت ضرور ہے، مگر ہم نمبر گیم پورا کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

 

Back to top button