حکومت کی KPK الیکشن کے دوسرے مرحلے سے فرار کی کوشش

وزیراعظم عمران خان نے خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں تحریک انصاف کی بدترین پرفارمنس کے بعد بہانہ بازی کرتے ہوئے بلدیاتی الیکشن کا دوسرا مرحلہ ملتوی کروانے کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے رجوع کرلیا ہے۔ تاہم تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ ان انتخابات کا اگلا مرحلہ جب بھی ہو، تحریک انصاف کی شکست نوشتہ دیوار ہے کیونکہ اگلے مرحلے میں بلدیاتی الیکشن ان علاقوں میں ہونے جا رہا ہے جنہیں اپوزیشن خصوصا نواز لیگ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔
تحریک انصاف کے اندرونی حلقوں کا کہنا ہے کہ پارٹی قیادت کی جانب سے پہلے مرحلے میں خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات ان علاقوں میں کروائے گئے جنہیں پی ٹی آئی کا گڑھ سمجھا جاتا تھا تاکہ یہاں سے کامیابی سمیٹ کر فائدہ اٹھایا جائے اور اگلے مرحلے میں ن لیگ اور جے یو آئی ف کے روایتی حلقوں سے بھی سیٹیں جیتی جائیں۔ تاہم کپتان کی دانست میں پہلے مرحلے میں انتہائی غیر متوقع شکست کے بعد انھیں اگلے مرحلے میں بھی یقینی شکست دکھائی دینے لگی ہے۔ دوسری مصیبت یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کے بعد پنجاب میں بلدیاتی انتخابات ہونا ہیں لہذا کپتان کو صاف نظر آ رہا ہے کہ یہاں ن لیگ کو ہرانا تقریباً ناممکن ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم کی ہدایت پر پر موسم سرما کی شدت کو بنیاد بناتے ہوئے خیبر پختونخوا کی حکومت نے الیکشن کمیشن سے آئندہ ماہ ہونے والے بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست کر دی ہے۔
اسکے علاوہ عمران خان نے 24 دسمبر کے روز تحریک انصاف کی ملک بھر میں تنظیمیں توڑنے کا اعلان بھی کر دیا یے تا کہ نئے سرے سے پارٹی کی تنظیم سازی کرکے کے بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں اپنی پوزیشن بہتر کرنے کی کوشش کی جا سکے۔ ایسا کرنے کے لئے اسے وقت درکار ہے لہذا دوسرے مرحلے کے انتخابات ملتوی کروانے کی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ عمران خان نے پارٹی معاملات چلانے کے لئے جو 21 رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے اس میں بھی وہی لوگ شامل ہیں جن کی وجہ سے تحریک انصاف کو بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں اور اس سے پہلے ضمنی انتخابات میں پے در پے شکستوں کا سامنا کرنا پڑا۔ واضح رہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں ملک کے پہلے بلدیاتی یا مقامی انتخابات ہوئے ہیں جنہیں فیز ون کہا جارہا ہے کیونکہ یہ انتخابات دو مرحلوں میں ہو رہے ہیں جن میں سے ایک مرحلہ ابھی مکمل ہوا ہے۔ پہلے مرحلے میں حکمراں جماعت کے مقابلے میں جمعیت العلماء اسلام (ف) نے برتری حاصل کر لی ہے۔ یہ انتخابی نتائج مستقبل کے انتخابی رجحانات کی نشاندہی بھی کرتے ہیں اس لیے یقیناً پی ٹی آئی کے لئے ایک دھچکہ بھی ثابت ہوئے ہیں۔ پی ٹی آئی کے امیدوار کمزور اور اس کے وزراء اپنے علاقوں میں غیر موثر ثابت ہوئے۔ اب اگر پی ٹی آئی دوسرے انتخابی مرحلے میں اس سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر سکی تو یہ تاثر مزید پختہ ہو جائےگا کہ 2023 کے الیکشن کے جیتنا اس کے لیے ناممکن ہو چکا ہے۔
کےپی میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں بد ترین شکست کے بعد پی ٹی آئی حکومت نے صوبے میں 16 جنوری کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کوملتوی کرانے کے لئے الیکشن کمیشن سے رجوع کرتے ہوئے موسمی حالات کے باعث بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ مارچ میں کرائے کی درخواست دی ہے۔ صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی کا کہنا ہے کہ دوسرے مرحلے کے انتخابات میں ملاکنڈ اور ہزارہ کے پہاڑی علاقے شامل ہیں۔ دسمبر اور جنوری میں ان علاقوں میں برف باری ہوتی ہے اور موسم سرد ہونے کے باعث ان علاقوں کی اکثریتی آبادی میدانی علاقوں کا رخ کرتی ہے۔ صوبائی وزیرکے مطابق ان حالات میں الیکشن کے انعقاد سے آبادی کا بڑا حصہ ووٹ کے حق سے محروم ہوجائے گا۔ لہذا پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن سے رابطہ کیا ہے اور الیکشن ملتوی کرنے کی درخواست کی۔ تاہم الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے ۔
خیال رہے کہ خیبر پختونخوا بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں جمعیت علمائے اسلام تحصیل چیئرمین کی 18 اور سٹی میئر کی 3 نشستوں کے ساتھ پہلے نمبر پر رہی۔ تحریک انصاف نے تحصیل چیئرمین کی 13، آزاد امیدواروں نے 8، ن لیگ نے 3، جماعت اسلامی نے 2 اور پی پی نے ایک نشست جیتی ہے۔ دوسری جانب عمران خان نے انتخابات کے پہلے مرحلے میں مایوس کن کارکردگی پر ملک بھر میں تحریک انصاف کی تنظیموں کو تحلیل کر دیا ہے۔ بلدیاتی الیکشن میں پارٹی کارکردگی کے جائزہ اجلاس کے دوران عمران نے پارٹی کی کارکردگی پر عدم اعتماد کا اظہار کیا اور برہم ہوتے ہوئے کہا کہ ہماری جماعت اقربا پروری کی سیاست ختم کرنے کے لیے آئی تھی لیکن الیکشن میں پارٹی عہدیداروں نے اقربا پروری کی نئی مثالیں قائم کی جو بدترین کارکردگی کی وجہ بنی۔
اجلاس کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ عمران خان نے تنظیمی ڈھانچہ تحلیل کرتے ہوئے 21 رکنی کمیٹی تشکیل دی جس میں چاروں صوبوں اور وفاق سے اراکین شامل ہیں۔ بلدیاتی الیکشن کے اگلے مرحلے اور پنجاب کے ٹکٹس کا فیصلہ بھی یہی کمیٹی کرے گی۔ ان کے بقول اگر کسی کے رشتہ دار کو ٹکٹ دینا بھی پڑے تو اس کا فیصلہ مقامی قیادت نہیں کرے گی بلکہ معاملہ اس کمیٹی کے سپرد ہو گا اور وفاق میں فیصلہ ہو گا۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ تنظییمی ڈھانچہ تحلیل کرنے کا فیصلہ بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہے اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا کیونکہ جو لوگ الیکشن کے پہلے مرحلے میں ناکامی کے ذمہ دار ہیں انہی کو 21 رکنی کمیٹی کا ممبر بنا دیا گیا ہے۔ اس کمیٹی میں بھی پرویز خٹک، علی امین گنڈا پور، اسد قیصر، عاطف خان، شہرام ترکئی، شاہ فرمان اور علی محمد خان جیسے لوگ شامل ہیں جو کہ صوبے میں عوامی نفرت کا شکار ہو چکے ہیں۔ لہذا تحریک انصاف اور اسکی حکومت کی بگڑتی ہوئی صورتحال میں تبدیلی کی کوئی امید نہیں کی جا سکتی۔