حکومت کو منی بجٹ مسترد ہونے سے اپنے خاتمے کا خدشہ

‘
بظاہر فوجی اسٹیبلشمنٹ کی حمایت میں کمی آنے کے بعد خیبر پختونخواہ کے بلدیاتی الیکشن میں منہ کے بل گرنے والی پی ٹی آئی حکومت اب بڑھتی مہنگائی اور عوامی ردِعمل کے پیش نظر 360 ارب روپے کے منی بجٹ اور اسٹیٹ بینک کو خود مختاری دینے کے بل منظوری کیلئے پارلیمنٹ میں پیش کرنے سے گریز کر رہی ہے حالانکہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے مطابق اس کے لیے 12 جنوری تک ایسا کرنا لازمی ہے۔ تاہم حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اقتدار بچانا منی بجٹ پاس کروانے سے زیادہ ضروری ہے۔ اس سے پہلے کہا جا رہا تھا کہ وفاقی حکومت نے منی بجٹ پارلیمنٹ کی بجائے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے لانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ تاہم آئی ایم ایف نے یہ شرط عائد کر دی ہے کہ یہ بل پارلیمنٹ سے لازمی پاس کروایا جائے۔ بڑا مسئلہ یہ ہے کہ حکومت کو مزید ٹیکس لگانے اور مہنگائی بڑھانے کے حامل منی بجٹ پر اپنے ہی ممبران پارلیمینٹ کی اکثریت ملنے کا یقین نہیں لہذا وہ فوری منی بجٹ پیش کرنے سے گریزاں ہیں۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر منی بجٹ مسترد ہو جائے تو آئین کے تحت حکومت بھی ختم ہو جاتی ہے۔
ان حالات میں عالمی مالیاتی ادارے کی شرائط پر 360 ارب سے زائد کا منی بجٹ پاس کروانا اور عوام پر مزید ٹیکس لگانا عمران حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ اسی لیے حکومت نے منی بجٹ پاس کروانے کے لیے بلایا گیا اجلاس ملتوی کرتے ہوئے ایک بار پھر آئی ایم ایف سے منت ترلہ ٹائپ مذاکرات کی بھیک مانگ لی ہے۔
اس سے پہلے وزارت خزانہ نے وفاقی کو تجویز دی تھی کہ پارلیمنٹ سے منظوری طویل وقت لے سکتی ہے لہذا منی بجٹ کی فوری منظوری کے لیے مشترکہ اجلاس بلایا جائے۔ اس سے پہلے حکومت عالمی مالیاتی ادارے کی شرط کے مطابق بالواسطہ ٹیکسوں کی مد میں 360 ارب روپے حاصل کرنے کے لیے ضمنی مالیاتی بل 2021 کو کابینہ کی منظوری لینے کابینہ اجلاس میں لائی تھی۔ البتہ اس معاملے کو آخری لمحات میں روک دیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس اس وقت آئی ایم ایف کی شرائط ماننے کے سوا کوئی آپشن نہیں ہے۔ ان کے بقول منی بجٹ نہ لانے کی صورت میں آئی ایم ایف کی طرف سے ایک ارب ڈالر کی قسط پاکستان کو نہیں ملے گی اور پاکستان کے لیے ادائیگیوں کا توازن برقرار رکھنا مشکل ہوجائے گا۔ خیال رہے کہ آئی ایم ایف کا بورڈ اجلاس آئندہ ماہ 12 جنوری کو ہونا ہے اور اگر پاکستان آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالر قرض کی قسط حاصل کرنا چاہتا ہے تو پارلیمان کو منی بجٹ اور اسٹیٹ بینک کی خود مختاری کے بلوں کو منظور کرنا ہو گا۔ لیکن کپتان حکومت نے دونوں بلوں کی منظوری مؤخر کرنے کا فیصلہ ایسے وقت میں کیا ہے جب اسے اپنے گڑھ سمجھے جانے والے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں اپوزیشن جماعتوں کے ہاتھوں منہ کی کھانا پڑی ہے۔
حکومتی ارکان پارلیمینٹ خود بھی خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں شکست کی وجہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کو قرار دے رہے ہیں۔ مہنگائی کی اہنچی ہوتی لہروں کی وجہ سے حکومت پر بھی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے جس میں خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کے نتائج نے مزید اضافہ کردیا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں بعض حلقوں کی جانب سے یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ اگر آئی ایم ایف کے ساتھ حکومت کے منت ترلا مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو کیا پاکستان آئی ایم ایف کے ایک ارب ڈالر کی قسط کو مسترد کرتے ہوئے منی بجٹ نہ لانے کا فیصلہ بھی کر سکتا ہے؟
تاہم معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کے لیے ایسا کرنا ممکن نہیں ہے۔ قائد اعظم یونیورسٹی میں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کے پروفیسر عبدالجلیل کہتے ہیں کہ اس وقت پاکستان کے پاس آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کے سوا کوئی آپشن نہیں ہے۔ ان کے بقول اگر پاکستان آئی ایم ایف کے پاس نہ گیا تو ایک ارب ڈالر نہیں ملیں گے۔ اور پاکستان جب آئندہ پروگرام کے لیے عالمی مالیاتی ادارے سے بات کرے گا تو یہ مسئلہ آئے گا کہ پاکستان نے اپنا پروگرام مکمل نہیں کیا ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد آئی ایم ایف پروگرام لینے میں تاخیر کی اور پاکستان کو اس کا نقصان اٹھانا پڑا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت تک آئی ایم ایف سے جان نہیں چھڑا سکتا جب تک پاکستان کی معیشت کے بنیادی ڈھانچے میں اصلاحات نہیں کی جاتیں۔ عبدالجلیل سمجھتے ہیں کہ حکومت نے معیشت کی خراب صورتِ حال پر کچھ ایسے فیصلے کیے جن کی وجہ سے حکومت کو مزید مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے کچھ دن کے لیے ایکسچینج ریٹ کو مارکیٹ پر چھوڑا اور جب پاکستانی روپے کی قدر زیادہ کم ہوئی تو مارکیٹ میں ڈالر ڈال دیے۔ البتہ اس سے ہوا یہ کہ مارکیٹ میں ڈالر بھی آگئے اور ایکسچینج ریٹ بھی 180 تک پہنچ گیا۔
ڈاکٹر عبدالجلیل کے مطابق پاکستان کی حکومت اب اس مشکل صورتِ حال میں آگئی ہے کہ اسے دوبارہ آئی ایم ایف کی طرف ہی دیکھنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ اگر ہم ساٹھ سال سے بار بار آئی ایم ایف کے پاس جا رہے ہیں تو اس کا مطلب ہماری معیشت کے بنیادی ڈھانچے میں مسائل ہیں۔
دوسری جانب آئی ایم ایف کا مطالبہ ہے کہ 360 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگائے جائیں۔ اسکا یہ مطالبہ پری ریکوزٹ ہے یعنی پہلے ٹیکسز لگائے جائیں تو پھر قرضہ ملے گا۔اس کے بغیر آئی ایم ایف قرض کی ادائیگی پر بات ہی نہیں کرے گا۔ لیکن موجودہ حالات میں لگ رہا ہے کہ آئی ایم ایف اب یہ اجلاس ہی نہیں بلائے گا اور پاکستان کو ایک ارب ڈالر نہیں دے گا۔ یعنی اگر منی بجٹ نہیں آتا تو پاکستان آئی ایم ایف کے پروگرام سے باہر ہو جائے گا۔
