اسحاق ڈار کا نواسہ غیر ملکی خواتین کے اغوااور ریپ پر گرفتار

لاہور میں دو غیر ملکی خواتین کے اغوا، ان سے تاوان طلب کرنے اور انکے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے نواسے رضا ڈار سمیت پانچ افراد کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے چار کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ رضا ڈار مفرور ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کیس کی تفتیش جاری ہے اور تمام پہلوؤں کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جا رہا ہے۔ لاہور کی کینٹ کچہری میں گرفتار چاروں ملزمان کو جوڈیشل مجسٹریٹ اظہر محمود کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں پولیس نے ملزمان کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔ تاہم عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے چاروں ملزمان کو پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا تاکہ مزید تفتیش کی جا سکے۔ یہ مقدمہ لاہور کے تھانہ ڈیفنس سی میں ہالینڈ سے تعلق رکھنے والی ایک غیر ملکی خاتون کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق واقعہ 29 جون کو پیش آیا، جبکہ پولیس کو اس کی اطلاع دو جولائی کو ملی، جس کے بعد فوری کارروائی کرتے ہوئے دونوں غیر ملکی خواتین کو بازیاب کرا لیا گیا۔ پولیس کے مطابق متاثرہ خواتین میں ایک کا تعلق ہالینڈ جبکہ دوسری کا تعلق سپین سے ہے۔ ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ دونوں خواتین کو اغوا کر کے زبردستی ایک رہائش گاہ پر رکھا گیا، ان سے بھاری تاوان کا مطالبہ کیا گیا اور ان میں سے ایک خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی، جبکہ دوسری خاتون کے ساتھ بھی زیادتی کی کوشش کی گئی۔ ان الزامات کی عدالتی سطح پر تاحال تصدیق نہیں ہوئی۔

ایف آئی آر کے مطابق درخواست گزار خاتون نے بیان دیا کہ ان کی ملاقات چند ماہ قبل سنگاپور میں لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک با اثر شخص سے ہوئی تھی، جس نے دونوں خواتین کو پاکستان آنے کی دعوت دی اور ان کے ویزوں کا انتظام بھی کیا۔ خاتون کا الزام ہے کہ پاکستان پہنچنے کے بعد 29 جون کو اس شخص، اس کے باس اور دیگر افراد نے انہیں اغوا کر لیا۔ متاثرہ خاتون نے ایف آئی آر میں مزید الزام لگایا کہ اغوا کے دوران ملزمان کا رویہ انتہائی جارحانہ تھا، جبکہ انہیں پاکستان بلانے والا شخص بھی خود کو کرپٹو کرنسی کے بزنس میں متاثرہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ ایف آئی آر کے مطابق خواتین کو آزاد کرنے کے بدلے ان کے اہل خانہ سے بھاری رقم بطور تاوان طلب کی گئی۔

لاہور پولیس کے مطابق اس واقعے کا انکشاف تب ہوا جب متاثرہ خواتین میں سے ایک کے والد نے سپین سے پولیس ہیلپ لائن 15 پر فون کر کے اطلاع دی کہ ان کی بیٹی کو پاکستان میں اغوا کر لیا گیا ہے اور اغوا کار 15 لاکھ امریکی ڈالر تاوان کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بیرون ملک سے آنے والی اس اطلاع کو انتہائی سنجیدگی سے لیا گیا۔ ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران کے مطابق اطلاع ملتے ہی اعلیٰ پولیس حکام اور وزیراعلیٰ پنجاب کو آگاہ کیا گیا، جس کے بعد فوری کارروائی کا حکم دیا گیا۔ ان کے مطابق متاثرہ خاتون نے اپنے والد کو اس گاڑی کا نمبر بھی بتایا تھا جس میں انہیں لے جایا جا رہا تھا، جس کی بنیاد پر پولیس نے تحقیقات کا آغاز کیا۔ پولیس کے مطابق متاثرہ خواتین پاکستان اپنی مرضی سے آئی تھیں اور سفر کے دوران مختلف مقامات کی تصاویر اور اپنی لوکیشن اہل خانہ سے شیئر کرتی رہی تھیں۔ انہی تصاویر اور گاڑی کے نمبر کی مدد سے پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی اور گاڑی کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا، جس سے معلوم ہوا کہ گاڑی لاہور، شاہدرہ، سرگودھا، اسلام آباد اور دیگر مقامات سے گزرتی رہی۔ بعد ازاں پولیس نے لاہور کے علاقے ڈیفنس میں چھاپہ مار کرr دونوں خواتین کو بازیاب کرا لیا۔

ڈی آئی جی فیصل کامران کے مطابق ابتدائی تفتیش میں متاثرہ خواتین نے پولیس کو بتایا کہ ان کے ساتھ جنسی زیادتی بھی کی گئی۔ دونوں خواتین کا میڈیکل معائنہ کرا لیا گیا ہے اور فرانزک و طبی رپورٹس موصول ہونے کے بعد مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔ پولیس کے مطابق مقدمے کی ابتدائی تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ معاملے کا آغاز کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری سے ہوا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مرکزی ملزم اور دونوں غیر ملکی خواتین کے درمیان سنگاپور میں کاروباری روابط قائم ہوئے تھے اور بعد میں سرمایہ کاری اور منافع کی تقسیم پر اختلافات پیدا ہوئے۔
ڈی آئی جی فیصل کامران کے مطابق پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق دونوں خواتین پاکستان کاروباری معاملات پر بات چیت کے لیے آئی تھیں اور اپنی واپسی سے قبل لاہور، اسلام آباد اور مری سمیت مختلف شہروں میں بھی گئیں۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ واپسی سے قبل مالی تنازع شدت اختیار کر گیا، جس کے بعد ایک ملزم نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے خواتین کو یرغمال بنایا اور ان کے اہل خانہ سے تاوان طلب کیا۔

پولیس حکام کے مطابق گرفتار ملزمان سے مزید پوچھ گچھ جاری ہے جبکہ مرکزی مفرور ملزم رضا ڈار کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ دونوں غیر ملکی خواتین کے سفارت خانوں سے بھی رابطہ کر لیا گیا ہے تاکہ قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد انہیں ان کے ممالک واپس بھیجا جا سکے۔

Back to top button