پی ٹی آئی نے آزاد کشمیر  الیکشن کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیوں کیا؟

پاکستان تحریکِ انصاف نے آزاد جموں و کشمیر کے 27 جولائی کو ہونے والے قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے بائیکاٹ کا مشروط اعلان کرکے انتخابی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ خود کو کشمیر کی سب سے بڑی سیاسی جماعت قرار دینے والی پی ٹی آئی کے اس فیصلے نے نہ صرف انتخابی ماحول کو متاثر کیا ہے بلکہ یہ سوال بھی کھڑا کر دیا ہے کہ آیا تحریک انصاف کا یہ اصولی مؤقف ہے یا سیاسی مجبوری۔ پی ٹی آئی کے اس فیصلے سے فائدہ کس کو ہوگا؟

خیال رہے کہ پی ٹی آئی کشمیر کے صدر اور سابق وزیراعظم سردار عبدالقیوم نیازی نے الیکشن بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھاجب تک جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، وہ انتخابی عمل میں حصہ نہیں لے گی، پی ٹی آئی موجودہ حالات میں عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور ایسے ماحول میں انتخابات میں حصہ لینا مناسب نہیں سمجھتی جہاں احتجاج کرنے والے شہریوں کے خلاف طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہو۔ ان کے مطابق راولاکوٹ سمیت مختلف علاقوں میں ہزاروں افراد اپنے آئینی مطالبات کے لیے سراپا احتجاج ہیں، مگر حکومت مذاکرات کے بجائے طاقت کے استعمال کو ترجیح دے رہی ہے، جس کے باعث جانی نقصان بھی ہوا۔تحریک انصاف کے مرکزی چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے بھی اس فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ آزاد اور شفاف انتخابات ہر جمہوری نظام کی بنیاد ہوتے ہیں، لیکن موجودہ حالات اس معیار پر پورا نہیں اترتے۔ ان کے مطابق پارٹی نے امیدواروں کو ٹکٹ جاری کرنے کا عمل بھی روک دیا ہے۔

واضح رہے کہ آزاد کشمیر میں اس وقت جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک سیاسی منظرنامے پر چھائی ہوئی ہے۔ راولاکوٹ کے قریب جاری دھرنے اور کمیٹی کے رہنما شوکت نواز میر کی گرفتاری نے حالات کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے۔ مظاہرین کا بنیادی مطالبہ قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں کا خاتمہ ہے، جبکہ حکومت واضح کر چکی ہے کہ ان نشستوں پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہوگا۔پی ٹی آئی نے اسی تحریک سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے انتخابات سے دور رہنے کا اعلان کیا ہے، جس سے انتخابی مہم کا رخ بدلتا دکھائی دے رہا ہے۔

مبصرین کے مطابق سن 2021 کے انتخابات میں تحریک انصاف نے 26 نشستیں حاصل کرکے آزاد کشمیر میں حکومت بنائی تھی۔ وفاق میں بھی اسی وقت عمران خان کی حکومت موجود تھی، جس سے پی ٹی آئی کو سیاسی برتری حاصل تھی۔ تاہم بعد ازاں جماعت اندرونی اختلافات کا شکار ہوگئی۔ پہلے سردار عبدالقیوم نیازی تحریک عدم اعتماد کے ذریعے وزارت عظمیٰ سے محروم ہوئے، پھر چوہدری تنویر الیاس عدالتی فیصلے کے بعد اپنے عہدے سے ہٹ گئے۔ اس دوران پارٹی مختلف فارورڈ بلاکس میں تقسیم ہوگئی، جس نے اس کی سیاسی طاقت کو شدید متاثر کیا۔

مسلم لیگ (ن) نے پی ٹی آئی کے فیصلے کو اصولی مؤقف کے بجائے سیاسی کمزوری قرار دیا ہے۔ پارٹی رہنما طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ اگر تحریک انصاف واقعی عوامی حمایت رکھتی ہے تو اسے میدان چھوڑنے کے بجائے ووٹ کے ذریعے اپنی طاقت ثابت کرنی چاہیے۔ان کے مطابق ہر انتخاب سے پہلے تنازع کھڑا کرنا، انتخابی عمل پر سوال اٹھانا اور پھر بائیکاٹ کا اعلان کرنا تحریک انصاف کی پرانی حکمت عملی بن چکی ہے، جو اب عوام میں زیادہ پذیرائی حاصل نہیں کر رہی۔

تاہم سینئر صحافی اور تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی کے مطابق آزاد کشمیر میں پی ٹی آئی قانونی طور پر رجسٹرڈ سیاسی جماعت کے طور پر انتخاب نہیں لڑ سکتی۔ ان کے مطابق اگرچہ ہائی کورٹ نے پارٹی کی رجسٹریشن اور انتخابی نشان دینے کا حکم دیا تھا، تاہم سپریم کورٹ نے اس فیصلے کو معطل کر رکھا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ جب ایک جماعت کو بطور جماعت الیکشن لڑنے کی اجازت ہی نہیں تو بائیکاٹ کا اعلان زیادہ تر ایک سیاسی مؤقف معلوم ہوتا ہے۔ البتہ پی ٹی آئی کے حامی آزاد امیدواروں کی حیثیت سے میدان میں آ سکتے ہیں، جیسا کہ ماضی میں بھی ہوتا رہا ہے۔

کشمیر کی سیاست پر نظر رکھنے والے مبصرین کے مطابق جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک نے روایتی سیاسی جماعتوں اور عوام کے درمیان فاصلے ضرور پیدا کیے ہیں، اس لیے پی ٹی آئی کے بائیکاٹ سے انتخابات کی ساکھ پر سوالات ضرور اٹھیں گے۔تاہم ان کا کہنا ہے کہ عملی طور پر تحریک انصاف اس وقت آزاد کشمیر میں اتنی مضبوط پوزیشن میں نہیں کہ بڑی تعداد میں نشستیں جیت سکے۔ ان کے مطابق پارٹی کے ممکنہ ووٹ آزاد امیدواروں میں تقسیم ہو سکتے ہیں، جس کا بالواسطہ فائدہ مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کو پہنچنے کا امکان ہے۔

مبصرین کے بقول 27 جولائی کے انتخابات آزاد کشمیر کی آئندہ سیاسی سمت کا تعین کریں گے، مگر اس سے پہلے پی ٹی آئی کے مشروط بائیکاٹ نے انتخابی ماحول کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ ایک طرف تحریک انصاف اسے عوامی حقوق کے ساتھ اظہارِ یکجہتی قرار دے رہی ہے، تو دوسری جانب حکومتی جماعتیں اسے سیاسی کمزوری اور انتخابی شکست کے خوف سے تعبیر کر رہی ہیں۔ اصل سوال یہی ہے کہ آیا پی ٹی آئی کا یہ فیصلہ احتجاجی سیاست کو تقویت دے گا یا انتخابی عمل سے دور رہنے کا نقصان خود اسی جماعت کو اٹھانا پڑے گا۔ اس کا جواب 27 جولائی کے انتخابات اور ان کے نتائج ہی دیں گے۔

Back to top button