استحکام پاکستان پارٹی نے آزاد کشمیر کی انتخابی سیاست کا رنگ کیسے بدلا؟

آزاد جموں و کشمیر کے 27 جولائی کو ہونے والے قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سے قبل سیاسی منظرنامہ ایک نئے موڑ پر آ کھڑا ہوا ہے۔ سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس کی قیادت میں استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) نے آزاد کشمیر کی سیاست میں باقاعدہ انٹری دے کر انتخابی معرکے کو سہ فریقی رنگ دے دیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت نے کئی اہم حلقوں میں انتخابی حساب کتاب بدل دیا ہے اور اب اصل سوال یہ ہے کہ آئی پی پی کی آمد سے کس جماعت کو فائدہ ہوگا اور کس کی سیاسی بنیادیں کمزور ہوں گی۔

مبصرین کے مطابق اس سے قبل آزاد کشمیر کی سیاست میں بنیادی مقابلہ مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان تصور کیا جا رہا تھا، جبکہ پاکستان تحریک انصاف بھی مختلف سیاسی اور قانونی مشکلات کے باعث پہلے جیسی پوزیشن میں دکھائی نہیں دے رہی۔ تاہم استحکام پاکستان پارٹی کے امیدواروں کے میدان میں آنے کے بعد متعدد حلقوں میں ووٹ تقسیم ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں، جس سے انتخابی نتائج پر نمایاں اثر پڑ سکتا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس ایک مرتبہ پھر اپنی سیاسی قوت آزمانے کے لیے میدان میں آ گئے ہیں، لیکن اس بار وہ استحکام پاکستان پارٹی کے پلیٹ فارم سے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ان کا سیاسی سفر گزشتہ چند برسوں میں کئی اہم موڑ مڑ چکا ہے۔ 2021 کے انتخابات میں وہ پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے اور بعد ازاں آزاد کشمیر کے وزیراعظم بنے، تاہم 2023 میں عدالتی فیصلے کے بعد انہیں وزارتِ عظمیٰ چھوڑنا پڑی۔ اس کے بعد انہوں نے تحریک انصاف سے علیحدگی اختیار کی، استحکام پاکستان پارٹی کے قیام کے وقت اس کے آزاد کشمیر چیپٹر کی قیادت سنبھالی، پھر 2025 میں پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے، لیکن ٹکٹوں کی تقسیم پر اختلافات کے باعث وہ وہاں بھی زیادہ دیر نہ رہ سکے اور دوبارہ آئی پی پی میں واپس آ گئے۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق تنویر الیاس کی شخصیت اور ان کے ذاتی ووٹ بینک کی وجہ سے متعدد حلقوں میں انتخابی مقابلہ پہلے سے کہیں زیادہ سخت ہو گیا ہے۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) نے بھی آزاد کشمیر کے انتخابات کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے اپنی بھرپور انتخابی مہم شروع کر دی ہے۔لاہور میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت پارٹی رہنماؤں اور ٹکٹ ہولڈرز کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں فیصلہ کیا گیا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف، مریم نواز اور دیگر مرکزی قائدین مختلف انتخابی جلسوں سے خطاب کریں گے۔پارٹی نے وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری کو انتخابی مہم کا مرکزی کوآرڈینیٹر مقرر کیا ہے، جبکہ مہاجرین مقیم پاکستان کی نشستوں کے لیے خواجہ سعد رفیق کو ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ اس حکمت عملی سے واضح ہوتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر میں اپنی سیاسی برتری قائم رکھنے کے لیے بھرپور تیاری کر رہی ہے۔

تاہم استحکام پاکستان پارٹی کے مرکزی صدر عبدالعلیم خان نے آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر عوام نے ان پر اعتماد کیا تو وہ ریاست کے عوام کی محرومیوں کا ازالہ کریں گے۔انہوں نے وفاقی وزیر مواصلات کی حیثیت سے مری سے مظفرآباد تک ایکسپریس وے بنانے کے منصوبے کا اعلان بھی کیا، جسے پارٹی اپنی انتخابی مہم کا اہم حصہ بنا رہی ہے۔دوسری جانب سردار تنویر الیاس کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہوگی اور عوامی مسائل کے حل کو اپنی اولین ترجیح بنائے گی۔

آزاد کشمیر کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے مبصرین کے مطابق استحکام پاکستان پارٹی کی انٹری کا سب سے بڑا نقصان پاکستان پیپلز پارٹی کو ہوگا۔ان کے مطابق پیپلز پارٹی کے کئی امیدوار، جو پہلے مضبوط پوزیشن میں تھے، اب تنویر الیاس کی موجودگی کے باعث سخت مقابلے کا سامنا کریں گے، جبکہ اس صورت حال کا بالواسطہ فائدہ مسلم لیگ (ن) کو پہنچ سکتا ہے۔

اسی مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے بعض دیگر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے حالیہ سیاسی بحرانوں میں غیر واضح حکمت عملی اختیار کی، جس کی سیاسی قیمت اسے انتخابات میں ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔ ادھر معروف ماہرِ امورِ کشمیر خواجہ اے متین کے مطابق آئی پی پی کی شمولیت نے کئی حلقوں میں انتخابی نقشہ مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ ان کے مطابق پہلے جہاں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان براہِ راست مقابلہ متوقع تھا، وہاں اب ووٹوں کی تقسیم کے باعث نتائج غیر یقینی ہو گئے ہیں۔انہوں نے حلقہ ایل اے 15 وسطی باغ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہاں آئی پی پی کے سردار تنویر الیاس، پیپلز پارٹی کے سردار ضیا القمر، مسلم لیگ (ن) کے مشتاق منہاس اور جماعت اسلامی کے بریگیڈیئر (ر) محمد خان کے درمیان انتہائی سخت مقابلہ متوقع ہے۔

استحکام پاکستان پارٹی کی انتخابی سیاست میں انٹری نے یہ تاثر مضبوط کیا ہے کہ آزاد کشمیر کی سیاست اب دو جماعتوں تک محدود نہیں رہی۔ اگرچہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ آئی پی پی کتنی نشستیں حاصل کر سکے گی، تاہم سیاسی تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ پارٹی کئی حلقوں میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے۔اگر آئی پی پی خاطر خواہ ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہی تو نہ صرف پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں بلکہ مسلم لیگ (ن) کو بھی بعض حلقوں میں نئی حکمت عملی اختیار کرنا پڑے گی۔ دوسری جانب اگر ووٹوں کی تقسیم محدود رہی تو مسلم لیگ (ن) کو نسبتاً زیادہ فائدہ پہنچنے کے امکانات موجود ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے بقول 27 جولائی کے انتخابات آزاد کشمیر کی آئندہ سیاسی سمت کا تعین کریں گے، مگر ایک حقیقت واضح ہو چکی ہے کہ استحکام پاکستان پارٹی کی آمد نے انتخابی بساط کو پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور دلچسپ بنا دیا ہے۔ اب نظریں اس بات پر ہیں کہ آیا سردار تنویر الیاس اپنی نئی جماعت کو حقیقی سیاسی قوت میں تبدیل کر پاتے ہیں یا ان کی انٹری صرف روایتی جماعتوں کے ووٹ بینک کو متاثر کرنے تک محدود رہتی ہے۔

Back to top button