امریکہ اور اسرائیل نے خامنہ ای کو نشانہ کیسے بنایا؟ حقائق سامنے آ گئے

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی 28 فروری 2026 کو شہادت نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا۔ تین دہائیوں سے زائد عرصے تک ایران کی اعلیٰ قیادت سنبھالنے والے خامنہ ای کی شہادت کو حالیہ برسوں کی اہم ترین علاقائی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

مختلف بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائی کے آغاز پر تہران میں ایک انتہائی حساس آپریشن کیا، جس کا ہدف ایرانی قیادت کے اعلیٰ عہدیدار تھے۔رپورٹس کے مطابق اسرائیلی انٹیلی جنس نے کئی برسوں تک خامنہ ای کی نقل و حرکت، سکیورٹی انتظامات، معمولات اور قریبی حلقے سے متعلق معلومات جمع کیں، جن کی بنیاد پر کارروائی کی منصوبہ بندی کی گئی۔

بین الاقوامی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق حملے کے روز خامنہ ای تہران میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں شریک تھے، جس میں ایرانی قیادت کی اہم شخصیات بھی موجود تھیں۔رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ اسرائیلی انٹیلی جنس کو اجلاس کے وقت اور مقام سے متعلق پیشگی معلومات حاصل ہو گئی تھیں، جس کے بعد کارروائی کے وقت میں تبدیلی کی گئی تاکہ ہدف کو یقینی بنایا جا سکے۔اسرائیلی ذرائع کے مطابق فضائی حملوں کی پہلی لہر میں تہران کے ان مقامات کو نشانہ بنایا گیا جہاں ایرانی سیاسی اور سکیورٹی قیادت موجود تھی۔

بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اس کارروائی میں صرف فضائی طاقت ہی استعمال نہیں کی گئی بلکہ انٹیلی جنس معلومات، سائبر معاونت اور مختلف اداروں کے درمیان قریبی رابطہ کاری نے بھی اہم کردار ادا کیا۔رپورٹس کے مطابق امریکی انٹیلی جنس کی جانب سے فراہم کی گئی معلومات اور دیگر تکنیکی معاونت نے کارروائی کی منصوبہ بندی اور وقت کے تعین میں مدد فراہم کی، تاہم ان دعوؤں کی تمام تفصیلات کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔

حملے کے بعد ابتدائی چند گھنٹوں تک ایران کی جانب سے خامنہ ای کی شہادت کی سرکاری تصدیق نہیں کی گئی، تاہم بعد ازاں ایرانی حکام نے ان کی وفات کی تصدیق کرتے ہوئے ملک بھر میں سوگ کا اعلان کیا۔ اس واقعے کے بعد ایران میں نئی قیادت کے حوالے سے سیاسی مشاورت کا آغاز ہوا، جبکہ خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کارروائی صرف ایک اعلیٰ شخصیت کو نشانہ بنانے تک محدود نہیں تھی بلکہ اسے ایران کے سیاسی اور عسکری ڈھانچے پر ایک بڑا دھچکا تصور کیا گیا۔ان کے مطابق اس واقعے نے یہ بھی ظاہر کیا کہ جدید جنگوں میں انٹیلی جنس، سائبر صلاحیت، درست معلومات اور مربوط کارروائی روایتی فوجی طاقت جتنی ہی اہم ہو چکی ہیں۔

مبصرین کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ تاریخ کا ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ تاہم اس کارروائی کی تفصیلات سے متعلق متعدد معلومات مختلف حکومتی بیانات اور میڈیا رپورٹس پر مبنی ہیں، جبکہ بعض دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق تاحال ممکن نہیں ہوئی۔ اس لیے اس واقعے کو سمجھتے وقت سرکاری مؤقف، آزادانہ رپورٹس اور دستیاب شواہد، تینوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

Back to top button