ٹرمپ کے خوراک سے متعلق دعوے پر ایران کا دوٹوک جواب

 

ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کی غذائی صورتحال سے متعلق حالیہ بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ اگر مستقبل میں ایران کے ساتھ کوئی امن معاہدہ طے پاتا ہے تو ایران اپنی زرعی ضروریات پوری کرنے کے لیے امریکہ سے خوراک خریدے گا۔ تاہم ایرانی حکام اس دعوے کی پہلے ہی تردید کر چکے ہیں۔ ایران کو خوراک کی ضرورت ہے، اسے مکئی، گندم اور سویا بین درکار ہیں، اور یہ تمام اجناس صرف امریکی کسان ہی فراہم کریں گے۔

ایکس پر جاری اپنے بیان میں محمد باقر قالیباف نے ٹرمپ کے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے طنزیہ انداز اپنایا۔ انہوں نے کہا کہ ذرا تصور کریں، آپ کے اپنے ملک میں چار کروڑ سے زائد افراد فوڈ سٹیمپس پر انحصار کر رہے ہوں اور آپ کسی دوسرے ملک کو بھوکا قرار دے رہے ہوں۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ کوئی حقیقت پر مبنی بیان نہیں بلکہ آپ کے اپنے ملک کی صورتحال کا عکس ہے، اس لیے بہتر ہوگا کہ اپنی "سنیپ” سکیم سے متعلق مشورے اپنے پاس رکھیں۔

 

آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کہاں ہو گی؟

قالیباف نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ ہمارے وسائل ہمارے اپنے ہیں اور ہمارے فیصلے بھی خودمختار ہیں، اس لیے امریکہ کو چاہیے کہ وہ ایران پر تبصرہ کرنے کے بجائے اپنے ملک میں غذائی مسائل پر توجہ دے۔

Back to top button