عالمی تنہائی کے باعث افغانستان شدید مالی بحران کی زد میں
طالبان حکومت کی بڑھتی ہوئی عالمی سفارتی تنہائی کے باعث افغانستان کے لیے امدادی فنڈز میں ریکارڈ کمی سامنے آئی ہے، جس سے ملک میں انسانی بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق طالبان کی سخت گیر پالیسیوں کے نتیجے میں افغانستان ہر گزرتے دن کے ساتھ عالمی سطح پر مزید سفارتی تنہائی کا شکار ہو رہا ہے، جبکہ اس صورتحال کا سب سے زیادہ اثر عام افغان شہریوں پر پڑ رہا ہے۔
نارویجن ریفیوجی کونسل کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے لیے انسانی امداد کی فنڈنگ ریکارڈ کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے اور ضرورت کے ہر چھ ڈالر میں سے صرف ایک ڈالر ہی دستیاب ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکہ، جو ماضی میں افغانستان کی مجموعی امداد کا تقریباً 40 فیصد فراہم کرتا تھا، اب اپنی تمام مالی امداد بند کر چکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق افغانستان پہلی بار نارویجن ریفیوجی کونسل کی جانب سے جاری کی جانے والی دنیا کے نظر انداز کیے گئے انسانی بحرانوں کی فہرست میں شامل ہوا ہے۔
افغانستان انٹرنیشنل نے بھی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان اب دنیا کے ان انسانی بحرانوں میں شامل ہو چکا ہے جنہیں سب سے کم مالی معاونت حاصل ہو رہی ہے۔
فیفا ورلڈ کپ: مصر کی تاریخی جیت، آسٹریلیا ایونٹ سے آؤٹ
افغان امور کے جرمن مبصر تھامس رُٹیگ کے مطابق جب تک طالبان تمام افغان شہریوں کے انسانی حقوق کے احترام کا عملی ثبوت نہیں دیتے، انہیں سفارتی سطح پر تسلیم نہیں کیا جانا چاہیے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، دہشت گردی اور منشیات کی سمگلنگ سے متعلق الزامات نے طالبان حکومت کو عالمی برادری کے لیے مزید ناقابل قبول بنا دیا ہے۔
