آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کہاں ہو گی؟

ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کا باقاعدہ آغاز تہران کے معروف مذہبی و ثقافتی مرکز امام خمینی مصلیٰ سے ہو گیا ہے۔ اسرائیلی میزائل حملے میں ہلاک ہونے والے خامنہ ای کی تدفین کی تقریبات ان کی وفات کے چار ماہ سے زائد عرصے بعد منعقد کی جا رہی ہیں، جن میں ہزاروں افراد نے شرکت کی اور ان کے تابوت کو عوامی دیدار کے لیے مصلیٰ میں لایا گیا۔

یہ سات روزہ تقریبات 9 جولائی تک جاری رہیں گی، جبکہ ایران اور عراق کے مختلف شہروں میں بھی متعدد مذہبی اور عوامی پروگراموں کا انعقاد کیا جائے گا۔ ان تقریبات کے لیے سپاہِ پاسداران، سکیورٹی اداروں اور سرکاری محکموں کو مکمل طور پر متحرک کر دیا گیا ہے، جبکہ مختلف ممالک کے سرکاری وفود کی تہران آمد بھی جاری ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی اژہ ای سمیت اعلیٰ حکام نے عوام سے بھرپور شرکت کی اپیل کی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایک کروڑ 20 لاکھ سے ڈیڑھ کروڑ افراد کی شرکت متوقع ہے، جبکہ یہ تعداد دو کروڑ تک بھی پہنچ سکتی ہے۔

زائرین کی سہولت کے لیے ہزاروں استقبالیہ مراکز قائم کیے گئے ہیں، دس لاکھ سے زائد افراد کی رہائش کا بندوبست کیا گیا ہے اور تہران میں ٹریفک و ہجوم کے بہتر انتظام کے لیے خصوصی شہری راہداری منصوبہ بھی نافذ کیا گیا ہے۔

اگرچہ تقریبات کا شیڈول جاری کر دیا گیا ہے، تاہم کئی اہم سوالات بدستور موجود ہیں۔ سب سے زیادہ توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کی تدفین میں شریک ہوں گے یا نہیں، کیونکہ گزشتہ جنگ کے بعد وہ کسی عوامی تقریب میں نظر نہیں آئے۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کہ علی خامنہ ای کے دیگر اہلِ خانہ عوامی تقریبات میں شرکت کریں گے یا نہیں۔

نمازِ جنازہ کی امامت بھی ایک اہم موضوع بنی ہوئی ہے۔ شیعہ روایت میں اس منصب کو مذہبی کے ساتھ ساتھ سیاسی اہمیت بھی حاصل ہوتی ہے، اس لیے اس حوالے سے کسی بھی فیصلے کو ایران کی مستقبل کی سیاست سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم خامنہ ای کی وصیت منظرِ عام پر نہ آنے کے باعث اس بارے میں کوئی حتمی بات نہیں کی جا سکتی۔

ایرانی حکام کے مطابق درجنوں ممالک کے سربراہان، وزرائے اعظم، پارلیمانی قائدین اور دیگر اعلیٰ شخصیات ان تقریبات میں شریک ہوں گی، جبکہ تقریباً 800 غیر ملکی صحافی ان رسومات کی کوریج کریں گے۔

اعلان کردہ پروگرام کے مطابق 3 جولائی کو بین الاقوامی خراجِ عقیدت کی تقریب منعقد ہوئی، جبکہ 4 اور 5 جولائی کو تہران میں عوامی الوداع کی تقریبات ہوں گی۔ 5 جولائی کو مرکزی نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، 6 جولائی کو تہران میں جنازے کا جلوس نکالا جائے گا، 7 جولائی کو قم میں، 8 جولائی کو عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا میں جلوس ہوں گے، جبکہ 9 جولائی کو مشہد میں امام رضاؑ کے روضے کے احاطے میں علی خامنہ ای کو سپردِ خاک کیا جائے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق نجف اور کربلا میں تقریبات کا انعقاد ایران کی مذہبی اور سیاسی اہمیت کو شیعہ دنیا میں اجاگر کرنے کی کوشش بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ عراق کی حکومت بھی ان تقریبات کے انتظامات میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ آخری رسومات صرف ایک مذہبی تقریب نہیں بلکہ ایران کی داخلی سیاست، اقتدار کی منتقلی اور مستقبل کی قیادت کے حوالے سے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں۔ بعض مبصرین کے مطابق یہ تقریبات علی خامنہ ای کے بعد کے سیاسی منظرنامے اور ممکنہ جانشینی کے بارے میں اہم اشارے فراہم کر سکتی ہیں، جبکہ دیگر کے نزدیک اس سے حکومتی حمایت اور عوامی ردعمل کا بھی اندازہ لگایا جائے گا۔

Back to top button