شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ کون پڑھائے گا؟

ایران میں شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تجہیز و تکفین کی تقریبات کا باضابطہ آغاز ہو گیا ہے۔ جبکہ نمازِ جنازہ کی امامت اور موجودہ سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی شرکت کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔

ایران کے سب سے بڑے مذہبی و ثقافتی مرکز جامع امام خمینی مصلیٰ میں ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے ساتھیوں کے جسدِ خاکی رکھے گئے ہیں، جہاں عوام، مذہبی شخصیات اور سرکاری وفود آخری دیدار کر رہے ہیں۔ جامع امام خمینی مصلیٰ میں ہزاروں افراد، مذہبی شخصیات اور غیر ملکی وفود آخری عقیدت پیش کرنے کے لیے موجود ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق مرحوم رہنما کو 9 جولائی کو ان کے آبائی شہر مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے احاطے میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ واضح نہیں کیا گیا کہ شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ کون پڑھائے گا اور آیا موجودہ سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کی نمازِ جنازہ اور تدفین میں شریک ہوں گے یا نہیں۔ شیعہ مذہبی روایات میں نمازِ جنازہ کی امامت صرف ایک مذہبی فریضہ نہیں بلکہ اسے سیاسی اور علامتی اہمیت بھی حاصل ہوتی ہے، اسی لیے اس فیصلے کو ایران کی آئندہ سیاسی سمت کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ 28 فروری 2026 کو امریکی اور اسرائیلی حملوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے ساتھ ان کے خاندان کے متعدد افراد بھی شہید ہوئے تھے، جن میں ان کے داماد، ایک پوتا، ایک بیٹی اور آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی اہلیہ شامل تھیں۔ اسی دوران آیت اللہ خامنہ ای کی اہلیہ کے بھائی حسن خجستہ باقر زادہ نے ایک ٹی وی پروگرام میں رہبر کی دوسری بیٹی کی صحت کے لیے دعا کی اپیل کی، تاہم ان کی موجودہ حالت کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

ایرانی ذرائع کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کی وصیت بھی اب تک منظر عام پر نہیں لائی گئی۔ مشہد کے امامِ جمعہ احمد علم الہدیٰ کا کہنا ہے کہ وصیت ان کے بیٹوں کے پاس محفوظ ہے اور مناسب وقت پر ہی اس سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔ بعض مبصرین کے مطابق وصیت میں نمازِ جنازہ کی امامت یا دیگر اہم معاملات سے متعلق رہنمائی بھی موجود ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے ایرانی قیادت کو دی گئی دھمکیوں کے بعد آخری رسومات کے دوران غیر معمولی سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ انہی خدشات کے باعث موجودہ سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی تقریب میں شرکت کے امکانات غیر یقینی قرار دیے جا رہے ہیں۔ بھارت میں ایران کے نمائندے نے بھی ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ سیکیورٹی خطرات کے باعث ان کی شرکت ممکن نہ بھی ہو سکے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ تجہیز و تکفین کی تقریبات حالیہ تاریخ کے سب سے بڑے عوامی اجتماعات میں شامل ہوں گی۔ حکام کے مطابق صرف تہران میں ایک کروڑ سے زائد افراد کی شرکت متوقع ہے، جبکہ قم میں تقریباً 20 لاکھ اور مشہد میں تدفین کے موقع پر 40 لاکھ سے زیادہ افراد شریک ہو سکتے ہیں۔ جسدِ خاکی کو تہران سے قم، پھر عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا لے جانے کے بعد دوبارہ ایران لا کر مشہد میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔

ایرانی حکومت نے ان تقریبات میں شرکت کے لیے 100 سے زائد ممالک کو دعوت دی ہے۔ پاکستان، روس، چین، عراق، افغانستان، بھارت، آرمینیا سمیت متعدد ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود تہران پہنچ چکے ہیں۔ تاہم بعض بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ایرانی حکام کی جانب سے جاری کیے گئے شرکا کے اعداد و شمار کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہو سکی، اگرچہ تہران، قم اور مشہد میں غیر معمولی ہجوم اور سخت حفاظتی انتظامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایران ان تقریبات کو اپنی تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار کر رہا ہے۔

Back to top button