غیر ملکی خواتین زیادتی کیس:پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج، SHO معطل

غیر ملکی خواتین کو پاکستان بلا کر مبینہ اغوا اور زیادتی کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پولیس افسران کے خلاف بھی مقدمہ درج کر لیا گیا جبکہ ایس ایچ او ڈیفنس سی فریاد کو معطل کر دیا گیا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق غیر ملکی خواتین سے متعلق مقدمہ درج ہونے کے بعد ایس ایچ او ڈیفنس سی فریاد مبینہ طور پر رات گئے میڈیکل معائنے کی اجازت لینے کے لیے جوڈیشل مجسٹریٹ کی سرکاری رہائش گاہ پہنچے۔ بعد ازاں جوڈیشل مجسٹریٹ کی درخواست پر اعلیٰ حکام کی ہدایت کے بعد متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔

ایف آئی آر کے مطابق ایس ایچ او ڈیفنس سی فریاد اور دو نامعلوم پولیس اہلکار رات تقریباً ڈیڑھ بجے جوڈیشل مجسٹریٹ کے سرکاری فلیٹ میں مبینہ طور پر زبردستی داخل ہوئے۔ الزام ہے کہ اہلکاروں نے فلیٹ کا دروازہ زور زور سے کھٹکھٹایا اور پھر اندر داخل ہو گئے، جس پر مجسٹریٹ اور ان کے اہل خانہ نیند سے بیدار ہو گئے۔

مقدمے میں کہا گیا ہے کہ ایس ایچ او نے جوڈیشل مجسٹریٹ سے ان کا نام پوچھا اور انہیں ایک اعلیٰ پولیس افسر سے موبائل فون پر بات کرنے کا کہا، تاہم مجسٹریٹ نے انکار کرتے ہوئے اہلکاروں کو گھر سے جانے کی ہدایت کی۔ ایف آئی آر کے مطابق پولیس اہلکار اس کے باوجود کچھ دیر تک سرکاری رہائش گاہ میں موجود رہے اور مبینہ طور پر دھمکیاں بھی دیتے رہے۔

اس واقعے کے بعد ایس ایچ او ڈیفنس سی فریاد اور دو نامعلوم پولیس اہلکاروں کے خلاف گھر میں غیر قانونی داخلے اور سنگین دھمکیوں کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا، جبکہ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے ایس ایچ او کو معطل کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔

دوسری جانب غیر ملکی خواتین کا میڈیکل معائنہ مکمل ہونے کے بعد وہ اپنے ملک روانہ ہو گئی ہیں۔ پولیس کو میڈیکل رپورٹ موصول ہو چکی ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش کے مفاد میں رپورٹ کو خفیہ رکھا گیا ہے اور تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔

ادھر پولیس نے گرفتار ملزمان رضا ڈار، حسن رضا، سکندر خان اور ساجد علی کو لاہور کی کینٹ کچہری میں جوڈیشل مجسٹریٹ اظہر محمود کی عدالت میں پیش کیا۔ پولیس نے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، تاہم عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے چاروں ملزمان کو 5 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا اور آئندہ سماعت پر تفتیشی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

Back to top button