کراچی رینجرز حملے کا اصل ماسٹر مائنڈ کون تھا؟

کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں رینجرز کی ٹرانسپورٹ کمپنی پر ہونے والے خودکش حملے اور فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے مقدمے میں کالعدم تنظیم جماعت الاحرار سے تعلق رکھنے والے چھ مبینہ کمانڈرز کو حملے کا ماسٹر مائنڈ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ کارروائی کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی تھی۔

پولیس کے مطابق مقدمہ محکمہ انسدادِ دہشت گردی سی ٹی ڈی کے تھانے میں رینجرز کے سب انسپکٹر اسد محمود خان کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے، جس میں دہشت گردی، قتل، اقدامِ قتل، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے، دھماکا خیز مواد اور غیر قانونی اسلحے کے استعمال سمیت متعدد دفعات شامل کی گئی ہیں۔

ایف آئی آر کے مطابق 27 جون 2026 کی رات تقریباً آٹھ بج کر دس منٹ پر ایک خودکش حملہ آور نے گلستانِ جوہر میں رینجرز ورکشاپ کمپنی کے گیٹ پر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔پولیس کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں گیٹ پر تعینات تین رینجرز اہلکار، حوالدار ریاض، سپاہی داؤد پرویز اور سپاہی عبدالقدیر جان کی بازی ہار گئے۔مقدمے میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ دھماکے کے فوراً بعد تین مسلح حملہ آور خودکار ہتھیاروں اور ہینڈ گرینیڈز کے ساتھ احاطے میں داخل ہوئے اور اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔حکام کے مطابق رینجرز کی اسپیشل فورس اور کوئیک رسپانس فورس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دو حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا، جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔

پولیس کے مطابق گرفتار ملزم نے اپنا نام عثمان علی بتایا اور دورانِ تفتیش مبینہ طور پر انکشاف کیا کہ اس کے دیگر ساتھیوں میں جانان، عمر اور عبدالہادی شامل تھے۔تحقیقاتی حکام کا دعویٰ ہے کہ گرفتار ملزم نے بتایا کہ حملہ آور ایک ہفتہ قبل کراچی پہنچے تھے، جہاں مبینہ مقامی سہولت کاروں کی مدد سے کورنگی میں قیام کیا اور رینجرز ورکشاپ کی ریکی کی۔

پولیس کے مطابق گرفتار ملزم کے بیانات اور ابتدائی تحقیقات کی بنیاد پر دعویٰ کیا گیا ہے کہ حملہ آوروں کا تعلق کالعدم جماعت الاحرار سے تھا اور انہیں مبینہ طور پر تنظیم کے کمانڈرز عمر قاری، مولوی احرار، عبدالواجد، ملا طاہر افغانی، ملا عبدالمنان اور عمر آفریدی کی جانب سے منصوبہ بندی، ہدایات اور تربیت فراہم کی گئی۔تحقیقات کے مطابق ان افراد کو مقدمے میں حملے کے مبینہ ماسٹر مائنڈز قرار دیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق حملے کے حوالے سے مزید چار مقدمات بھی پولیس افسران کی مدعیت میں درج کیے گئے ہیں، جبکہ واقعے کے تمام پہلوؤں، مبینہ سہولت کاروں، مالی معاونت اور حملہ آوروں کے نیٹ ورک کی تحقیقات جاری ہیں

Back to top button