سبسڈی ختم، ہنڈی کے کاروبار کو تقویت کیسے ملی؟

وفاقی حکومت اور سٹیٹ بینک آف پاکستان نے یکم جولائی 2026 سے ترسیلات زر سے متعلق دو اہم مراعاتی پروگرام ختم کر کےقانونی بینکاری نظام کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیاہے، جس کے بعد بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے دوبارہ ہنڈی اور حوالہ جیسے غیر رسمی ذرائع استعمال کرنا شروع کر دئیے ہیں۔ جس کی وجہ سے آنے والے دنوں میں پاکستان کو ترسیلات زر کی مد میں بڑے خسارے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
خیال رہے کہ ترسیلات زر پاکستان کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، برطانیہ، یورپ اور امریکہ سمیت مختلف ممالک میں مقیم لاکھوں پاکستانی ہر ماہ اپنے اہل خانہ کی کفالت اور ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے اربوں ڈالر وطن بھیجتے ہیں۔ یہی رقوم نہ صرف لاکھوں خاندانوں کی ضروریات پوری کرتی ہیں بلکہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو بھی مستحکم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ مالی سال 2025 میں پاکستان کو ریکارڈ 38.3 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئیں، جبکہ رواں مالی سال میں یہ حجم 41 سے 42 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ حکومت نے ترسیلات زر کے حوالے سے کون سی مراعات ختم کی گئی ہیں؟ ماہرین کے مطابق حکومت نے ترسیلات زر کے حوالے سے دو اہم پروگرام ختم کیے ہیں۔ پہلا ٹیلی گرافک ٹرانسفر چارجز انسینٹو سکیم، جس کے تحت حکومت بینکوں اور منی ٹرانسفر آپریٹرز کو ترسیلات بھیجنے کی لاگت اور کمیشن کی مد میں مالی معاونت فراہم کرتی تھی تاکہ اوورسیز پاکستانی کم یا بغیر اضافی اخراجات کے رقم وطن بھیج سکیں۔ دوسرا سوہنی دھرتی ریمیٹنس پروگرام تھا، جس میں قانونی ذرائع سے رقم بھیجنے والے پاکستانیوں کو انعامی پوائنٹس دئیے جاتے تھے، جنہیں مختلف سرکاری سہولتوں اور فیسوں میں استعمال کیا جا سکتا تھا۔ان دونوں پروگراموں کے خاتمے سے حکومت کو سالانہ تقریباً 100 سے 120 ارب روپے کی بچت متوقع ہے، جبکہ سوہنی دھرتی پروگرام بند ہونے سے مزید تقریباً 7 ارب روپے کی مالی بچت ہو سکتی ہے۔
ایسے میں یہ سوال بہت اہم ہے کہ کیا ان دونوں پروگراموں کے خاتمے سے ہنڈی کا رجحان دوبارہ بڑھے گا؟ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر قانونی ذرائع سے رقم بھیجنے کی لاگت میں اضافہ ہوا یا سہولتیں کم ہوئیں تو کچھ تارکین وطن دوبارہ ہنڈی یا حوالہ کے غیر رسمی نظام کا رخ کر سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ ہنڈی کا نظام کئی برسوں سے پاکستان میں موجود ہے اور اس کی مقبولیت کی بڑی وجوہات بہتر شرح مبادلہ، فوری ادائیگی، کم کاغذی کارروائی اور بعض اوقات نسبتاً کم لاگت سمجھی جاتی ہیں۔ حالیہ برسوں میں یہ نظام ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے مزید آسان بھی ہو چکا ہے۔معاشی ماہرین کے مطابق صارفین عموماً وہ راستہ اختیار کرتے ہیں جو زیادہ آسان، تیز اور کم خرچ ہو، اس لیے اگر رسمی بینکاری نظام اپنی مسابقت برقرار نہ رکھ سکا تو غیر رسمی ذرائع دوبارہ فعال ہو سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ سبسڈی ختم کرنا نہیں بلکہ اس کا درست استعمال ہے۔ ماضی میں اس سبسڈی کا بڑا حصہ براہ راست اوورسیز پاکستانیوں کے بجائے بینکوں اور منی ٹرانسفر کمپنیوں کو جاتا رہا۔اعداد و شمار کے مطابق بعض مالیاتی اداروں کو اس مد میں سالانہ درجنوں ارب روپے کی ادائیگیاں کی جاتی تھیں، جبکہ بیرون ملک کام کرنے والی کئی منی ٹرانسفر کمپنیوں کو بھی اس نظام سے فائدہ پہنچتا تھا۔ماہرین کی رائے ہے کہ اگر یہی مالی وسائل براہ راست اوورسیز پاکستانیوں کو سہولتوں، رعایتوں یا انعامات کی صورت میں منتقل کیے جائیں تو قانونی ذرائع سے ترسیلات بھیجنے کا رجحان مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔
فلپائن، بنگلہ دیش، مصر اور سری لنکا جیسے ممالک اپنے تارکین وطن کو مختلف مالی مراعات، خصوصی سہولتیں اور ٹیکس فوائد فراہم کرتے ہیں تاکہ وہ سرکاری بینکاری نظام کے ذریعے رقوم منتقل کریں۔ماہرین کے مطابق پاکستان بھی اگر اوورسیز پاکستانیوں کے لیے اسی طرز کی مراعات متعارف کرائے تو نہ صرف ترسیلات زر میں اضافہ ممکن ہے بلکہ ہنڈی جیسے غیر قانونی ذرائع کی حوصلہ شکنی بھی کی جا سکتی ہے۔
ماہرین کے بقول حکومت نے سبسڈی ختم کر کے مالی بوجھ کم کرنے کی کوشش ضرور کی ہے، لیکن اصل امتحان آئندہ ایک سے دو برسوں میں ہوگا۔اگر ترسیلات زر 40 ارب ڈالر سے زائد کی سطح پر برقرار رہتی ہیں تو یہ اس بات کا اشارہ ہوگا کہ پاکستانی بینکاری نظام اعتماد اور سہولت کی بنیاد پر مضبوط ہو چکا ہے۔تاہم اگر قانونی ذرائع سے آنے والی رقوم میں نمایاں کمی دیکھی گئی تو پالیسی سازوں کو اپنی حکمت عملی پر دوبارہ غور کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ پاکستان کے لیے چند سو ارب روپے کی بچت سے زیادہ اہم سالانہ اربوں ڈالر کی ترسیلات زر کا تسلسل ہے۔مختصراً، ترسیلات زر کی پالیسی اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں کامیابی کا انحصار صرف سبسڈی پر نہیں بلکہ آسان، تیز، شفاف اور مسابقتی مالیاتی نظام پر ہوگا۔
