خامنہ ای کی آخری رسومات میں مودی کی عدم شرکت پر بھارت میں تنقید

 

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی عدم شرکت کو بعض حلقے بھارت کی خارجہ پالیسی سے جوڑ رہے ہیں۔

بھارتی جریدے دی ٹائمز آف انڈیا کے مطابق نریندر مودی ایرانی سپریم لیڈر کی آخری رسومات میں شریک نہیں ہوں گے۔ ان کی جگہ بھارت کی نمائندگی بہار کے گورنر اور وزیر مملکت برائے خارجہ کریں گے۔مودی کے ایران نہ جانے کے فیصلے پر بھارت کے اندر بھی مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید سامنے آئی ہے۔

بھارتی تجزیہ کار پروین شانے نے کہا کہ مودی ایران اس لیے نہیں جا رہے تاکہ امریکا اور اسرائیل کو ناراض نہ کریں۔بی جے پی کے حامی دفاعی تجزیہ کار جے ڈی بخشی نے بھی اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سابق بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کی آخری رسومات میں ایرانی سپریم لیڈر خود شریک ہوئے تھے، اس لیے مودی کو بھی ایران جانا چاہیے تھا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ دعوت کے باوجود ایرانی سپریم لیڈر کی تدفین میں شرکت نہ کرنا بھارتی سفارت کاری پر سوالات اٹھاتا ہے۔ ان کے مطابق اتنے اہم موقع پر صرف ایک وزیر مملکت اور ایک صوبائی گورنر کو بھیجنا بھارت کی سفارتی ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے۔

 

فیفا ورلڈ کپ: مصر کی تاریخی جیت، آسٹریلیا ایونٹ سے آؤٹ

بعض ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ تیل، تجارت اور آبنائے ہرمز جیسے اہم معاملات میں تعاون کا خواہاں بھارت اس معاملے میں محتاط سفارتی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے، جبکہ ناقدین اسے دوہرا معیار قرار دے رہے ہیں۔

Back to top button