تیرا وادی میں ہلاکتیں : گنڈاپور فوج کیساتھ ہے یا خلاف ہے؟

وزیراعلی خیبر پختون خواہ علی امین گنڈاپور نے خیبر پختونخوا کی وادی تیرہ میں اچانک ہونے والے دھماکوں میں 24 افراد کی ہلاکت پر اچانک اپنا موقف تبدیل کر لیا ہے۔ پہلے گنڈاپور نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ شہریوں کی اموات ‘ناقابلِ قبول اور افسوسناک’ ہیں۔ لیکن ایک روز بعد ہی موقف بدلتے ہوئے انہوں نے یہ بیان داغ دیا کہ تمام فوجی کارروائیاں آئین کے تحت ہو رہی ہیں اور فوج کا حق ہیں، ہمارا اختیار نہیں کہ ہم انھیں روک سکیں۔
یاد رہے کہ خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کی وادی تیرہ میں 24 افراد کی ہلاکت بارے دو متضاد بیانیے چل رہے ہیں۔ پہلا بیانیہ یہ ہے کہ یہ ہلاکتیں چار مکانوں پر مشتمل ایک کمپاؤنڈ میں دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے ہوئیں کیونکہ وہاں رہائش پذیر دو مطلوب ترین طالبان کمانڈرز بارودی سرنگیں بناتے تھے۔ دوسرا بیانیہ یہ ہے کہ ان طالبان کمانڈرز کو مارنے کے لیے پاکستانی فضائیہ نے جنگی طیاروں کا استعمال کرتے ہوئے بمباری کی۔ علی امین گنڈا پور اس بیانیے کو لے کر چل رہے ہیں کیونکہ ان کی جماعت اور پارٹی قیادت طالبان کے لیے ہمدردیاں رکھتی ہے۔
علی امین گنڈاپور نے پہلے روز اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے مرنے والوں کے لواحقین کے لیے ایک ایک کروڑ روپے کی امداد کا اعلان کیا تھا اور 10 عورتوں اور بچوں کی ہلاکت کی مذمت کی تھی۔ ادھر عسکری ذرائع کا کہنا تھا کہ مرنے والوں میں عورتیں اور بچے اس لیے شامل ہیں کہ دونوں طالبان کمانڈرز اپنے خاندانوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے تھے تاکہ باہر کسی کو یہ خبر نہ ہو کہ اس کمپاؤنڈ میں بارودی سرنگیں تیار کی جاتی ہیں۔ ان سرنگوں کو سڑکوں پر نصب کر کے علاقے میں گشت کرنے والی پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے خلاف استعمال کیا جاتا تھا۔
خیال رہے ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب وادی تیراہ کے گاؤں شاہڈلہ میں اچانک کچھ پراسرار دھماکے ہوئے تھے جن میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 24 افراد کی جان چلی گئی تھی۔ جس کمپاؤنڈ میں دھماکے ہوئے وہ چار مکانوں پر مشتمل تھا۔ سرکاری سطح پر ان دھماکوں کی نوعیت بارے تاحال کوئی واضح بیان جاری نہیں کیا گیا۔ لیکن واقعے کے اگلے روز قبائلی عمائدین کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران وزیر اعلی گنڈاپور نے واقعے کی تفتیش کے لیے تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔
لیکن اس سے اگلے روز اپنے پچھلے موقف سے پھرتے ہوئے گنڈاپور نے کہا کہ ’صوبے میں فوج جو کارروائیاں کر رہی ہے وہ آئین کے تحت ان کا حق ہے، اس پر ہمارا اختیار نہیں کہ ہم انھیں روک سکیں۔‘ پشاور ہائی کورٹ کے باہر جب وزیرِ اعلیٰ سے ایک صحافی نے سوال کیا کہ کیا شہری اموات کے حوالے سے کوئی قانونی کارروائی ہو گی تو انہوں نے اپنی مرضی کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’صوبے میں جو دہشتگردی ہو رہی ہے، وہ کئی دہائیوں سے جاری ہے۔‘
پشاور ہائی کورٹ کے باہر وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ ’جہاں تک کارروائی کی بات ہے تو دہشتگرد بھی کارروائیاں کر رہے ہیں اور دہشتگردوں کے خلاف ہماری فورسز بھی کر رہی ہیں۔ لیکن ہمیں کولیٹرل ڈیمج یا عام شہریوں کی ہلاکتیں قابلِ قبول نہیں۔ وزیرِ اعلیٰ کا کہنا تھا ان کارروائیوں میں کوئی بھی شہری ہلاک ہوتا ہے تو ہم اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ ’یہ نہیں ہونا چاہیے لیکن اس جنگ میں یہ بار بار ہو رہا ہے۔‘
علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ ’شدت پسندوں کے خلاف زمینی کارروائی کے ساتھ ساتھ مارٹر گولے کا بھی استعمال ہوتا ہے، ڈرون بھی استعمال ہوتے ہیں اور جہاز بھی استعمال ہو رہے ہیں، یہ آئین کے تحت ملٹری کا حق ہے۔ انکا کہنا تھا کہ اس پر ہمارا اختیار نہیں کہ ہم یہ سب روک سکیں، لیکن ہمارا موقف ہے کہ اس جنگ کو روکنے کے لیے مذاکرات ہونے چاہییں۔ یہ جو فوجی کارروائیاں ہو رہی ہیں یہ مسئلے کا حل نہیں ہیں۔‘
خیال رہے کہ خیبر پختونخوا کے علاقوں بشمول ٹانک، وادی تیراہ اور باجوڑ میں جہاں بدامنی کے واقعات بڑھے ہیں، وہیں فورسز کی ٹارگٹڈ کارروائیوں کے دوران شہریوں کی اموات پر مقامی افراد نے احتجاج بھی کیے ہیں۔
گذشتہ چند ماہ کے دوران خیبر پختونخوا میں شہری اموات کے ایسے دو واقعات پیش آ چکے ہیں۔ جولائی میں تیراہ میں ہی ایک مکان پر مارٹر گولہ گرنے سے ایک بچی کی موت ہوئی تھی جس کے بعد ہونے والے احتجاج پر فائرنگ سے پانچ افراد مارے گئے تھے۔
اس کے علاوہ جولائی میں ہی باجوڑ میں عسکری کارروائیوں کے دوران تین شہریوں کی ہلاکت کے واقعات پیش آئے تھے۔
وادی تیراہ میں 24 افراد کی ہلاکت کے بعد سے تحریک انصاف کی مقامی قیادت اس واقعے کو سیاسی طور پر کیش کرانے کی کوشش میں مصروف ہے۔ اس معاملے میں تیراہ وادی سے تعلق رکھنے والے ایک رکن قومی اسمبلی اور دو اراکین صوبائی اسمبلی پیش پیش ہیں جن کا تعلق آفریدی قبیلے سے ہے۔ اس واقعے کے خلاف علاقے میں احتجاج جاری ہے جس سے وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی سہیل آفریدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہہ آفریدی قوم اپنے حقوق کی خاطر متحد ہو جائے۔
