کیا جیل جانے کے بعد عمران کی اپنے ووٹرز پر گرفت کمزور ہو گئی؟

سینیئر صحافی و تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ سال 2024 کے عام انتخابات کے ایک سال بعد بھی تحریک انصاف لگ بھگ اُسی جگہ کھڑی ہے جہاں یہ 8 فروری 2024 کو کھڑی تھی۔ عمران خان آج بھی اڈیالہ جیل میں بند ہیں اور ان کی جماعت مشکلات کا شکار ہیں تاہم وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ پی ٹی آئی بدستور ’پاپولر جماعت‘ ضرور ہے۔ سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو قید ہونے سے بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ ان کی اپنے ووٹر پر گرفت مضبوط نہیں رہی، اسی لیے اب ان کی کال پر ووٹرز باہر نہیں نکلتے۔

سہیل وڑائج نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پچھلے ایک برس میں  عمران خان کی کال پر اسلام آباد میں اوپر تلے مسلسل تین احتجاج اسی وجہ سے ناکام ہوئے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ 26 نومبر 2024 کی رات تحریک انصاف کے احتجاجی مظاہرین بشری بی بی اور علی امین گنڈاپور کی زیر قیادت ریاست پاکستان کو چیلنج کرنے کے بعد جس طرح ڈی چوک سے فرار ہوئے، اس نے تحریک انصاف کی احتجاجی سیاست کے تابوت میں آخری کیل بھی ٹھونک دیا ہے۔ اب پی ٹی آئی والے احتجاج کی کال دیں بھی تو حکومت کو ماضی کی طرح پریشانی نہیں ہوتی۔ سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ احتجاج کا مقصد حکومت پر دباؤ ڈالنا ہوتا ہے تاکہ اپنے مطالبات کو تسلیم کروایا جا سکے، تاہم 26 نومبر کی رات عمران خان نے یہ سنہری موقع کھو دیا۔

لیکن سہیل وڑائچ کے نقطہ نظر سے اختلاف کرتے ہوئے عمران خان سے ہمدردی رکھنے والی انگریزی اخبار بزنس ریکارڈر کی ایڈیٹر انجم ابراہیم کا کہنا تھا کہ ’بانی پی ٹی آئی تو آج بھی اُسی طرح مضبوط ہیں جیسے پہلے تھے۔ ان کے مطابق عمران اور ان کی جماعت کا سوشل میڈیا پر بدستور کافی کنٹرول ہے جسے انٹرنیٹ پر پابندیاں عائد کر کے بھی ختم نہیں کیا جا سکا ہے۔

انجم ابراہیم کی رائے میں ’عمران خان پر جو مقدمات قائم کیے گئے ہیں وہ ماضی میں حکمرانوں پر سنگین بدعنوانی کے مقدمات سے بہت مختلف ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ لوگ عمران خان کے خلاف مقدمات کو بدعنوانی نہیں سمجھتے کیونکہ ان میں کوئی اربوں روپوں کی ڈیل جیسے مقدمات شامل نہیں ہیں۔‘ ان کے مطابق ’عمران جیل میں ہیں، نہ شکل دکھا سکتے ہیں، نہ نام لے سکتے ہیں، مگر پھر بھی ہر نیوز بلیٹن میں وہ پہلے نمبر پر ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بھی پی ٹی آئی کی ثابت قدمی ہے کہ جیل میں عمران خان نے ڈیڑھ سال سے زیادہ کا وقت گزار لیا ہے اور وہ بظاہر ڈیل پر بھی تیار نظر نہیں آ رہے ہیں۔‘

تاہم دوسری جانب سینیئر صحافی اور یوٹیوبر عمران شفقت کہتے ہیں کہ عمران خان جب سے جیل میں گئے ہیں، تب سے باہر آنے کے لیے ڈیل کی کوششوں میں مصروف ہیں لیکن فوجی اسٹیبلشمنٹ دوبارہ ان پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔ عمران شفقت کے مطابق بانی پی ٹی آئی تو اپنی حکومت ختم ہونے کے بعد سے مسلسل یہی راگ الاپ رہے ہیں کہ وہ سیاستدانوں کی بجائے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات چاہتے ہیں چونکہ اصل فیصلہ سازی کی طاقت اسی کے ہاتھ میں ہے۔ عمران شفقت کے مطابق ویسے بھی عمران خان سیاست میں فوج کی مداخلت کے خلاف نہیں، ان کا مسئلہ صرف اتنا ہے کہ فوج موجودہ حکومت کو بے دخل کر کے انہیں دوبارہ اقتدار میں کیوں نہیں لاتی۔

کیا حکومت کی اچھی پرفارمنس سے عمران کا بیانیہ فوت ہو رہا ہے؟

عمران شفقت نے یاد دلایا کہ پی ٹی آئی اور حکومت کے مابین مذاکرات کا عمل بھی اسی وجہ سے ختم ہوا ہے کہ عمران خان منتخب حکومت کی بجائے فوجی اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کے خواہشمند تھے جبکہ فوجی قیادت اب ان پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔ ایسے میں یہ تاثر دینے کی کوشش کرنا کہ عمران خان اپنے اصولوں کی وجہ سے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار کے خلاف اڈیالہ جیل میں ڈٹ کر بیٹھے ہیں، سراسر لوگوں کو بے وقوف بنانے والی بات ہے۔ عمران شفقت نے یاد دلایا کہ عمران کا سیاسی کیریئر پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ خصوصا آئی ایس آئی کا مرہون منت ہے جس نے 2018 کے الیکشن میں وسیع پیمانے پر دھاندلی کرواتے ہوئے انہیں وزیراعظم بھی بنوایا تھا۔ تاہم عمران خان نے اپنے ساڑھے تین سالہ دور میں سیاسی مخالفین کو ڈنڈا دینے کے سوا اور کچھ نہیں کیا، نتیجہ یہ نکلا کہ وہ پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں پہلے وزیر اعظم بنے جنہیں ایک تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں اقتدار سے محروم ہونا پڑا۔

Back to top button