کیا مریم کے خیال میں PMLN کو PPP کی ضرورت نہیں رہی؟

وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی جانب سے پیپلز پارٹی اور اس کی سندھ حکومت کو جارحانہ لہجے میں کھلی دھمکیاں دینے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ عمران خان کے دیوار سے لگائے جانے کے بعد وہ ضرورت سے زیادہ پر اعتماد ہو چکی ہیں اور شاید یہ سمجھتی ہیں کہ اب نون لیگ کو پیپلز پارٹی کی اتنی ضرورت نہیں رہی جتنی کہ ماضی میں ہوتی تھی۔
معروف لکھاری اور تجزیہ کار روف کلاسرا اپنی تحریر میں کہتے ہیں کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی پی پی پی قیادت کے ساتھ لفظی جنگ سے مجھے کوئی حیرت نہیں ہوئی۔ سیاسی لوگ ایک دوسرے پر زبانی حملے کرتے رہتے ہیں اور انہیں زیادہ سیریس لینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر سیاسی لوگ ایسی گرما گرم باتیں نہیں کریں گے تو پھر کون کرے گا۔ میرے قریبی دوست جانتے ہیں کہ میری تین سیاسی لیڈروں بارے بڑی پرانی رائے ہے کہ وہ جب بھی اقتدار میں آئیں گے تو اپنا پرانا سکور ضرور سیٹل کریں گے۔ ان تینوں کا دور اپنے سیاسی مخالفوں کیلئے ہمیشہ مشکل ثابت ہو گا۔ یہ تین سیاست دان عمران خان‘ مریم نواز اور بلاول بھٹو ہیں۔
سینیئر صحافی کہتے ہیں کہ اب آپ پوچھیں گے ان تینوں میں کیا بات مشترک ہے کہ انہیں ایک ہی صف میں کھڑا کر دیا گیا ہے؟ ان تینوں میں جو چند باتیں مشترک ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہ پچھلے کئی برسوں سے سیاست اور میڈیا کی لائم لائٹ میں ہیں اور زیادہ تر منفی باتوں کی وجہ سے خبروں اور سوشل میڈیا پر چھائے رہتے ہیں۔ ان کے بارے اچھی بری باتیں ہو رہی ہوتی ہیں۔ لیکن ان تینوں نے مسلسل کردار کشی کا سامنا کیا ہے۔ ان تینوں کو انکے سیاسی مخالفین نے سیاست سے ایک قدم آگے جا کر ٹارگٹ کیا اور ان کی ذاتی زندگیوں کو ہِٹ کیا ہے۔ یہ بھی ایک سبب ہے جس نے مجھے ان تینوں کے بارے میں خطرناک نتائج اخذ کرنے پر مجبور کیا۔
روف کلاسرا کہتے ہیں کہ عمران خان کو ان کے مخالفین نے 1990 کی دہائی میں اُس وقت سکینڈلز کا نشانہ بنایا جب انہوں نے سیاست میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔ عمران نے اپنی کتاب میں بھی تفصیل کے ساتھ لکھا ہے کہ کیسے ان کی ذاتی زندگی کو نواز شریف کی میڈیا ٹیم نے تباہ کیا۔ خان کے کئی سکینڈلز اخبارات کی زینت بنے۔ میں اکثر کہتا ہوں کہ ہماری قوم کا مسئلہ اخلاقیات کا نہیں ہے۔ اگر یہ ایشو اس قوم کیلئے اہم ہوتے تو نواز شریف تیسری بار وزیر اعظم نہ بنتے اور ماضی کے پلے بوائے عمران تو سیاست میں داخل ہی نہیں ہو سکتے تھے۔
خیر بات ہورہی تھی مریم نواز‘ عمران خان اور بلاول بھٹو کی۔ جو کچھ عمران خان کے ساتھ ہوا وہی انہوں نے سود سمیت اپنے مخالفوں کو لوٹایا۔ انہوں نے بھی مریم نواز اور بلاول بھٹو پر ذاتی حملے کیے اور جلسوں میں ایسی باتیں کیں جو شاید ایک سابق وزیراعظم کو زیب نہیں دیتی تھیں۔ لیکن جب آپ کے فالورز ایسی باتوں پر آپ کا احتساب کرنے کے بجائے واہ واہ کریں‘ نعرے ماریں اور داد دیں تو پھر کس کا دل نہیں کرے گا کہ مزید بڑھ چڑھ کر حملے کرے۔ جب عمران خان کے حامیوں سے بات ہوتی تو وہ کہتے پھر کیا ہوا یہ کام تو نواز شریف نے بینظیر بھٹو کے ساتھ بھی کیا تھا۔ ان کے نزدیک عمران خان یا ان کا میڈیا سیل وہی سلوک مریم نواز کے ساتھ کر رہا تھا جو مریم نواز کے والد اپنے مخالفوں کے ساتھ کرتے تھے۔ وہ تو دراصل بینظیر بھٹو کا بدلہ لے رہا تھے بلکہ اس جواز پر تو پی پی پی کا ورکر بھی جھوم اٹھتا کہ چلیں آصف زرداری نے صلح کر لی لیکن کوئی تو ہے جو شریفوں کو ان کی زبان میں جواب دے رہا ہے۔ یوں عمران خان کو بھی پیپلز پارٹی ورکرز کی ہمدردیاں ملتی رہیں۔
روف کلاسرا کہتے ہیں کہ نواز شریف اور مریم نواز کے میڈیا سیل نے تو عمران خان کی ذات پر رقیق حملے کیے لیکن پیپلز پارٹی نے عمران کی فیملی یا ان کے سکینڈلز کو اچھالنے کے لیے کبھی سوشل میڈیا یا ٹی وی پر کوئی مہم نہیں چلائی۔ اس کی بڑی وجہ شاید بینظیر بھٹو اور نصرت بھٹو تھیں جو خواتین تھیں اور جنرل ضیا اور نواز لیگ کے ادوار میں ٹرولنگ کا نشانہ بنیں۔ لیکن اسکے باوجود بلاول بھٹو عمران خان کے ذاتی حملوں سے نہیں بچ سکے۔ یوں دیکھا جائے تو عمران، بلاول اور مریم ایکدوسرے پر ذاتی حملے کرتے آئے ہیں۔
سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا نے لوگوں کے اندر جہاں خاموش غصہ اور ناراضی پیدا کی ہے وہیں دوسروں سے بدلہ اور انتقام لینے کی خواہش بھی مضبوط ہوئی ہے۔ نفرت بڑھی ہے۔ عام لوگ ایک دوسرے کو سوشل میڈیا پر گالی دے کر اور برا بھلا کہہ کر اپنا غصہ کم کر لیتے ہیں لیکن سیاسی لوگ یا مشہور سیاستدانوں کے پاس یہ آپشن نہیں ہوتا کہ وہ اس زبان میں جواب دیں جو کہ ان کے خلاف استعمال کی جا رہی ہو۔
جب آپ عمران خان کی طرح ایک بڑی پارٹی کے سربراہ ہوں‘ اور مریم نواز کی طرح آپ کا والد ملک کا تین بار وزیراعظم رہا ہو لیکن پھر بھی آپ کسی کا کچھ نہ بگاڑ سکیں تو آپکے اندر انتقامی جذبہ پیدا ہونا فطری ہے۔ پھر آپ سب سے بدلہ لینا چاہتے ہیں لیکن لے نہیں پاتے۔ یوں آپ کے اندر غصہ بھرتا رہتا ہے اور آپ وقت کا انتظار کرتے ہیں کہ چلیں کبھی تو اقتدار ملے گا۔ کبھی تو ہماری باری بھی آئے گی تب بدلہ لیں گے۔
روف کلاسرا کہتے ہیں کہ عمران خان کو پاور ملی تو انہوں نے یہی کیا‘ چاہے میڈیا ہو یا مخالفین، انہوں نے سب سے انتقام لیا۔ وجہ وہی تھی کہ نواز لیگ نے ان کی ساس اور جمائما پر مقدمات بنائے تھے‘ اور ان کی گھریلو زندگی خراب کی تھی جس کا ذمہ دار وہ شریف خاندان کو سمجھتے تھے۔ لہذا جب عمران وزیراعظم بنے تو پورا شریف خاندان جیل میں تھا۔ موصوف نے میڈیا کے خلاف بھی سخت کارروائیاں کیں کیونکہ وہ انکے سکینڈلز چلاتا تھا۔ مریم میں بھی خان والا منتقم مزاج رویہ موجود ہے اور اسی لیے وہ اپنی تقاریر میں جارحانہ لہجہ اختیار کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی قیادت اور سندھ حکومت کو انگلیاں توڑنے کی دھمکیاں دیتی نظر آتی ہیں۔
صدر ٹرمپ کے امن منصوبے پر عمران خان کچھ بولتے کیوں نہیں؟
سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ عمران خان اور مریم نواز پاور میں اپنا جلوہ دکھا چکے ہیں لیکن ابھی بلاول کی باری نہیں آئی۔ جب بلاول بھٹو کو پاور ملی تو وہ بھی ضرور سکور سیٹل کریں گے۔ یہ تینوں اپنے مخالفین کی جانب سے بدترین ٹرولنگ اور کردار کشی کا شکار رہے ہیں جس نے ان میں شدید غصہ اور اذیت بھر دی ہے‘ اور یاد رکھیں کہ یہ تینوں نیلسن منڈیلا نہیں ہیں جس نے اپنے مخالفین کو معاف کر دیا تھا۔
