5 اگست کا ناکام احتجاج، عمران کی رہائی کا امکان ختم

معروف صحافی اور تجزیہ کار نصرت جاوید نے کہا ہے کہ تحریک انصاف ان دنوں مشکل ترین حالات کا سامنا کر رہی ہے کیونکہ 5 اگست کی احتجاجی کال کی ناکامی نے عمران خان کی رہائی کی رہی سہی امیدوں پر بھی پانی پھیر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے بانی اور کرشمہ ساز قائد عمران خان دو برس سے جیل میں ہیں۔ لیکن انکی عدم موجودگی میں پارٹی رہنمائوں کا ایک ایسا گروہ بھی تیار نہیں کر پائی جس پر عاشقانِ عمران اعتماد کر سکیں۔ دوسری جانب عمران خان اپنے سوشل میڈیا بریگیڈ کے ذریعے اپنے ورکرز کو صرف اور صرف انتہا پسندی سکھا رہے ہیں جبکہ سیاست ہمیشہ درمیانی راستہ ڈھونڈ کر چلنے کا تقاضہ کرتی ہے۔

روزنامہ نوائے وقت کے لیے اپنی تحریر میں نصرت جاوید کہتے ہیں کہ جب مصلحت کو غداری یا منافقت کے مساوی ٹھہرادیا جائے تو سیاسی جماعتوں کیلئے آفتوں کے دور میں خود کو سنبھالنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔

سوشل میڈیا کی عادی نام نہاد ” جنریشن زی” کوشاید علم نہ ہو کہ تاریخ میں لینن نام کا بھی بطور ایک انقلابی گزرا ہے۔ روس میں سوشلسٹ انقلاب اس کی سوچ کی بدولت ممکن ہوا۔ انقلابی حکومت قائم ہوئی تو اس کی بنائی جماعت کے کارکن یہ تقاضہ کرنا شروع ہو گئے کہ ’’پرانے نظام‘‘ سے تعلق رکھنے والے ہر شخص کو ’’عبرت کا نشان‘‘ بنادیا جائے۔ انہیں انگریزی محاورے والی شٹ اپ کال دینے کے لئے لینن نے ایک مضمون لکھا اور اسے ’’بائیں بازو کا طفلانہ پن‘‘ کا عنوان دیا۔ اس نے لکھا کہ متوسط طبقے میں انتہا پسندی زیادہ تیزی سے پھیلتی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے دل ناامیدی  سے بھرے ہوتے ہیں۔ چنانچہ یہ طبقہ دوسروں پر الزام تراشی کرتے ہوئے دراصل اپنے کنفیوژ ذہن کو تسلی دے رہا ہوتا ہے۔

نصرت جاوید کہتے ہیں کہ تحریک انصاف ملک کی پہلی جماعت ہے جس نے سوشل میڈیا کے ہر پلیٹ فارم کو متحرک کرتے ہوئے متوسط طبقے کے نوجوانوں تک اپنا پیغام پہنچایا۔ اس نے پڑھی لکھی خواتین کی کثیر تعداد کو بھی سیاسی میدان میں موثر کردار ادا کرنے پر مائل کیا۔ لیکن سوشل میڈیا نے پی ٹی آئی کے حامیوں کی اکثریت کو یہ سوچنے پر اکسایا کہ جو بھی ان کی جماعت کا حامی نہیں وہ ’’بکائو مال‘‘ ہے اور وطن سے وفادار نہیں۔ تحریک انصاف کے سوشل میڈیا برگیڈ نے یہ چورن بیچا کہ جو خان کے ساتھ نہیں، وہ ’’چور اور لٹیرا‘‘ ہے۔ چنانچہ اقتدار کی باریاں لینے والوں کی چھٹی کروانے کے بعد بالاخر عمران خان کی تحریک انصاف 2018 میں اقتدار تک پہنچا دی گئی۔

عمران خان کو مسند اقتدار تک پہنچانے میں ریاستی ادارے نے بھی کلیدی کردار ادا کیا جو آج تحریک انصاف کی کڑی تنقید کی زد میں ہے۔ خان کے اقتدار میں آنے کے بعد بھی ’’سیم پیج‘‘ کے تذکرے ہوتے رہے۔ بالآخر اکتوبر2021 آ گیا۔ آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کا دل اپنے عہدے کی میعاد میں تین سال کے اضافے کے حصول کے بعد بھی مطمئن نہیں تھا۔ وہ وطن کی مزید خدمت کرنے کو بے تاب تھے۔ لیکن عمران ’’ایک پیج‘‘ کی حدوں سے بالاتر ہونا چاہتے تھے۔ چنانچہ انکو وزارت عظمیٰ سے ہٹانے کے لئے ایک محلاتی سازش تیار ہوئی جس کے نتیجے میں وہ گھر چلے گئے۔ ان کی فراغت کے ردعمل میں سانحہ 9 مئی 2023 رونما ہوا۔

خواجہ آصف کا مریم نواز سے کس افسر کی گرفتاری پر پنگا پڑا ؟

نصرت جاوید کہتے ہیں کہ اپنی قید کے دو سال مکمل ہونے پر دی گئی احتجاجی کال کے نتیجے میں عمران خان 5 اگست 2025 کے روز ’’آر یا پار‘‘ جیسی جوشیلی تحریک دیکھنے کے متمنی تھے۔ لیکن یہ دن آنے سے قبل ہی سانحہ 9 مئی میں ملوث تحریک انصاف کے 14 اراکین قومی و پنجاب اسمبلی اور سینیٹ انسداددہشت گردی کی عدالت سے دس دس سال کی سزائیں پانے کے بعد ’نااہل‘ قرار دے دئے گئے۔ جو فیصلہ آیا اس نے تحریک انصاف کی جیل سے باہر موجود قیادت کے لئے سو طرح کے سوالات اٹھا دئے۔ لہذا وہ 5 اگست کو آر یا پار والی تحریک کی تیاری کی بجائے اپنے ذہن میں ابلتے سوالات کے جوابات ڈھونڈنے میں مصروف ہو گئے۔ چنانچہ پانچ اگست کے روز عمران کی احتجاجی تحریک کی کال کے باوجود کوئی شخص سڑکوں پر نہ نکلا اور یوں کپتان کی رہائی کی امیدیں ایک مرتبہ پھر دم توڑ گئیں۔

Back to top button