گنڈاپور کااپنا ضلع نوگوایریا بن گیا،ہر طرف دہشت گرد دندنانے لگے

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے اپنے آبائی ضلعے ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی کے حالات بہتر ہونے کے بجائے دن بہ دن خراب ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ جبکہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور صوبے کے معاملات کو سنبھالنے اور امن و امان کے قیام کیلئے ٹھوس اقدامات کرنے کی بجائے حکومتی وسائل صرف ریاست مخالف احتجاجی مظاہروں اور وفاق پر کئے جانے والی یلغار میں جھونکنے میں مصروف ہے۔ جس کا خمیازہ عوام کو دہشتگردانہ حملوں اور بدامنی کی سورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔

خیال رہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان نہ صرف وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور بلکہ گورنر فیصل کریم کنڈی، جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان ،علی امین گنڈاپور اور آئی جی کے پی اختر حیات خان کا بھی آبائی ضلع ہے۔
خیبرپختونخوا کے قبائلی اور ضم اضلاع میں امن و امان کی غیر یقینی صورتحال تو ہے مگر ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی کے مجموعی حالات انتہائی مخدوش ہیں۔ آئے روز پولیس اور سکیورٹی فورسز پر حملوں کے واقعات پیش آتے ہیں جبکہ ٹارگٹ کلنگ اور اغوا کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

پولیس کے علاوہ سرکاری افسران اور ملازمین کو اغوا کرنے کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ ڈی آئی خان میں شدت پسندوں کے کھلے عام گشت کے باعث کچھ علاقوں میں پولیس کی نقل و حرکت بھی محدود ہو کر رہ گئی ہے۔سرحدی علاقوں کے قریب ہونے کے کی وجہ سے یہ ضلع دہشت گردوں کا ٹھکانہ بن گیا۔
مقامی پولیس کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان میں اس وقت 10 سے زائد دہشت گردوں کے گروپ فعال ہیں جن میں کالعدم ٹی ٹی پی، گنڈا پور گروپ، لکی مروت اور بٹنی گروپ سرفہرست ہیں۔ ماضی میں یہ علاقہ افغان اور ازبک شدت پسندوں کا مسکن بھی بنا رہا تھا۔

ضلع ڈی آئی خان میں حالات کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے ضلعی انتظامیہ نے تمام سرکاری افسران اور ملازمین کو گھروں پر رہنے کی ہدایت کی ہے۔ڈپٹی کمشنر نے اعلامیے کے ذریعے سرکاری ملازمین کو خبردار کیا ہے کہ کسی بھی سرکاری یا ذاتی کام کے لیے حساس علاقوں میں جانے سے گریز کریں۔ ضلعی انتظامیہ نے ایمرجنسی صورتحال کے لیے ہیلپ لائن بھی جاری کر دی ہے۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے مطابق ’ڈی آئی خان میں مسلح قوتوں کا قبضہ ہے۔ حالات کی سنگینی کا اندازہ اس سے لگائیں کہ کچھ علاقوں میں آج سکولوں اور کالجوں میں پاکستان کا ترانہ نہیں پڑھا جاسکتا، پاکستان کا جھنڈا نہیں لہرایا جا سکتا۔‘مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ شہر کی فضا میں اتنا خوف ہے کہ دن کے وقت بھی لوگ باہر نکلنے سے خوفزدہ ہیں۔

گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی اپنے آبائی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں حالات کی خرابی کی وجہ صوبائی حکومت کو قرار دیتے آئے ہیں۔ گورنر خیبرپختونخوا کے مطابق ضلع میں دہشت گرد کھلے عام گشت کرتے ہیں، عصر کے بعد کوئی باہر نہیں نکل سکتا۔ وزیراعلٰی علی امین گنڈا پور کا اپنا حلقہ کولاچی ہے جہاں حالات سب سے زیادہ خراب ہیں، ٹانک کے بعد اب ڈی آئی خان میں حکومت کی رٹ ختم ہوتی نظر آرہی ہے۔گورنر کا کہنا تھا کہ سکیورٹی خدشات کے باعث سرکاری افسران نے سرکاری گاڑیوں میں سفر کرنا چھوڑ دیا ہے۔

تاہم یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی گنڈاپور کا ضلع ڈیرہ اسماعیل خان نو گو ایریا بن گیا ہے؟ مبصرین کے مطابق  ڈی آئی خان کے حالات اچانک خراب نہیں ہوئے بلکہ اس کے پیچھے کئی عوامل ہیں جو وقت کے ساتھ بڑھتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ علاقہ گڈ اور بیڈ طالبان کی نرسری بنایا گیا تھا جہاں بارڈ کے اس پار سے بھی عسکریت پسند یہاں آباد ہوئے تھے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق گزشتہ حکومت میں ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کے بعد موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے متعدد گروپوں نے افغانستان سے واپسی کی اور ڈی آئی خان سمیت لکی مروت اور بنوں کو اپنا ٹھکانہ بنایا۔’یہ مسلح افراد ایک عرصے تک خاموش تھے، لوگوں میں گھل مل گئے تھے لیکن اب جب دوبارہ بدامنی کی لہر اٹھی ہے تو یہ دوبارہ سر اٹھارہے ہیں۔‘ان کا کہنا تھا کہ  حکومتی اداروں میں روابط کا فقدان اور سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ڈی آئی خان کے حالات مزید بگڑ گئے ہیں۔’عوام کو امید تھی کہ وزیراعلٰی اپنے ضلع کے حالات بہتر بنائیں گے مگر حالات برعکس نظر آرہے ہیں۔‘

Back to top button