حکومت اور PTI مذاکرات: کامیابی اور ناکامی کی کنجی فوج کے ہاتھ میں

فوج کی جانب سے انکار کے بعد عمران خان اور ان کی جماعت نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کا آغاز تو کر دیا ہے لیکن ان کی کامیابی کا دارومدار اسٹیبلشمنٹ کے رویے پر ہے جو سانحہ 9 مئی 2023 کے ذمہ داروں کو معاف کرنے کے موڈ میں دکھائی نہیں دیتی۔ چونکہ مذاکرات کی کامیابی اور ناکامی کی کنجی فوجی قیادت کے ہاتھ میں ہے اسلیے بظاہر کوئی مثبت نتیجہ نکلتا دکھائی نہیں دیتا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان نے چوروں اور ڈاکوؤں کی حکومت سے مذاکرات کا فیصلہ تب کیا گیا جب ان کی احتجاج کی سٹریٹیجی ناکامی کا شکار ہو گئی۔ سٹریٹ ایجیٹیشن سے عمران خان جو حاصل کرنا چاہتے تھے وہ نہیں ہو پایا، پی ٹی آئی کے احتجاجی حربے حکومت پر غالب نہیں ہو پائے۔ اس لیے عمران خان کو اپنے ماضی کے موقف سے یوٹرن لیتے ہوئے فوجی اسٹیبلشمنٹ کی بجائے چوروں اور ڈاکوؤں کی حکومت سے مذاکرات پر امادہ ہونا پڑا ہے۔
مذاکرات کے پہلے راؤنڈ میں جو مرکزی مطالبہ سامنے آیا ہے وہ کپتان کی اپنی رہائی کا ہے۔ تاہم اس کا کوئی امکان اس لیے نظر نہیں آتا کہ حکومت نے مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ کسی این آر او پر گفتگو نہیں ہو گی۔ اسکا کہنا ہے کہ ویسے بھی عمران اور ان کے ساتھیوں کے کیسز عدالتوں میں چل رہے ہیں اور ان کے مستقبل کا فیصلہ عدلیہ نے ہی کرنا ہے۔
سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے اندر اور باہر بھی بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں جو قیادت کو کافی عرصہ سے مذاکرات کا آپشن آزمانے کا مشورہ دے رہے تھے لیکن بیرون ملک بیٹھے ہوئے شہباز گل اور اظہر مشوانی جیسے کردار انہیں احتجاجی سیاست اپنائے رکھنے کا مشورہ دے رہے تھے۔ خیال رہے کہ تحریک انصاف نے حکومت کے خلاف ممکنہ سول نافرمانی کی تحریک چلانے کا اعلان کر رکھا ہے ’جسے عمران کی ہدایت پر وقتی طور پر مزاکرات شروع کرنے کے لیے موخر کیا گیا ہے ، اس کی نئی تاریخ کا اعلان ابھی نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب وفاقی حکومت کے بعض اراکین خبردار کر چکے ہیں کہ اگر پی ٹی آئی سول نافرمانی کی تحریک کی ’دھمکی کو استعمال کر کے حکومت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرے گی تو مذاکرات کا کامیاب ہونا مشکل ہو گا۔ تاہم سوال یہ ہے کہ ایسے ماحول میں کیا حکومت اور اپوزیشن مذاکرات زیادہ آگے بڑھ پائیں گے۔ سوال یہ بھی یے کہ کیا حکومت پی ٹی آئی کے مطالبات پر اپوزیشن کو کوئی ضمانت دینے کی پوزیشن میں ہے، اگر ایسا نہیں ہے تو پی ٹی آئی کو اس وقت حکومت سے بات چیت کی ضرورت کیوں محسوس ہو رہی ہے؟
سیاسی تجزیہ کار اتفاق کرتے ہیں کہ تحریک انصاف کو اس وقت مذاکرات کی میز پر لانے میں بڑا کردار اس حقیقت کا ہے کہ اس کی احتجاج اور مظاہروں کی کالز مسلسل ناکامیوں ہوئی ہیں اور اس کی عوامی طاقت سے مطالبات منوانے کی صلاحیت کم ہوتی جا رہی ہے۔ تاہم اگر پی ٹی آئی کو ایسا محسوس ہو رہا تھا تو پھر اس نے سول نافرمانی کی تحریک چلانے کا اعلان کیوں کر رکھا ہے۔
اس سوال کا جواب دیتے ہوئے تجزیہ نگار ماجد نظامی کہتے ہیں کہ پاکستانی معاشرے میں سول نافرمانی جیسی تحریک کے لیے گنجائش خاصی کم ہے۔ پی ٹی آئی اس کو دباؤ کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ ایسی کوئی بھی تحریک شروع کرنے یا کرنے کے بعد بھی مذاکرات جاری رہیں گے۔ ماجد سمجھتے ہیں کہ پی ٹی آئی سول نافرمانی تحریک کو بارگیننگ چپ کے طور پر استعمال کرے گی۔
دوسری جانب تجزیہ نگار حسن عسکری رضوی کہتے ہیں کہ حکومت کبھی بھی پہلی بار ہی میں پی ٹی آئی کے اس قدر زیادہ مطالبات تسلیم نہیں کرے گی۔ وہ چاہیں گے کہ پی ٹی آئی پہلے اپنے مطالبات سامنے لائے اور پھر ان میں سے چند پر سمجھوتہ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ وہ کہتے ہیں کہ پہلے ہی مرحلے میں بھاری بھر کم مطالبات کو پورا کیا جائے ایسا ممکن نہیں ہو گا۔ انکے مطابق دونوں پارٹیوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ سازگار ماحول بنانے کے لیے چھوٹے چھوٹے مطالبات سے شروع کیا جائے۔ وہ کہتے ہیں کہ عمران خان کی رہائی مذاکرات کا آخری مرحلہ تو ہو سکتا ہے، پہلا نہیں ہو سکتا۔
سینیئر صحافی سہیل وڑائچ کے خیال میں تحریک انصاف کو بھی اس بات کا احساس ہے۔ انکے خیال میں اگر اعتماد کا ماحول بن جاتا ہے تو پی ٹی آئی حکومت سے مزید کیسز نہ بنانے، سیاسی گرفتاریوں میں کمی کرنے اور پراسیکیوشن کی طرف سے نرمی دکھانے جیسے مطالبات کر سکتی یے۔ انکے مطابق پی ٹی آئی کے پاس اس وقت جو دو بڑی بارگیننگ چپس ہیں وہ ان ہی پر حکومت سے بات چیت میں اپنی طرف سے آفر کے طور پر استعمال کر سکتی ہے۔ وہ حکومت کو پر امن سیاسی ماحول اور بیرون ملک حکومت مخالف سرگرمیوں میں کمی یا ان کو ختم کرنے جیسی چیزیں آفر کر سکتی ہے۔
تاہم تجزیہ کار حسن عسکری رضوی کہتے ہیں کہ ان کے خیال میں حکومت پی ٹی آئی سے بہت سے اقدامات چاہے گی جس میں یہ بھی شامل ہو سکتا ہے کہ سب سے پہلے پی ٹی آئی انتخابات کو تسلیم کرے۔ وہ پی ٹی آئی سے چاہیں گے کہ ان کی حکومت کو جائز حکومت تسلیم کیا جائے اور ان ہی انتخابات کو تسلیم کر کے معملات کو آگے بڑھایا جائے۔ انکے مطابق حکومت پی ٹی آئی کو یہ بھی کہے گی کہ 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کے حوالے سے مقدمات کا پی ٹی آئی کو عدالتوں میں سامنا کرنا ہو گا۔
ان کے خیال میں حکومت پی ٹی آئی کے سامنے یہ شرط بھی رکھے گی کہ وہ بار بار احتجاج اور دھرنوں کی سیاست کو ختم کرے گی۔
تاہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا پی ٹی آئی ان تمام نکات اور ان جیسے دیگر معاملات پر صرف حکومت کی گارنٹیوں کو تسلیم کر پائے گی۔
پی ٹی آئی کے رہنما کئی مرتبہ اس بات کا اظہار کر چکے ہیں کہ ’وہ اصل طاقت رکھنے والوں سے مذاکرات کرنا چاہیں گے۔‘ ان کا اشارہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی طرف ہوتا ہے۔ تجزیہ نگار حسن عسکری رضوی کہتے ہیں کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ حکومت پی ٹی آئی کے کسی بھی مطالبے پر فیصلہ کرنے سے پہلے چاہے گی کہ اس میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی مرضی شامل ہو۔ ویسے بھی سب جانتے ییں کہ اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد کے بغیر کسی بھی مطالبے پر حکومت کے لیے اپنے طور پر فیصلہ کرنا ممکن نہیں ہو گا۔
یہی وجہ ہے کہ جہاں بھی 26 نومبر کا ذکر آتا ہے وہاں حکومت 9 مئی کا ذکر ضرور لے آتی ہے۔ یہ طے ہے کے مذاکرات کے دوران اتحادی حکومت ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو آن بورڈ رکھے گی کیونکہ اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے بغیر آگے نہیں بڑھا جا سکتا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت میں کہ جب جنرل فیض حمید کے ملٹری ٹرائل کا فیصلہ انے والا ہے، اسٹیبلشمنٹ کسی صورت 9 مئی کے منصوبہ سازوں کو کوئی ریلیف نہیں دے گی۔ چنانچہ مزاکرات کی ناکامی کے امکانات انکی کامیابی سے زیادہ نظر آتے ہیں۔
