پاکستانی عوام فیض حمید کی یکی کا خمیازہ کیسے بھگت رہے ہیں؟

 

 

 

معروف لکھاری اور تجزیہ کار یاسر پیرزادہ نے کہا ہے کہ عمران خان کے دور  حکومت میں اپنائی گئی”گڈ طالبان” اور "بیڈ طالبان” کی پالیسی ایک سنگین غلطی تھی جس کے نتیجے میں آج پورا پاکستان تحریک طالبان کی دہشت گردی کی زد میں ہے۔ ان کے مطابق جنرل ریٹائیرڈ فیض حمید کی جانب سے ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کو مذاکرات کے ذریعے افغانستان سے واپس لا کر یہاں دوبارہ آباد کرنا ایک تباہ کن فیصلہ ثابت ہوا۔

 

روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں یاسر پیرزادہ کہتے ہیں کہ اس نام نہاد امن عمل کے نتیجے میں شدت پسندوں کو خود کو منظم کرنے، سلیپر سیلز فعال کرنے اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کا موقع ملا۔ انکے مطابق افغانستان اور دہشت گردی کے معاملے پر پاکستان کی سابقہ پالیسیوں نے ملک کو سنگین نتائج سے دوچار کیا، انہوں نے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے معاملے میں پاکستانی دانشور بھی شدید مخمصے کا شکار رہے ہیں۔ ایک طرف مذہبی رجحان رکھنے والے حلقے افغان معاشرے کو ایک مثالی اسلامی نظام کے طور پر پیش کرتے ہیں، جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس تصویر دکھاتے ہیں جہاں خواتین کو تعلیم اور روزگار کے مواقع حاصل نہیں اور لاکھوں بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔

 

دوسری جانب یاسر پیرزادہ نے ان سیکولر دانشوروں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جو ہر معاملے میں پاکستان کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔ انکے مطابق دونوں انتہاؤں پر موجود حلقے حقیقت پسندانہ تجزیے سے گریزاں ہیں۔ انہوں نے اگست 2021 میں افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد پاکستان میں پائے جانے والے جوش و خروش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی طبقے کے ساتھ ساتھ بعض آزاد خیال حلقوں نے بھی یہ سمجھا کہ اب مغربی سرحد محفوظ ہو جائے گی اور تزویراتی گہرائی کا تصور عملی شکل اختیار کر لے گا، مگر یہ خوش فہمی جلد ہی بھیانک خواب ثابت ہوئی۔

انہوں نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا۔ رپورٹ کے مطابق سال 2025ء میں پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں گزشتہ برس کے مقابلے میں 35 فیصد اضافہ ہوا جبکہ 95 فیصد واقعات خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں پیش آئے۔ تاہم ریاستی کارروائیوں میں بھی تیزی آئی اور 259 کارروائیوں میں 13 سو دہشت گرد ہلاک کیے گئے جو پچھلے سال کے مقابلے میں 64 فیصد زیادہ ہے۔

 

پیرزادہ نے یہ نشاندہی کی کہ امریکی افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد اربوں ڈالرز مالیت کا جدید فوجی سازو سامان وہیں رہ گیا، جس کا کچھ حصہ طالبان شدت پسندوں کے ہاتھ لگ چکا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹس کے مطابق تحریک طالبان پاکستان کے چھ ہزار جنگجو افغانستان میں موجود ہیں اور انہیں وہاں محفوظ ٹھکانے میسر ہیں، جہاں سے وہ پاکستان میں سرحد پار حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔

یاسر پیرزادہ نے بھارت پر بھی الزام عائد کیا کہ اس نے مذہبی شدت پسندوں اور علیحدگی پسند عناصر کے درمیان گٹھ جوڑ کروا کر پاکستان کے اندرونی امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق پاکستان طویل عرصے تک اچھے اور برے طالبان کی بحث میں الجھا رہا اور حالیہ برسوں میں مذاکرات اور رعایتوں کی پالیسی نے شدت پسندوں کو مزید تقویت دی۔

 

انہوں نے زور دیا کہ اب دہشت گردی کے مسئلے پر کسی قسم کی نرمی یا ابہام کی گنجائش نہیں۔ ان کے مطابق جو بھی آئین پاکستان اور ریاستی عملداری کو چیلنج کرے، وہ دہشت گرد ہے اور اس کے ساتھ قانون کے مطابق سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ افغان حکومت سے تعلقات برادرانہ جذبات کے بجائے ریاستی مفادات کی بنیاد پر استوار کیے جائیں اور اگر افغانستان اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے نہیں روک سکتا تو پاکستان کو اپنے دفاع کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کا حق حاصل ہے۔

فوجی قیادت عمران کا اعتبار کرنے کو تیار کیوں نہیں ہے؟

پیرزادہ نے پاک افغان سرحد کو باقاعدہ بین الاقوامی سرحد کے طور پر منظم کرنے، پاسپورٹ اور ویزہ نظام پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے اور غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے معاملے کو قانون اور انسانی حقوق کے دائرے میں رہتے ہوئے حل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق شہروں کے اندر دہشت گردی سے نمٹنے کی بنیادی ذمہ داری پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی پر عائد ہوتی ہے جبکہ فوج کا اصل کام سرحدوں کا دفاع ہے۔

 

Back to top button