داعش اور طالبان عناصر امریکہ اور پاکستان کو قریب کیسے لانے لگے؟

افغانستان میں داعش اور طالبان جیسی شدت پسند تنظیموں کی بڑھتی ہوئی طاقت نے نہ صرف پاکستان کے لیے مشکلات کھڑی کی ہیں بلکہ امریکہ کے کان بھی کھڑے کر دیئے ہیں جس کے نتیجے میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ دوبارہ سے تعاون کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ 2021 میں کابل ایئرپورٹ پر خودکش حملے میں 13 امریکیوں کو مارنے والے داعش کے کمانڈر شریف اللہ جعفر کی پاکستان سے گرفتاری اور پھر حوالگی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
چنانچہ یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ افغانستان میں متحرک دہشت گرد تنظیموں کی بڑھتی ہوئی طاقت نے امریکہ اور پاکستان کو قریب لانا شروع کر دیا ہے۔دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جس طرح افغانستان میں شدت پسند تنظیمیں مضبوط ہوئی ہیں، وہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان ایک طویل مدتی تعاون کی بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔
پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کو تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو افغانستان کا ایک مرکزی کردار رہا ہے۔ جنرل ضیا کی آمریت کے دوران سوویت یونین کے خلاف افغانستان میں جہاد کے نام پر لڑی جانے والی جنگ ہو یا پھر جنرل مشرف کے دور اقتدار میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں القاعدہ اور طالبان کے خلاف فراہم کی جانے والی مدد، پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات پر افغانستان میں پیش آنے والے واقعات کا سایہ رہا۔ اسی تاریخ سے جڑی ایک اور دلچسپ حقیقت یہ بھی رہی کہ 80 کی دہائی کے امریکی صدر ریگن ہوں یا پھر سنہ 2000 کے جارج بش، دونوں کا ہی تعلق امریکہ کی رپبلکن جماعت سے تھا جن کے ادوار میں ماہرین کے مطابق پاکستان فوج اور امریکی سکیورٹی کا تعلق قریبی تھا۔ دوسری جانب جنرل ضیا اور جنرل مشرف، دونوں ہی جمہوری حکومتوں کا تختہ الٹنے کے باعث تنقید کا نشانہ بنے رہے تاہم انھیں امریکی حمایت اور امداد دستیاب رہی۔ اب ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے تاریخ ایک بار پھر خود کو دوہرا رہی ہے۔
آج پھر امریکہ میں رپبلیکن جماعت کے صدر ٹرمپ اقتدار میں ہیں تو پاکستان میں ایک کمزور جمہوری نظام حکومت رائج ہے جسے ملٹری اسٹیبشلمنٹ کی حمایت حاصل ہے۔
جہاں پاکستانی حکومت کو کمزور معیشت کا سامنا ہے وہیں فوجی اسٹیبلشمنٹ کو بھی سیاسی و معاشی معاملات میں مداخلت پر شدید تنقید برداشت کرنا پڑ رہی ہے۔ ایسے میں ملک میں بڑھتی دہشت گردی کے واقعات، ہمسایہ ممالک سے بگڑتے تعلقات اور دیگر عوامل کے بیچ میں امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کی تعریف کرنا حکومت و اسٹیبلشمنٹ کے لیے کسی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے سے کم نہیں ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے منگل کو کانگریس سے اپنے پہلے خطاب میں 2021 میں کابل ایئرپورٹ پر امریکی فوجیوں پر ہونے والے خودکش حملے کے ایک منصوبہ ساز کی گرفتاری میں مدد کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کرنے کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔ داعش سے تعلق رکھنے والے منصوبہ ساز شریف اللہ کو پاکستانی حکام نے گرفتاری کے بعد امریکہ کے حوالے کر دیا ہے۔ لیکن معاملہ صرف صدر ٹرمپ کے بیان تک محدود نہیں رہا، امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان نے بھی شریف اللہ کی گرفتاری میں تعاون پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’جہاں تک پاکستان اور ہمارے تعلقات کا تعلق ہے تو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارا ایک مشترکہ مفاد ہے، اور حالیہ گرفتاری نے واضح کیا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعاون انتہائی اہم ہے۔‘
وزیر اعظم شہباز شریف نے صدر ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کے تعاون پر شکریہ ادا کرنے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا خطے میں انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں پاکستان کے کردار اور حمایت کو تسلیم کرنے اور سراہنے پر شکریہ ادا کرتے ہیں اور ہم علاقائی امن اور استحکام کے لیے امریکہ کے ساتھ قریبی شراکت داری جاری رکھیں گے۔‘
عالمی امور کے ماہرین نے اس پیش رفت کو پاکستانی فوج اور امریکی انتظامیہ میں ایک بار پھر رابطے بحال ہونے کے مترادف قرار دیا ہے جبکہ پاکستان اور امریکی خفیہ ایجنسیوں کی مشترکہ کارروائی کو پاکستان کی جانب سے اعتماد کی فضا بحال کرنے کی کوشش قرار دیا گیا ہے۔ گذشتہ چند برسوں سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں سرد مہری رہنے کے بعد اس پیش رفت کے بعد پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو لے کر بہت سے سوالات جنم لے رہے ہیں۔ ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا ایک ایسے وقت میں جب ٹرمپ افغانستان سے امریکی انخلا کو شرمناک قرار دیتے ہوئے امریکی اسلحہ واپس لانے اور خطے میں بڑھتی شدت پسندی کو روکنے کی بات کر رہے ہیں تو کیا پاکستان اس موقعے کا فائدہ اٹھا سکتا ہے؟ یاد ریے کہ پاکستان بار بار یہ الزام عائد کر رہا ہے کہ افغانستان میں طالبان عناصر پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے خلاف وہ اسلحہ استعمال کر رہے ہیں جو امریکہ افغانستان میں چھوڑ آیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ پاکستان کا کہنا تھا کہہم امریکی صدر کے افغانستان سے عسکری سازو سامان واپس لانے کے خیال کی حمایت کرتے ہیں۔ اگر امریکہ ان ہتھیاروں کی واپسی کے لیے کوئی کوشش کرتا ہے تو یہ مجموعی علاقائی سلامتی کے لیے مددگار ثابت ہو گا۔
یاد رہے کہ حالیہ چند برسوں کے دوران پاکستان میں بھی دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2025 کے مطابق پاکستان 163 ممالک میں دوسرے نمبر پر آ چکا ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان میں دہشت گردی سے متعلق واقعات میں 45 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
ان حالات میں جبکہ داعش اور طالبان جیسے شدت پسند خطے میں دوبارہ سے اپنی طاقت بڑھا رہے ہیں، امریکہ اور پاکستان نے ایک مرتبہ پھر ایک دوسرے سے دفاعی تعاون شروع کر دیا ہے جس کا فائدہ دونوں ممالک کو ہو گا۔
کامران بخاری کہتے ہیں کہ اب عالمی حالات کے تناظر میں امریکی انتظامیہ میں ایک نیا نظریہ فروغ پا رہا ہے کہ دنیا کے مختلف خطوں میں امریکہ کے فٹ پرنٹ کو کم کر کے اس خطے کے اہم سٹیک ہولڈرز کے ذریعے معاملات کو دیکھا جائے گا۔ تاہم سکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان یہ توقع کر رہا ہے کہ انسداد دہشت گردی کے معاملے کو لے کر اس کے امریکہ کے ساتھ پہلے جیسے تعلقات استوار ہو جائیں گے تو ایسا کچھ نہیں ہونے والا، ماضی میں ضیا دور یا مشرف دور میں انسداد دہشت گردی یا دفاعی تعاون کے نام پر امریکہ سے پیسہ پاکستان آتا تھا لیکن اب وہ زمانہ نہیں رہا۔ انکا کہنا یے کہ اگر پاکستان امریکہ کے ساتھ طویل مدتی تعلقات کا خواہاں ہے تو اسے ماضی کے نظریہ سے باہر نکلنا ہو گا اور ٹرمپ کی "کچھ لو اور دو” کی پالیسی پر چلنا ہو گا۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ ایسا کرنے کے لیے پاکستان کو چین اور امریکہ کے تعلقات کو بھی مد نظر رکھنا ہو گا۔
