مودی نے رافیل کی ڈیل میں ساڑھے 7 ملین پاؤنڈز کیسے کھائے؟

حالیہ مختصر پاک بھارت جنگ کے دوران رافیل طیاروں کی ناکامی سے جہاں مودی کے گھمنڈ کوشدید دھچکا پہنچا ہے،وہیں رافیل طیاروں کی تباہی کے بعد مودی ایک بار پھر “رافیل ڈیل “ میں کرپشن اور فراڈ کے الزامات کی زد میں آگئے۔رافیل طیاروں کی ڈیل بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے گلے کی ہڈی بن گئی، جس میں اب اربوں روپے کی ہیرا پھیری کا بھی انکشاف ہوا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق فرانسیسی طیاروں کا سودا کروڑوں ڈالر کے کک بیک پرطے پایا، نریندر مودی کے قریبی دوست بزنس مین سوشن گپتا کو گڑبڑ گھٹالے کا مرکزی مہرہ قرار دیا جا رہا ہے جبکہ رافیل طیاروں کی ڈیل میں بھارتی بزنس مین انیل امبانی کے ملوث ہونے کی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں جبکہ حکومت نےاس حوالے سے ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لانے کی بجائے رافیل طیاروں بارے سی بی آئی کی تحقیقات پر پردہ ڈال دیا ہے
دوسری جانب بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ”مودی سرکار کو رافیل ڈیل میں 7.5 ملین یورو کمیشن کی ادائیگی ہوئی“۔ رپورٹ میں قیمتوں میں مبالغہ آرائی کا دعویٰ کرتے ہوئے ڈیل کو بھی مشکوک قرار دیا گیا ہے جبکہ نیشنل ہیریلڈ انڈیا کی رپورٹ کے مطابق یہ ادائیگی بھارتی بزنس مین سوشن گپتا کو رافیل ڈیل کے تحت 7.5 ملین یورو کی خفیہ کمیشن کے تحت ہوئی۔
خیال رہے کہ اس سے قبل کانگریس رہنما راہول گاندھی نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ “ رافیل ڈیل میں کرپشن کی گئی ہے اور اربوں ڈالر کا فراڈ کیا گیا ہے“۔ رافیل ڈیل کے وقت بی جے پی حکومت کے وزیر دفاع منوہر پاریکر بھی اس ڈیل کا حصہ نہیں بنے تھے اور انہیں استعفیٰ دینا پڑا تھا۔انیل امبانی کی کمپنی 45 ہزار کروڑ روپے کے قرض میں ڈوبی ہوئی تھی اور اس کی مدد کیلئے ہی نریندر مودی نے رافیل طیاروں کے معاہدے کا سہارا لیا۔ان انکشافات کے باوجود مودی سرکار کی جانب سے اس اہم معاملے کی تحقیقات کو نظر انداز کرنے پر کئی سوالات اٹھ گئے ہیں۔
پاکستان نے خود سے 5 گنا بڑے دشمن انڈیا کو شکست کیسے دی؟
دی وائر کے مطابق “ کرائم بیورو آف انویسٹیگیشن مودی کی کرپشن اور بدعنوانیوں کو سامنے لایا مگر مودی نے آج تک اس واقعے پر مجرمانہ خاموشی اختیار کی“ تاہم مودی کے خلاف کرپشن کے کیسز سامنے لانے پر سی بی اے کے ڈائریکٹر کی برطرفی اور تحقیقات آگے نہ بڑھانے پر مودی کی دھمکیاں اور پائلٹس کی نااہلی اور طیاروں کی تکنیکی خامیوں نے مودی کی کرپشن کے پول کھول دئیے ہیں۔
این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مودی سرکار کے ماتحت سی بی آئی کے ڈائریکٹر نے رافیل کرپشن کیس پر تفتیش آگے نہیں بڑھائی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2018 میں سی بی آئی کو رافیل طیاروں کی ڈیل میں 7.5 ملین یورو کمیشن کی ادائیگی کے ثبوت ملے تھے تاہم مودی سرکار کے سیاسی دباؤ کے تحت اس اہم معاملے پر کسی قسم کی کارروائی نہیں کی گئی۔
دی وائر کی رپورٹ کے مطابق انٹرا پارٹی رپورٹ میں بھی رافیل ڈیل میں 12.8 ملین یورو رشوت کا انکشاف کیا گیا تھا۔ اس حوالے سے سی بی آئی اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے پاس رشوت کی مکمل دستاویزات موجود ہیں۔ 12 ہزار صفحات پر مشتمل ثبوت سی بی آئی کو 2018 میں ملے تھے تاہم مودی سرکار کی دھمکیوں اور سی بی آئی ڈائریکٹر کی برطرفی کے باعث کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی جبکہ دوسری جانب مودی سرکار نے بھارت ٹوڈے پر رافیل ڈیل کی رپورٹ چھپانے کے لیے بھی دباؤ ڈالا۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ انیل امبانی کی کمپنی کو فائدہ پہنچانے کے لیے بھارت نے رافیل طیاروں کی ڈیل میں اربوں روپے کی کرپشن کر کے اپنی گرتی ہوئی ساکھ مزید کمزور بنا دیا ہے۔ اس ڈیل کے حوالے سے فرانسیسی کمپنی کے کہنے پر فرانس میں تحقیقات ہوئیں مگر مودی سرکار نے اس پر مسلسل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ تاہم رافیل اسکینڈل نے مودی سرکار کی کرپشن کی حقیقت دنیا کے سامنے رکھ دی ہے۔
پاک فضائیہ کے شاہینوں کے ہاتھوں جدید ترین رافیل طیاروں کے گرنے کے بعد بھارتی کے سیاسی حلقوں میں ایک بار پھر رافیل سکینڈل کی از سر نو تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔ حالیہ دنوں ٹائمز آف انڈیا کے ایکس اکاؤنٹ پر کانگریس کے رہنما راہول گاندھی کی پرانا کلپ شیئر کیا گیا ہے، جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ رافیل ڈیل میں کوئی بھی چیز بھارتی وزیراعظم کو نہیں بچاسکتی۔ان کا کہنا تھا کہ رافیل ڈیل کے حوالے سے ثبوت بالکل واضح ہیں۔ جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ نریندر مودی نے ذاتی طور پر انیل امبانی کو 30 ہزار کروڑ روپے دلانے میں مدد دی۔انہوں نے کہا کہ میرا سوال بڑا سادہ ہے کہ بھارتی عوام کو بتائیں کہ نریندر مودی نے کب پرانی رافیل ڈیل بائی پاس کی اور کیا وزارت دفاع نے اس پر اعتراض اٹھایا؟
دوسری جانب کانگریس کے سینیئر رہنما رندیپ سنگھ سرجیوالا اور سنجے نروپم کا مودی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہنا ہے کہ مودی سرکار اور ڈسالٹ ایوی ایشن کے سی ای او ایرک ٹراپئر کا انٹرویو صرف ایک "پی آر اسٹنٹ” ہے جو سچ کو چھپانے کی ناکام کوشش ہے۔ "ڈکٹیشن پر مبنی انٹرویوز اور گھڑی ہوئی باتیں رافیل اسکینڈل کو دبا نہیں سکتیں۔ قوم کو بدلتی وضاحت نہیں، شفاف تحقیقات کی ضرورت ہے۔”
کانگریس رہنما سنجے نروپم نے کہا "رافیل ڈیل میں تقریباً 41 ہزار کروڑ روپے کی کرپشن کی گئی ہے، اور آج تک اس سودے کی اصل قیمت عوام کو نہیں بتائی گئی۔”انہوں نے مزید الزام لگایا "اس ڈیل میں مودی کے قریبی ساتھی انیل امبانی کو ناجائز فائدہ دیا گیا، اور فرانس حکومت پر بھارت کی طرف سے دباؤ ڈالا گیا۔ ڈسالٹ کے اندرونی کاغذات میں درج ہے کہ اگر امبانی کو شامل نہ کیا گیا تو کنٹریکٹ نہیں ملے گا۔”
