انڈیا سے جنگ جیت کر پاکستان ساؤتھ ایشیا کی بڑی طاقت کیسے بنا؟

پاکستان کے ہاتھوں بھارت کی حالیہ جنگی شکست نے خطے میں طاقت کا توازن تبدیل کر دیا ہے اور اب ساؤتھ ایشیا کے دیگر ممالک بھی دفاعی لحاظ سے پاکستان کو بھارت کی ٹکر کا ملک تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ 10 مئی کی جنگ نے خطے کے ساتھ ساتھ ملکی منظر نامہ بھی تبدیل کر دیا ہے، پاکستان کے اعتماد میں بڑا اضافہ ہو چکا ہے، اور حکومت نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دے دی ہے۔
بھارت کو ناکوں چنے چبوانے کے بعد جہاں حکومت پاکستان کے اعتماد میں بڑا اضافہ ہوا ہے، وہیں حکومت نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دے دی ہے، ساتھ ہی ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد بھی ان کی خدمات کو جاری رکھنے کا متفقہ فیصلہ کر لیا ہے۔
روزنامہ دنیا کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ بات تو روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ حالیہ جنگ میں پاکستان نے 1965ء کے بعد پہلی بار نہ صرف اپنے ازلی دشمن بھارت کے خلاف بڑی فتح حاصل کی ہے بلکہ اس کامیابی کو 1965ء سے بھی بڑی فتح کے طور پر دیکھا جارہا ہے کیونکہ اس مرتبہ دنیا نے بلا شک و شبہ یہ تسلیم کر لیا ہے کہ پاکستان نے اس جنگ میں بھارت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے، پاک فضائیہ اور پاک فوج نے بھارت کو ایسے ایسے زخم لگائے کہ جدید دنیا کی جنگی تاریخ میں دیکھنے کو نہیں ملتے۔
پاکستان نے بھارت کے تین رافیل طیاروں سمیت چھ جنگی طیارے مار گرائے اور دنیا کے جدید ترین ایئر ڈیفنس سسٹم ایس 400کو بھی بھاری نقصان پہنچایا، بھارت کی لگ بھگ 26 ایئر بیسز کو بھی اتنا بڑا نقصان پہنچایا کہ 9 اور 10 مئی کی درمیانی رات جب پاکستان کی جانب سے آپریشن بنیان المرصوص شروع کیا گیا تو بھارت کا ایک بھی طیارہ ان ایئر بیسز سے اڑان نہیں بھر سکا، یہ کامیابی پاکستان کی عسکری قیادت کے اعتماد اور فیصلہ سازی کی طاقت کے بغیر ممکن نہیں تھی۔
مبصرین کے مطابق آپریشن بنیان المرصوص کا پلان اور اس پر عملدرآمد مکمل طور پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کریڈٹ ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ پاک فضائیہ کے انتہائی مؤثر اور پیشہ ورانہ کردار کے بغیر یہ جنگ جیتنا ممکن نہیں تھا، مگر پاکستان کے پاس موجود جنگی وسائل اور فورسز کی پروفیشنلزم کے ساتھ ساتھ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے فیصلے ہی یہ جنگ جیتنے کا سبب بنے ہیں۔
پاکستان اور انڈیا عالمی سفارتی مہم سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں ؟
جنگ کی اس صورتحال میں آئی ایس پی آر کا کردار بھی سراہے جانے کے قابل ہے کیونکہ یہ جنگ فضا اور زمین کے ساتھ ساتھ میڈیا کے محاذ پر بھی لڑی جا رہی تھی، اس انفارمیشن وار فیئر میں بھارت کے بھاری بھر کم میڈیا اور ریاستی پراپیگنڈے کا توڑ آئی ایس پی آر نے اصل حقائق دنیا کے سامنے رکھ کر کیا، آئی ایس پی آر نے چھ طیارے گرائے جانے سے لے کر 26 ایئر بیسز اور ایئر ڈیفنس سسٹم کی تباہی تک جتنی بھی معلومات دنیا کے سامنے رکھیں ان میں سے ایک بھی غلط ثابت نہیں ہوئی۔پاکستان نے اپنی جانب ہونے والے نقصان کے بھی حقائق نہیں چھپائے، عالمی میڈیا نے پاکستان اور اس کے میڈیا کی دی گئی خبروں پر مہرِ تصدیق ثابت کی اور دنیا کو بتایا کہ پاکستان کی جانب سے کئے گئے دعوے حقیقت پر مبنی ہیں، یہی وجہ ہے کہ یہ جنگ پاکستان نے ہر محاذ پر جیتی۔
وزیر اعظم پاکستان نے گزشتہ روز سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنرل سید عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کا اعزاز دینے کا فیصلہ حکومت کا ہے فوج کا نہیں اور اس معاملے میں انہوں نے نواز شریف کے ساتھ مشاورت کی تھی، وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اور بھارت زمانہ امن کی پوزیشن پر واپس آرہے ہیں اور اس حوالے سے دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز کی سطح پر اتفاق ہو چکا ہے۔
اگرچہ دونوں ملکوں میں سیز فائر کے بعد افواج کی زمانۂ امن کی سطح پر واپسی ایک بڑی پیشرفت ہے مگر دوسری جانب بھارت نے جنگ بندی کے بعد پراکسیز کے ذریعے پاکستان میں بد امنی پھیلانے کا کام شروع کر دیا ہے، معرکۂ حق میں ملنے والی شکست اور امریکا کے ذریعے جنگ بندی کرانے کے بعد بھارت نے پاکستان میں فتنہ الخوارج اور بی ایل اے کو متحرک کر دیا ہے اور بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں نے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں حملے تیز کر دیے ہیں۔گزشتہ روز بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں خضدار میں سکول کے بچوں کی بس کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں تین معصوم بچوں سمیت چھ افراد شہید ہوگئے، مبصرین کے مطابق بھارتی عزائم بتا رہے ہیں کہ وہ اپنی خفت مٹانے کیلئے نہ صرف پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ کرنا چاہتا ہے بلکہ بھارت یا مقبوضہ کشمیر میں فالس فلیگ آپریشن کروا کر کوئی نیا ڈرامہ بھی رچا سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ دونوں اطراف سے ایل او سی سے فوجیں پیچھے ہٹانے کے باوجود ابھی بھی کئی چیلنجز باقی ہیں۔
