سیاسی ججز کی یکیوں نے عدالتی ترامیم پر کیسے مجبور کیا ؟

 

 

 

ایک جانب تحریک انصاف کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم کو عدلیہ کی آزادی ختم کرنے کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے تو دوسری طرف ناقدین کا کہنا ہے کہ ان تمام کے ذمہ دار وہ ججز ہیں جو منصفوں کے بھیس میں عمران خان کا سیاسی ایجنڈا آگے بڑھاتے ہوئے من مرضی کے فیصلے دے رہے تھے۔ انکا کہنا ہے کہ بعض جج حضرات تو باقاعدہ سیاسی رہنما بن کر کیسز کی سماعت کے دوران سیاسی تقریریں کرنے لگے تھے۔ لہذا اس رجحان کو ختم کرنے کے لیے عدالتی ترامیم ضروری ہو گئی تھیں۔

 

تجزیہ کاروں کے مطابق ہماری عدالتی تاریخ میں ایسے ادوار بارہا آئے جب عدالتِ عظمیٰ کے بعض فیصلے ایک خاص سیاسی بیانیے سے ہم آہنگ دکھائی دیے۔ ماضی قریب میں بھی کئی ایسے فیصلے سامنے آئے جن میں تحریک انصاف کے سیاسی ایجنڈے اور عمران خان کی ریاست مخالف بیانیے کو تقویت دی جاتی رہی۔ یہ سلسلہ اُس وقت شروع ہوا جب سپریم کورٹ کے ایک بنچ نے نااہلی کی مدت کے تعین کے سوال پر فیصلہ سنایا۔ اس بنچ میں اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار، جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس عظمت سعید شامل تھے۔ ان جج صاحبان نے قرار دیا کہ عوامی نمائندے کی نااہلی تاحیات ہوگی۔ اس فیصلے کے بعد سابق وزیرِاعظم نواز شریف ہمیشہ کے لیے نااہل قرار پائے۔

 

یہ معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا۔ جب نواز شریف نااہلی کے باوجود اپنی جماعت کے فیصلوں میں حصہ لیتے رہے اور پارٹی ٹکٹ جاری کرنے کے اختیارات استعمال کیے، تو ایک اور بنچ، جس کی سربراہی پھر چیف جسٹس ثاقب نثار نے کی، اس مسئلے پر سماعت کے لیے تشکیل دیا گیا۔ اس بنچ میں جسٹس بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن بھی شامل تھے۔ اس بنچ نے ایک ایسا فیصلہ دیا جس کے نتیجے میں نواز شریف کو بطور پارٹی قائد تمام تر اختیارات سے بھی محروم کر دیا گیا۔

 

اسی دوران مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی نے سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی، جس میں الزام لگایا گیا کہ عمران خان نے بنی گالا کی جائیداد کے حوالے سے مس ڈیکلریشن کی ہے۔ اس کیس کی سماعت کے لیے ایک بار پھر چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ تشکیل پایا، جس میں جسٹس بندیال اور جسٹس فیصل عرب بھی شامل تھے۔ جسٹس ثاقب نثار نے اس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے عمران خان کو باقاعدہ صادق اور امین قرار دے دیا اور یہ الفاظ عدالتی فیصلے کا حصہ بنا دیے گئے۔ چنانچہ سیاسی توازن کے حوالے سے عدالتِ عظمیٰ کے کردار پر بحث نے زور پکڑا شروع کیا۔

 

اسی طرح جب تحریک انصاف نے اسلام آباد میں دھرنا دینے کی اجازت کے لیے عدالت سے رجوع کیا تو اس پٹیشن کی سماعت بھی ایک ایسے بنچ نے کی جس میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر اور جسٹس مظاہر علی نقوی شامل تھے۔ عدالت نے دھرنے کی مشروط اجازت دی، مگر جب عمران خان نے دھرنے کا مقام تبدیل کیا تو توہینِ عدالت کی پٹیشن دائر ہوئی۔ اس معاملے کی سماعت بھی چیف جسٹس بندیال کی سربراہی میں ہوئی، جس میں ایک بار پھر وہی جج صاحبان شامل تھے یعنی جسٹس منیب اختر، جسٹس اعجاز الاحسن، اور جسٹس مظاہر علی نقوی۔

 

دلچسپ امر یہ ہے کہ اسی بنچ میں موجود جسٹس یحییٰ آفریدی نے اختلافی نوٹ لکھا اور قرار دیا کہ عدالت کو اس معاملے میں سیاسی تنازع کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ یہی اختلافی نوٹ آج عدالتی تقسیم کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

جب آرٹیکل 63-اے کی تشریح کا معاملہ عدالت کے سامنے آیا تو اس بنچ کے تین جج صاحبان یعنی بندیال، اعجاز الاحسن، اور منیب اختر  نے ایک ایسا فیصلہ دیا جسے دیگر دو جج صاحبان نے آئین کو “ری رائٹ کرنے” کے مترادف قرار دیا۔ اس کے بعد جسٹس منصور علی شاہ نے بھی اپنا سیاسی ایجنڈا آگے بڑھاتے ہوئے تحریک انصاف کے حق میں ایسے عدالتی فیصلے دیے جو ناقابل فہم تھے۔

 

قانونی ماہرین کے مطابق، انہی متنازع فیصلوں نے حکومت کو عدالتی ترامیم متعارف کروانے پر مجبور کیا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اگر عدلیہ کے اندر توازن قائم نہ کیا گیا تو فیصلے شخصیات کے گرد گھومتے رہیں گے، یہی وجہ ہے کہ اب ایک نئی آئینی عدالت کے قیام کی تجویز سامنے آئی ہے، جس کے دائرۂ اختیار میں آئینی تشریحات، پارلیمانی امور، اور اعلیٰ سطحی عدالتی تنازعات آئیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مجوزہ آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس کے طور پر جسٹس امین الدین خان کا نام زیرِ غور ہے۔ اگر یہ تقرری عمل میں آتی ہے تو وہ موجودہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے بھی زیادہ اختیارات کے حامل ہوں گے، کیونکہ آئینی عدالت کو سپریم کورٹ سے بالا اختیارات دینے کی تجویز زیرِ بحث ہے۔

عمرانڈوججزکاچیف جسٹس کوترامیم کے خلاف ڈٹ جانےکامشورہ

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ عدالتی ترامیم پر تنقید ہونی چاہیئے مگر ان کے پس منظر میں موجود عدالتی رویوں کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انکا کہنا ہے کہ ماضی میں چند مخصوص ججوں کے فیصلوں نے عدلیہ کو سیاسی تنازعات کے مرکز میں لا کھڑا کیا۔ اب یہ ترامیم اس امید کے ساتھ متعارف کروائی جا رہی ہیں کہ ادارہ جاتی احتساب اور عدالتی توازن بحال ہو سکے۔ تاہم، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر ان ترامیم کو سیاسی انتقام کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا، تو عدلیہ میں تقسیم مزید گہری ہو جائے گی۔ یہ وہ خطرہ ہے جو کسی بھی جمہوری نظام کے لیے سب سے بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔

Back to top button