یوتھیے ججز جسٹس امین الدین کا راستہ روکنے میں کیسے ناکام ہوئے؟

حکومت کے پسندیدہ جسٹس امین الدین خان کو 7 رکنی آئینی بینچ کا سربراہ تعینات کر دیا گیا ہے۔
جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں قائم 7 رکنی آئینی بینچ میں سپریم کورٹ کے پہلے تین سینیئر ترین ججز شامل نہیں۔ یہاں یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ جوڈیشل کمیشن میں جسٹس امین الدین کا نام حکومتی نمائندے کی بجائے نمائندہ پاکستان بار کونسل اختر حسین نے تجویز کیا۔ انہوں نے رائے دی کہ آئینی بینچز کا سربراہ اسے ہونا چاہیے جو 26 ویں آئینی ترمیم کا متاثرہ یا اس کا بینیفشری نہ ہو۔ یعنی انہوں نے اپنی تجویز سے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحیی آفریدی اور دو سینیئر ترین ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر کو مائنس کر دیا۔ جس کے بعد اب کی رائے پر ووٹنگ کرائی گئی۔
ذرائع کے مطابق سات ممبران نے جسٹس امین الدین خان کو آئینی بینچز کا سربراہ بنانے کی رائے دی۔ جس کے بعد نو تشکیل شدہ جوڈیشل کمیشن کے پہلے اجلاس میں جسٹس امین الدین خان کو دو ماہ یعنی 60 دنوں کےلیے کثرت رائے سے سپریم کورٹ کے پہلے سات رکنی آئینی بینچ کا سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے۔اجلاس کے بعد جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے دیگر دو سینیئر ترین ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر آئینی بینچ کا حصہ نہیں ہوں گے۔
جوڈیشل کمیشن نے پانچ کے مقابلے میں سات ارکان کی اکثریت سے آئینی بینچ تشکیل دیا۔ آئینی تقاضے کو سامنے رکھتے ہوئے تمام صوبوں سے بینچ میں نمائندگی شامل کی گئی ہے۔ پنجاب، سندھ اور بلوچستان سے دو دو جبکہ خیبر پختونخوا سے ایک جج کو بینچ میں شامل کیا گیا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق 26ویں آئینی ترمیم کے تناظر میں جوڈیشل کمیشن آف پاکستان وقتاً فوقتاً آئینی بینچ تشکیل دیتا رہے گا۔ اس وجہ سے اعلامیے میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ سات رکنی آئینی بینچ کی مدت دو ماہ ہوگی۔ دو ماہ کے بعد جوڈیشل کمیشن دوبارہ نیا بینچ تشکیل دے گا۔
آئینی ماہرین کے مطابق آئینی بینچ تشکیل پانے کے بعد سپریم کورٹ میں مزید کئی تبدیلیاں بھی دیکھنے کو ملیں گی جو کہ اس فیصلے سے مشروط تھیں۔پیر کو پارلیمنٹ میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں ہونے والی ترمیم کے نتیجے میں پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کی تشکیل نو ہوگی اور جسٹس امین الدین خان بہ لحاظ عہدہ اس کمیٹی کے تیسرے رکن مقرر ہوں گے۔اس طرح جسٹس منیب اختر ایک بار پھر پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی سے باہر ہو جائیں گے۔
چونکہ جسٹس امین الدین خان سینیارٹی کی بنیاد پر پہلے ہی جوڈیشل کمیشن کے رکن ہیں اور آئینی بینچ کا سربراہ ہونے کے ناطے بھی وہ جوڈیشل کمیشن کا رکن قرار پاتے ہیں لیکن کمیشن کا ایک رکن بیک وقت دو ووٹ کا حق استعمال نہیں کر سکتا۔اس لیے آئین کے تحت سپریم کورٹ کے اگلے سینیئر ترین جج یعنی جسٹس جمال مندوخیل جوڈیشل کمیشن کے تیرہویں رکن ہوں گے۔
اسی طرح آئینی بینچوں کے سامنے مقدمات فِکس کرنے کے لیے جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس محمد علی مظہر پر مشتمل ایک اور کمیٹی بھی تشکیل پائے گی جو آئینی بینچوں کے سامنے مقدمات فِکس کرنے کا فیصلہ کیا کرے گی۔
خیال رہے کہ پارلیمنٹ سے منظور کی گئی 26ویں آئینی ترمیم اور پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ ترمیمی بل کے تحت آئینی بینچ تمام آئینی معاملات کو دیکھے گا، یعنی جن کیسز میں کسی بھی معاملے پر آئین کی تشریح مطلوب ہو گی وہ آئینی بینچ کے سامنے گیس کئے جائینگے۔
اس کے علاوہ انسانی حقوق سے متعلق تمام امور اور آئین کے آرٹیکل 3/184 کے تحت آنے والے تمام معاملات سے متعلق درخواستوں، مقدمات، اپیلوں اور نظرثانی کی اپیلوں کو بھی آئینی بینچ ہی سُنے گا اور اُن پر فیصلہ کرے گا۔
آئینی بینچ درخواست میں کی گئی اپیل سے باہر ازخود کسی معاملے پر کوئی فیصلہ یا رائے نہیں دے سکے گا۔
جسٹس منصور اور منیب نے نئے چیف جسٹس سے بھی پنگا لے لیا
رجسٹرار سپریم کورٹ آئینی بینچوں کو انتظامی سپورٹ فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔ ججوں کی دستیابی کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام بینچوں میں نامزدگی تمام صوبوں سے یقینی بنائی جائے گی۔
کسی بھی آئینی بینچ کے فیصلے کے خلاف اپیل لارجر آئینی بینچ میں 30 روز میں دائر کی جا سکے گی۔ آئین کے آرٹیکل 3/184 کے تحت موجودہ تمام اپیلیں بھی آئینی بینچز کو منتقل کر دی جائیں گی۔
ترمیم کے تحت سپریم کورٹ میں پہلے دائر ہونے والی درخواست پہلے سُنی جائے گی۔ بعد میں دائر ہونے والی درخواست کو بعد میں سُنا جائے گا۔
