پاکستان میں آپریشن سندور کرنے والے مودی کے  ساتھ سہاگ رات کیسے منائی؟

بھارتی ریاست راجستھان میں وزیر اعظم نریندر مودی کو تقریر کیے تین روز گزر چکے ہیں۔ تاہم ماضی کے چائے فروش مودی نے اپنے خطاب میں جو سستے ڈائیلاگ بولے، وہ اب تک ان کی جان نہیں چھوڑ رہے ہیں۔ گودی میڈیا کے علاوہ بھارتی میڈیا کے متعدد سینئر صحافیوں اور سیاسی تجزیہ نگاروں نے مودی کی اس تقریر کو تین دہائیوں قبل بننے والی کسی سستی انڈین فلم کے گھٹیا اسکرپٹ سے تشبیہ دے دی ہے۔

واضح رہے کہ راجھستان میں اپنی حالیہ تقریر میں شکست خوردہ مودی نے پاکستان کو حسب روایت کھوکھلی گیدڑ بھبھکیاں دیتے ہوئے کہا تھا ’’میری نسوں میں لہو کے بجائے گرم سندور بہہ رہا ہے‘‘۔ اس مضحکہ خیز ڈائیلاگ کو لے کر بھارت کے اپنے سوشل میڈیا ٹرولز مودی کی نام نہاد عزت کا فالودہ بنارہے ہیں۔ مودی کے سندور والے ڈائیلاگ کو لے کر خود ان کے بھارتی ٹرولز بھی زبردست کمپین چلا رہے ہیں۔ مودی کے خلاف سوشل میڈیا پر بھارتیوں کے ہاتھوں بد ترین ٹرولنگ ہو رہی ہے اور مزاحیہ میمز بنائی جارہی ہیں۔ ایک صارف نے ٹرمپ اور مودی کی تصویر لگا کر یہ طنزیہ پوسٹ کی۔ جس میں ٹرمپ، مودی سے پوچھ رہے ہیں ’’ارے یار! تمہاری رگوں میں گرم سندور دوڑ رہا ہے اور تم نے مجھے بتایا بھی نہیں‘‘۔ ایک اور صارف نے شعلے فلم کے ایک سین کو لے کر دھرمیندر کی تصویر کے ساتھ ان کا مشہور ڈائیلاگ پوسٹ کیا، جس میں خون کی جگہ سندور کی ترمیم کرکے لکھا ’’کتے میں تیرا سندور پی جاؤں گا۔‘‘

معروف بھارتی صحافی اشوک کمار پانڈے کے مطابق دنیا کے کسی وزیر اعظم کے پاس اس طرح کا خون نہیں جیسا مودی کے پاس ہے۔ شاید وہ دنیا کے واحد وزیراعظم ہیں، جن کا خون ہر ماہ بدل جاتا ہے۔ انتیس ستمبر دو ہزار چودہ میں مودی نے کہا ’’میں آزاد ہندوستان میں پیدا ہوا تھا اور میری رگوں میں جمہوریت دوڑتی ہے‘‘۔ پھر اسی برس مودی نے فاروق عبداللہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’سیکولرازم میرے خون میں بہتا ہے‘‘۔ دو ہزار چودہ ہی میں مودی نے کہا ’’ میں گجراتی ہوں اور بیوپار میرے خون میں بہتا ہے‘‘۔ یعنی ایک ہی برس کے دوران مودی کے خون میں کبھی جمہوریت دوڑی، کبھی بیوپار یا پیسہ اور کبھی سیکولرزم دوڑا اور اب اچانک سندور بہنے لگا ہے۔

روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق مودی کی تقریر کو لے کر بھارتی سینئر صحافی اشوک وانکھیڑے کہتے ہیں ’’مزاحیہ انڈین فلموں میں ایک المیہ سین چل رہا ہوتا تھا، اس کے بیچ میں اچانک ایک کامیڈین آکر چٹکلہ چھوڑ دیتا تھا۔ چنانچہ اس موقع پر جب سب پہلگام کا سوگ منا رہے ہیں اور پاکستان کے بھرپور جواب پر پریشان ہیں، ایسے میں مودی کا بھاشن ماضی کے مزاحیہ اداکاروں جونی لیور اور محمود جیسا ہے۔ مودی کا خطاب سن کر مختلف فلموں کے ڈائیلاگ یاد آگئے۔ مودی اپنا خون بار بار بدلتے رہتے ہیں۔ بھیگی بلی کی طرح انہوں نے جو سیز فائر کیا ہے، اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ مودی کا خون پانی ہوچکا ہے‘‘۔

بھارتی تجزیہ نگار شیتل پی سنگھ کہتے ہیں ’’آپریشن سندور کے بعد مودی کی سیاست اور ساکھ کو جو دھچکا لگا ہے، اسے گودی میڈیا اور بی جے پی کی سوشل میڈیا ٹیم سنبھالنے کی بھرپور کوششیں کر رہی ہے۔ لیکن بات بن نہیں پا رہی۔ اسی لئے اب مودی کو ڈاکؤں والی پرانی فلموں جیسے ڈائیلاگ بولنے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ تاہم اس کوشش میں وہ الٹا تماشا بن رہے ہیں۔ مودی کی عزت دھول میں میں مل گئی ہے۔ وہ کسی مسخرے سے کم دکھائی نہیں دے رہے۔ مودی کو کون عقل دے گا؟ وہ اپنے ملک میں تو اپنی ہنسی اڑوا رہے ہیں۔ لیکن بیرون ملک مقیم انڈین بھی ان کے ان مزاحیہ ڈائیلاگ کا دفاع کرنے سے قاصر ہیں‘‘۔

معروف بھارتی تاریخ داں اور کئی کتابوں کے مصنف شمس الاسلام کا کہناہے ’’لہو میں گرم سندور جیسے مزاحیہ ڈائیلاگ بولنے والے مودی کی ذہنی حالت پر ترس آتا ہے۔ آر ایس ایس کو چاہیے کہ وہ مودی کو تھوڑا ریسٹ کراکے کسی اچھے نفسیات داں سے ان کا ذہنی علاج کرائیں۔ ورنہ ہمارا وزیر اعظم آگے چل کر ملک کا بہت بڑا نقصان کرسکتا ہے‘‘۔

معروف بھارتی صحافی مکیش کمار کا کہنا ہے ’’مودی چاہے جلسوں اور ریلیوں میں کتنا ہی گرجتے برستے رہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ انہیں ایک قدم آگے بڑھانے سے پہلے سو بار سوچنا پڑے گا۔ اب پاکستان کو ہرانا مشکل ہی نہیں، ایک طرح سے ناممکن ہوتا جارہا ہے۔ مودی نے رجھستان کے خطاب میں اناپ شناپ بکا۔ یہ بڑی شرم کی بات ہے۔ جس طرح کے بھاشن مودی نے راجھستان میں جا کر دئیے، اس کا نہ سر تھا نہ پیر۔ ملک اس وقت ایک بحران میں ہے۔ یہ بحران صرف پاکستان کو لے کر ہی نہیں بلکہ امریکہ بھی ہمیں روز ڈانٹ رہا ہے۔ چین سے ہم بات نہیں کرنا چاہتے۔ ایک ایسے وقت میں جب بھارت اپنا مقدمہ دنیا کے سامنے رکھنے کے لیے سات وفود مختلف ممالک میں بھیج رہا ہے، کیا یہ وفود دنیا کو جاکر کیا یہ بتائیں گے کہ ہمارا وزیر اعظم پاگلوں جیسی باتیں کر رہا ہے کہ اس کے خون میں سندور بہنے لگا ہے‘‘۔

بھارتی صحافی رام پرکاش رائے نے مودی کی حالیہ تقریر پر اپنے پروگرام میں کہا ’’ان پر ہنسی آتی ہے کہ اس شخص نے ملک کو کس مقام پر پہنچا دیا ہے۔ آج پوری دنیا ہم پر ہنس رہی ہے۔ مودی کی تقریر دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا جیسے کامیڈی کا سستا شو چل رہا ہو۔ جس نے بھی مودی کو یہ مزاحیہ تقریر لکھ کر دی تھی، شاید اسے پتہ نہیں تھا کہ سندور میں پارہ ہوتا ہے اور اسے کھانے والے کو خون کی الٹیاں ہوتی ہیں۔ مودی جو سدا کا جاہل ہے، اس نے بھی بغیر سوچے سمجھے اپنی تقریر میں یہ ڈائیلاگ بول دیا کہ ’’میری نسوں میں خون کے بجائے گرم سندور بہہ رہا ہے‘‘۔آپریشن سندور نے مودی کے کپڑے اتار دئیے۔ اس سے ملک کو سوائے نقصان کے کچھ نہیں ملا۔

راہول گاندھی نے بھی اس پر سوال اٹھایاکہ کیمرے کے سامنے آپ کے خون میں سندور کھولتا ہے، لیکن جب ٹرمپ کو لے کر سوال کیا جائے تو یہ خون ٹھندا ہوجاتا ہے‘‘۔

Back to top button