شام کی حالیہ صورت حال میں کتنا جانی نقصان ہوا؟

جنگوں کی صورت حال پر نظر رکھنےوالے وار مانیٹرنگ ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق 11 روز قبل شام میں حزب مخالف کے باغیوں نے بشار الاسد حکومت کےخلاف ایک بڑے آپریشن کا آغاز کیا جس کا اختتام بالآخر شامی دارالحکومت دمشق کا کنٹرول حاصل کرنےپر ہوا۔
برطانیہ کی شام میں انسانی حقوق سے متعلق آبزرویٹری کےمطابق اپوزیشن کی جانب سے 27 نومبر کو آپریشن کےبعد سے اب تک 27 ہزار 910 افراد اس نئی جنگ میں اپنی جانیں گنواچکے ہیں۔
حالیہ جنگ میں مارے جانے والوں میں 138 سویلینز، 380 شامی فوجی اور اس کے اتحادی جنگجو جب کہ 392 مخالف باغی گروہ کے جنگجو شامل ہیں۔
خیال رہےکہ شام میں اسد خاندان کا پچاس سال سےزائد کا دور اقتدار ختم ہو گیا ہے، دمشق پر باغیوں کا قبضہ کر کے سرکاری ٹی وی، ریڈیو اور وزارت دفاع کی عمارتوں کا کنٹرول سنبھال لیا۔
صدر بشار الاسد کی 24 سالہ حکومت ایک ہفتےمیں گرگئی، بشار الاسد کی موت اور گمشدگی کی خبروں کےبعد روسی ذرائع نے بشار الاسد کے ماسکو پہنچنےکا دعویٰ کیا۔
روسی ذرائع کے مطابق روس نے معزول صدر کو اہل خانہ سمیت سیاسی پناہ دےدی ہے۔
شام میں اسد خاندان کی پانچ دہائیوں پر محیط حکمرانی کا خاتمہ کیسے ہوا؟
دوسری جانب شام میں سرکاری فوج کے علاقہ چھوڑنے پر لوگوں کا سڑکوں پر جشن جب کہ صدارتی محل میں لوٹ مار بھی کی گئی جس کےبعد باغیوں نے دمشق میں کرفیو لگا دیا۔
ادھر شام میں ہونےوالی غیر یقینی صورت حال کا فائدہ اٹھاتےہوئے اسرائیلی فوج شام میں داخل ہوگئی اور گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کر تےہوئے بفرزون میں بھی اسرائیلی فوج تعینات کر دی۔اسرائیل کی جانب سے شام کےمختلف مقامات پر بمباری بھی کی گئی۔
